ڈاکٹر خالد مسعود کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ان کا شمار اسلامی قانون پر دسترس رکھنے والی چند شخصیات میں ہوتا ہے۔ اپنے علمی اور تحقیقی سفر میں انھوں نے مشرقی اور مغربی فکریات کا وسعت و دقتِ نظر سے مطالعہ کیا ہے۔ جس سے ان کے ہاں فکری توازن کی ایک ایسی صورت پیدا ہوئی ہے جو مسئلے کو سلجھانے اور اسے درست علمی تناظر میں پیش کرنے پر قادر ہے۔ شاہ ولی اللہ (۱۷۰۳۔ ۱۷۶۲) مغلیہ سلطنت کی ناکامی کے عینی شاہد تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اورنگ زیب عالمگیرسے لے کر شاہ عالم ثانی تک گیارہ مغل بادشاہوں کا زمانہ دیکھا۔ انہوں نے سلطنت مغلیہ کے سیاسی، معاشی اور تعلیمی نظام کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے خاتمے سے ایک صدی پہلے اس کی خرابیوں کی نشاندہی کی تھی۔ زیر نظر مضمون میں جہاں مغلیہ سلطنت کی ناکامی کے اسباب کا پتا چلتا ہے وہاں وہ اصول بھی ملتے ہیں جن پر عمل کیا جاتا، تو اس نظام کی کمزوریاں دور ہو سکتی تھیں۔ (مدیر)
اکثر مورخین مغلیہ سلطنت کے زوال کے اسباب میں خاندانی بادشاہت، امرا ء اور ملازمین سلطنت میں توسیع اور معیشت کے نظم و نسق کی خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ خاندانی بادشاہت کےمغل طرز حکومت نے جانشینی کو سب سے بڑا مسئلہ بنا دیا تھا۔ جا نشینی یا انتقال اقتدار کا کوئی قانون یا ضابطہ نہ ہونے کی وجہ سے سازشوں، بغاوتوں اور تخت نشینی کی جنگوں کا سلسلہ جاری رہتا۔ اس خانہ جنگی کی وجہ سےشاہی خاندان سیاسی نظام کی توجہ کا مرکز رہتا۔ اور دوسرے امور پر سلطنت کی گرفت کمزور رہتی۔ بادشاہ کی مطلق العنان حیثیت کی وجہ سے کوئی شورائی ادارے قائم نہ ہوسکے اور اگر کوشش بھی ہوئی تو پنپ نہ سکے۔ اکثر بادشاہوں کی ذاتی کمزوریوں، شہزادوں کی عیش پسندیوں اور محلاتی سازشوں نےبتدریج امرائے سلطنت کو طاقتور بنادیا جو ان مسلسل جنگوں کی ضرورت تھے۔ طبقاتی اور منصبداری نظام کی وجہ سے فوج ادارہ نہ بن سکی۔
امراء کی بڑی تعداد مسلسل ہمسایہ ملکوں سے آتی تھی اس لیے امراء مختلف گروہوں میں تقسیم رہتے تھے۔ ان میں ایک بڑی تقسیم ایرانی اور تورانی تھی۔ تورانی وسطی ایشیا کے ترک علاقوں کے لوگ تھے۔ برصغیر کے امراء کا طاقتور طبقہ راجپوت امرا ءکا تھا۔ باہر سے آنے والے امراءاپنے سیاسی، مذہبی اور معاشرتی تعصبات ساتھ لاتے اور انہی تعصبات کی بنیاد پر شاعروں، ادیبوں اور علما ءکی سرپرستی کرتے اور باہر سے بھی بلاتے۔ تازہ واردان خود کو ممتاز رکھنے کے لیے مقامی اور اپنے سے پہلے آئے ہوؤں کو ثقافتی طور پر کمتر سمجھتے۔ اس طرح تعصبات کا سلسلہ جاری رہتا۔ ایرانی اور تورانی تقسیم نے سولہویں صدی کے بعد سے شیعہ سنی تفریق کو اور گہرا کردیا۔ اورنگ زیب عالمگیر کے بیٹے بہادر شاہ نے شیعہ مذہب اختیار کیا تو مسلم معاشرہ دو متحارب گروہوں میں تقسیم ہوگیا۔ سلطنت کا انحصار امرا ءپر بڑھتا گیا۔ امرا ءاور ملازمین کی تعداد میں اضافے سے اخراجات بڑھنے، کاروبار سلطنت کے پھیلاؤ کی وجہ سے سلطنت خود ایک بوجھ بنتی گئی۔ جتنے وسائل تھے وہ سلطنت کے نظم و نسق پر خرچ ہو جاتے۔ عوام کی فلاح و بہبودکے لیے خزانہ خالی ہوتا۔
