یہ تحریر پاکستان کے اس گہرے تضاد کو موضوع بناتی ہے جس میں ایک طرف زمین کے نیچے بے پناہ معدنی دولت موجود ہے اور دوسری طرف زمین کے اوپر سب سے قیمتی اثاثہ یعنی انسانی ذہانت اور مہارت خاموشی سے ملک چھوڑتی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد خالد مسعود ہجرت، برین ڈرین اور معدنی وسائل کو محض معاشی یا تکنیکی مسائل کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری، تہذیبی اور تاریخی سوال کے طور پر پیش کرتے ہیں، جہاں قدرتی خزانے، انسانی وسائل، ریاستی اعتماد اور قومی ترجیحات ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔ یہ مضمون اعداد و شمار،…
Author: ڈاکٹر خالد مسعود
قومی شناخت کی تشکیل نَو کا مسئلہ تشکیلِ پاکستان کے وقت سے لے کر اب تک مسلسل زیرِبحث ہے اور اس کی تازہ جہات سامنے آتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے اس مسئلے کو اقبال کی تین نظموں "مسجدِ قرطبہ”، شکوہ” اور "جوابِ شکوہ” کے تناظر میں اور دورِ حاضر کے زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے سمجھنے کی سعی کی ہے۔ مطالعے کا یہ زاویہ بیک وقت سیاسی، سماجی، تہذیبی اور ادبی جہات کا حامل ہے سو اس میں فکرانگیزی اور دلچسپی کے زاویے گوناگوں ہیں۔ قارئینِ "تجزیات” سے یہ تحریر خاص توجہ چاہتی ہے۔ (مدیر)
بھاگم دوڑ ائر پورٹ پہنچے۔ دھڑکا لگا تھا کہ دیر ہو گئی ہے۔ سارے مرحلے پورے کرکے لاؤنج میں پہنچ کر خدا کا شکر ادا کیا کہ وقت پر پہنچ گئے۔ ادھرادھر نظر دوڑائی تودیکھا کہ ایک صاحب بیٹھے خود بخود مسکرا رہے تھے۔ جیسے ہنسی دبائے نہ دب رہی ہو۔ سوچا خوش طبع ہنس مکھ لگتے ہیں۔ ملتے ہیں۔ بات: "آداب۔ بہت خوش نظر آرہے ہیں” انہوں نے ہمیں نظر اٹھا کر دیکھا۔ پہلے تو زور سے ہنسے اور پھر ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے لگے۔ لاحول ولا قوۃ۔ ہمارا اندازہ غلط نکلا۔ ان صاحب سے کیا بات چیت…
معاصر دنیا میں یوں تو مذہبی آزادیوں کے تحفظ کے لیے قوانین و ضوابط کا ایک وسیع ڈھانچا متعارف کرایا گیا ہے جس کو تقریباً سب ممالک تسلیم بھی کرتے ہیں۔ اس کے باوجود عملاً صورت حال ایسی ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف وقت کے ساتھ منفی جذبات میں اضافہ ہورہا ہے، بالخصوص بعض جنوب ایشیائی ممالک میں یہ مسئلہ سنگین ہے۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے اس مضمون میں معاشروں کے اندر دینی وابستگی کی علمی و فکری بنیادوں پر گفتگو کی ہے کہ مسائل کے اصل منابع کیا ہیں۔ ڈاکٹر خالد مسعود سابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل اور…
آج کل پاکستان کی سیاسی جماعتوں میں ’احمقوں کی جنت‘ کا بہت چرچا ہے۔ لیکن کوئی کھل کر یہ نہیں بتاتا کہ یہ احمق کون ہیں اور یہ جنت کہاں ہے۔ اتنا اندازہ تو ہو گیا ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کو احمق اور احمقوں کی جنت کے رہائشی بتلاتے ہے۔ الیکشن سر پر ہیں۔ ووٹر مخمصے میں ہے کہ کسے ووٹ دے کر ووٹ کو عزت دے۔ اس سے بڑی ذہنی اور دینی تکلیف یہ ہے کہ یہ یقین نہیں آتا کہ قیامت سے پہلے ہی جنت دوزخ کا بٹوارہ کیسے ہوگیا۔ اتنی بھی کیا غفلت کہ پتہ…