شاہ ولی اللہ (۱۷۰۳۔ ۱۷۶۲) مغلیہ سلطنت کی ناکامی کے عینی شاہد تھے۔ انھوں نے اپنی زندگی میں اورنگ زیب عالمگیرسے لے کر شاہ عالم ثانی تک گیارہ مغل بادشاہوں کا زمانہ دیکھا جن میں سے بعض کی بادشاہت ایک دن سے زیادہ نہیں رہی۔ انہوں نےسلطنت مغلیہ کے سیاسی، معاشی اور تعلیمی نظام کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے خاتمے سے ایک صدی پہلے اس کی خرابیوں کی نشاندہی کی تھی۔ ان کے تجزیے سے جہاں مغلیہ سلطنت کی ناکامی کے اسباب کا پتا چلتا ہے وہاں وہ اصول بھی ملتے ہیں جن پر عمل کیا جاتا،تو اس نظام کی کمزوریاں دور ہو سکتی تھیں۔
شاہ صاحب کی نظر میں مغلیہ سلطنت کی بنیادی کمزوری معیشت اور اس کی خرابی کا سب سے بڑا سبب جاگیر داری نظام تھا جسے اقطاعی کہا جاتا تھا۔ بر صغیر کی معیشت کی بنیاد زراعت پر تھی۔ سلطنت مغلیہ کی ابتدا میں ریاست خدمات کے معاوضے میں زمین (قطعہ اراضی) بطور جاگیر (اقطاع) دیتی تھی۔ جاگیردار زمین کی پیداوار سے حاصل آمدنی سے اپنا خرچ نکال کر باقی رقوم شاہی خزانے میں جمع کرانے کا پابند تھا۔ شیر شاہ سوری نے اس خرابی کو دور کرنے کے لیے زمین کی پیمائش، پیداوار کا تخمینہ لگا کر ٹیکس کے تعین کو رواج دیا۔ اس طرح جاگیردار کو اپنےپُرتعیش اخراجات دکھانے کا موقع ختم ہوگیا۔ تاہم جاگیر داروں نے پیداوار کم دکھا کے حکومت کو کم ٹیکس ادا کرنے کا راستہ نکال لیا۔ اکبر، شاہ جہاں اور اورنگ زیب عالمگیر نے جاگیرداری نظام کو منصب داری میں تبدیل کرکے اصلاحات کی کوشش کی لیکن اس وقت تک منصب داری موروثی ادارہ بن چکا تھا۔ آخری دور میں زمیندارانہ نظام متعارف کرایا گیا۔ زمیندار، جاگیر دار اور منصب داروں کے علاوہ عہدہ تھا۔ سادہ لفظوں میں یہ ٹیکس وصول کرنے کا ٹھیکہ تھا۔ جس میں زمیندار طے شدہ لگان وصول کرنے کا ذمہ دار تھا۔ وصولی آمدنی میں جو بچتا وہ اس کی خدمت کا معاوضہ سمجھا جاتا۔ اس نظام نے رشوت اور ظلم کو بڑھاوا دیا۔
شاہ ولی اللہ نے اپنی تمام کتابوں میں معاشی نظام کی خرابیوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ شاہ صاحب کی تصنیفات کا زمانہ۱۷۳۳۔ ۱۷۴۸ کا ہے۔ تفہیمات الہٰیہغالباً ۱۷۳۳ میں اورحجة اللہ البالغہ شاید۱۷۴۴ میں مکمل ہوئی۔ اس وقت تک مغل سلطنت تخت نشینی کی مسلسل جنگوں کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکی تھی۔ اب آئے روز بغاوتوں کا سامنا تھا۔ جاٹ اور مرہٹے مسلسل مرکز سے بر سر پیکار تھے۔
شاہ صاحب نے ان حالات میں سلطنت کی ناکامی کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا کہ مغلیہ سلطنت غیرضروری طور پر بہت زیادہ پھیل گئی ہے۔ امرا ءاور ملازمین کی کثیر تعداد کاروبار سلطنت میں رکاوٹ بن گئی تھی۔ اقتصاد کا سارا بوجھ بیت المال پر ہونے کی وجہ سے تنخواہوں کے علاوہ تجارت، صنعت اور دیگر اداروں کا انحصار بھی سرکاری خزانے پر تھا۔ شاہی شان و شوکت، دربار، فوج اور ظاہری طمطراق پر بے انتہا خرچ ہوتا۔ ٹیکسوں میں اضافہ ہوتا رہتا۔ امرا ءاور موروثی جاگیرداروں سے وصولی مشکل تھی، لیکن ٹیکسوں کی وصولی کے لیے جو نظام اپنایا گیا، اس سے وصولی میں سختی کاشتکاروں اور بیوپاریوں پر ظلم کی شکل اختیار کرتی گئی۔ کاشتکار زمینیں اور بیوپاری کاروبار چھوڑ کر بھا گنے لگے۔ اس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی آئی۔
شاہ ولی اللہ نے تفہیمات الٰہیہ میں لکھاکہ ظلم اور فساد کو ختم کیے بغیر کوئی نظام حکومت کامیاب نہیں ہو سکتا۔ فتوحات اور جنگیں ہی نہیں خانہ جنگیاں بھی سیاسی اور معاشی طور پر ریاست کو کمزور اور بالآخر ناکام بنا دیتی ہیں۔ ہمارے اس یقین کی تائید شاہ ولی اللہ کے ان مکتوبات میں بھی ملتی ہےجو انہوں نے اپنے وقت کے امراء کو لکھے۔ شاہ صاحب نےتفہیمات میں سلطنت کے مختلف طبقات سے خطابات میں ان اسباب کی طرف توجہ دلائی۔ ان میں سے ہم صرف چند کا ذکر کریں گے۔
اپنے عہد کے امراء، عسکری قائدین، صوبوں کے والیوں اور کوتوالوں کو جھنجوڑتے ہوئے لکھتے ہیں:
اے امیرو! کیا تمہیں خدا کا خوف نہیں آتا۔ تم دنیا کی فانی لذتوں میں اتنے ڈوبے ہوئے ہو کہ تمہیں عوام کا کوئی خیال نہیں آ رہا۔ تم جسے کمزور پاتے ہو اسے نگل جاتے ہو اور جسے طاقتور دیکھتے ہو، اس کو چھوڑ دیتے ہو۔ تمہاری ذہنی قوتیں لذیز کھانوں، نرم و گداز جسم والی عورتوں، نفیس کپڑوں اور اونچے مکانوں کے حصول میں صرف ہوتی ہیں۔ (تفہیمات الہیہ، ص ۲۱۶)
ایک اور خط میں ٹیکس کی وصولی کے ذمہ دار حکا م کو یاد دلاتے ہیں کہ:
یہ ٹیکس کی وصولی کا نظام ہی ملک کی بربادی اور عوام کی بدحالی کا بہت بڑا سبب ہے۔ جو لوگ حکومت کی بات مانتے ہیں اور فرمانبرداری دکھاتے ہیں وہ تو تباہ حال ہو رہے ہیں اور جو سرکش اور نادہندگان ہیں ان کے حوصلے اور بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ (تفہیمات الہیہ، ص ۲۱۶)
نام نہاد واعظوں اور مجاوروں سے اپنے دل کی بات کہتے ہوئے لکھتے ہیں:
اے پیشہ ور واعظو! خود ساختہ زاہدو! خانقاہوں کو دکانیں بنانے والو! تم سیدھی راہ چھوڑ کر ادھر ادھر غلط راستوں پر بھٹک رہے ہو۔ ہر رطب و یابس کو لے کر لوگوں کو من گھڑت اور جھوٹی باتوں کی طرف بلا رہے ہو۔ کیا رسول خدا حضرت محمد ﷺ کا یہی طریقہ تھا؟ کیا آپ کے صحابہ اور سچے ساتھی یہی کہا کرتے تھے؟ (تفہیمات الہیہ ص ۲۱۵)
ایک اور خطاب میں تنبیہ کرتے ہیں:
اے مشائخ زادو! تم نے اپنے بزرگوں کے پاکیزہ طریقوں کو رسم بنا لیا ہے۔ تم نے راستے کو گم کر دیا ہے اور سمجھتے ہو کہ رہبر ہو۔ تم لوگوں سے اس لیے بیعت لیتے ہو کہ خود محنت کیے بغیر ان سے دولت وصول کرو۔ تم لوگ ڈاکو، دجال اور فتنہ پرور ہو۔ ( تفہیمات الہیہ، ص ۲۱۴)
درباری شعرا کو خطاب کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
لوگو! تمہارے اخلاق گر چکے ہیں۔ تمہیں چاہیے کہ ضروریات زندگی کے لیے خود کماؤ اور لوگوں پر بوجھ نہ بنو۔ بلاشبہ اللہ کی مرضی یہ ہے کہ تم اپنے ہاتھ سے کماؤ۔ ( تفہیمات الہیہ، ص۲۱۴)
اپنے عہد میں فتنہ و فساد کی روک تھام کے لیے بادشاہ کو ہدایت کی کہ
- [باغیوں کے خلاف]تلوار سونت لو اور اس وقت تک نیام میں نہ ڈالو جب تک فتنہ ختم نہ ہوجائے۔