سائنسی اکتشافات نے جہاں انسانی کو خارجی طور پر متاثر کیا ہے وہاں ایسے سوالات کو بھی جنم دیا ہے جو انسان کے سماجی، نفسیاتی اور روحانی علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض اوقات جیسے ہی کوئی نئی سائنسی ایجاد یا دریافت سامنے آتی ہے، بہت کچھ ایسا جو طے شدہ سمجھا جاتا ہے، معرضِ سوال میں آ جاتا ہے۔ جینیات کی ترقی اور انسان کی اس پر بڑھتی ہوئی دسترس نے بھی علمائے فقہ کے سامنے بعض ایسے سوال کھڑے کر دیے ہیں جن کا جواب تحقیق و جستجو کا متقاضی ہے۔ ایسے ہی چند نکات پر ڈاکٹر خالد مسعود نے متوازن انداز میں بحث کی ہے اور مسائل کے علمی حل کی جستجو کی ہے۔ قارئین "تجزیات” کے لیے یہ مقالہ علمی ضیافت کے طور پر پیش ہے۔ (مدیر)
امام ابنِ تیمیہ عالم اسلام کی فکری روایت کی ایک نمایاں تر شخصیت ہیں جن کے افکار اور طرزِ استدلال نے انفرادیت کا نقش قائم کیا۔ اصول فقہ میں انھوں نے یونانی منطق اور فلسفے کے اثرات پر نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے متعدد فقہی اختلافات کا باعث قرار دیا۔ ڈاکٹر خالد مسعود نے امام ابن تیمیہ کے طرزِ فکر کا جائزہ پیش کرتے ہوئے متعدد سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی سعی کی ہے۔ ڈاکٹر خالد مسعود کا شمار اسلامی قانون پر دسترس رکھنے والی چند نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے۔ اپنے علمی اور تحقیقی سفر میں انھوں نے مشرقی اور مغربی فکریات کا وسعت و دقتِ نظر سے مطالعہ کیا ہے۔ جس سے ان کے ہاں فکری توازن کی ایک ایسی صورت پیدا ہوئی ہے جو مسئلے کو سلجھانے اور اسے درست علمی تناظر میں پیش کرنے پر قادر ہے۔ قارئین "تجزیات” کے لیے یہ مقالہ یقیناً علمی استفادے کا باعث ہو گا۔ (مدیر)
کبھی اے نوجوان مسلم تدبر بھی کیا تو نے کہ کھنگورا کیا چیز ہے؟ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تو نے کبھی کھنگورا کا ذکر نہ سنا ہو۔لیکن کبھی تو نے سوچا کہ بزرگ روایتی اقدار کی ہر لمحہ حفاظت کیسے کرتے تھے؟ نوجوانوں سے کیا شکوہ اب تو ہم سبھی اس وقت کو بھولتے جارہے ہیں جب بزرگ گھر میں داخل ہوتے تو ایک کھنگورے سے گھر کی کایا پلٹ جاتی۔ بچے با ادب ہو جاتے۔ عورتیں دوپٹے اوڑھ لیتیں۔ گھر میں خاموشی چھا جاتی۔ روایت سے رو گردانی کی درستی کے لئے بزرگوں کا ایک کھنگورا کافی…
اکیسویں صدی کی پہلی دو دہائیوں میں ہی تحقیق کے موضوعات کے تیور بتا رہے ہیں کہ یہ صدی ماضی کو دہرانے کی بجائے اس کے مثبت تحلیلی جائزے کی صدی ہے۔ اب ماضی کا مطالعہ نہ تو گذ رے دنوں کی یادوں میں زندہ رہنے کی خواہش کا نام ہے اور نہ رجعت پسندی کی عافیت میں پناہ کی تلاش کا سفر ہے۔ یہ صدی اس رویے کی بھی اجازت نہیں دیتی کہ ہم ترقی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کے شوق میں اپنوں کو پیچھے چھوڑ جائیں۔ ماضی قریب کی دوڑ دھوپ کی بہت سی قومی…
ڈاکٹر خالد مسعود کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے ان کا شمار اسلامی قانون پر دسترس رکھنے والی چند شخصیات میں ہوتا ہے۔ اپنے علمی اور تحقیقی سفر میں انھوں نے مشرقی اور مغربی فکریات کا وسعت و دقتِ نظر سے مطالعہ کیا ہے۔ جس سے ان کے ہاں فکری توازن کی ایک ایسی صورت پیدا ہوئی ہے جو مسئلے کو سلجھانے اور اسے درست علمی تناظر میں پیش کرنے پر قادر ہے۔ شاہ ولی اللہ (۱۷۰۳۔ ۱۷۶۲) مغلیہ سلطنت کی ناکامی کے عینی شاہد تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی میں اورنگ زیب عالمگیرسے لے کر شاہ عالم…