- فتنہ اور بغاوت ختم ہو جائے تو علاقے میں ایک امیر مقرر کردو
- جو عادل ہو
- جسے ہر طرح سے مکمل اختیار حاصل ہو
- اختیار سے ذاتی فائدہ نہ اٹھائے
- بادشاہ وقت سے بغاوت نہ کرے
- جو تین یا چار روز میں اپنی مندرجہ ذیل ذمہ داریاں پوری کرسکے
- اس طرح امن قائم کرے کہ آئندہ بغاوت نہ ہو
- ہر مظلوم کو ظالم سے اس کا حق دلوائے
- ظالموں، بدعنوانوں کو سزائیں دے
- بڑے علاقوں میں امیر کو جنگ کامکمل اختیار ہو۔ جس کے پاس ہزاروں مجاہد ہوں جو اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرتے ہوں۔ ہر باغی اور سر کش سے جنگ کریں۔
- شہروں میں امن قائم ہو جائے تو مختلف شہروں میں ایسےعادل اور با اختیار امیر مقرر کرو
- جو اپنے اختیار سے ذاتی منفعت حاصل نہ کریں، اور نظام کی حکم عدولی نہ کریں
- جو شہر میں نظم و نسق قائم کریں
- شہر کی اصلاح کریں، امن کو مستحکم کریں
- عقود اور معاہدوں کی پاسداری کا نظام قائم کریں
- شرعی حدود کا نظام قائم کریں، گناہ کبیرہ کے ارتکاب کو روکیں
- اسلام کے شعائر اور فرائض کی حفاظت کو یقینی بنائیں
- قانون کی حکمرانی قائم کریں تاکہ لوگ ہر طرح سے امن و سکون سے رہ سکیں
بظاہریہ وہ نصیحتیں ہیں جواصول سیاست کی ہر کتاب میں ملتی ہیں۔ تاہم دو نکات قابل غور ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس لائحہ عمل میں اختیار شہر کی سطح تک منتقل کرنے کی ہدایت کی جارہی ہے۔ یہ تبھی ہے کہ سلطنت کے ہر امیر کا دائرہ اختیار متعین ہو جس میں اس کو مکمل اختیار ہو۔ دوسرے ان اصولوں کو لائحہ عمل کے طور پر بیان کرنے سے یہ یقین ہوتا ہے کہ ان بنیادی اصولوں پر عمل نہیں ہورہا تھا۔
پاکستان میں ریاست کی نوعیت اور طرز حکومت پر تو بحث ہوتی رہی ہے، نظام پارلیمانی ہو یا صدار تی، طرز جمہوری ہو یا سلطانی، لیکن ریاست کی بنیادی ذمہ داریاں جن پر کوئی اختلاف نہیں تھا،توجہ کا مرکز نہیں رہیں۔ ان معاملات پر تنقید کی حساسیت کی وجہ سے اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہی خرابیا ں پورے نظام کو گھن بن کر کھا جاتی ہیں۔ یہ دیمک لگا نظام بظاہر مستحکم نظر آتا ہے۔ پتا اس وقت لگتا ہے جب ریاست کی عمارت زمین بوس ہو نے لگتی ہے۔ شاہ ولی اللہ کی نظر میں سلطنت مغلیہ کی ناکامی کی بڑی وجہ اس کی یہی اندرونی کمزوریا ں تھیں جن کی طرف وہ آج کے بلاگرز کی طرح بڑی درد مندی سے توجہ دلاتے رہے۔
مآخذ و مصادر
شاہ ولی اللہ، التفہیمات الالہیہ، بجنور: مدینہ برقی پریس،۱۹۳۶)، حجة اللہ البالغہ، کوئٹہ: المکتبہ السلفیہ (طبع جدید بولاق، مصر ۱۲۹۶ھ
ایم ایس۔ ناز، "شاہ ولی اللہ”، محمد خالد مسعود (مرتب)، اٹھارھویں صدی عیسوی میں بر صغیر میں اسلامی فکر کے رہنما، اسلام آباد: ادارہ تحقیقات اسلامی،۲۰۰۸، صفحات ۱۷۱۔ ۲۰۴
محمد خالد مسعود (مرتب)، مقدمہ،اٹھارھویں صدی عیسوی میں بر صغیر میں اسلامی فکر کے رہنما، اسلام آباد،ادارہ تحقیقات اسلامی،۲۰۰۸، صفحات ۱۳،۸۴
ایم۔ اکرام چغتائی، (مرتب) شاہ ولی اللہ کے دینی اور سیاسی افکار (انگریزی)۔ لاہور: سنگ میل پبلیکیشنز،۲۰۰۵

