Author: زبیر توروالی

پاکستان میں کروڑوں لوگوں کو لگتا تھا اور ایک اکثریت کو اب بھی لگتا ہے کہ عمران خان اس ملک کا نظام درست کرسکتا ہے تو انہوں نے ڈٹ کر ان کا ساتھ دیا اور ووٹ دے کر ان کو وزیراعظم بھی بنایا۔ وہ تین سالوں میں شاید وہ کچھ نہ کرسکے جس کی ان سے امید تھی۔ ان کو بیچ سفر اقتدار کی اس گاڑی سے اتار کر گاڑی اوروں کے حوالے کردی گئی مگر وہ گاڑی بری طرح پھنس گئی۔ اسی وجہ سے اب بھی عمران خان سے کروڑوں لوگوں کی امید وابستہ ہے۔ مولانا مودودی مرحوم نے…

Read More

توروالی زبان گندھارا خطے کی قدیم زبانوں میں سے ہے۔ یہ ہند آریائی زبان کی ذیلی شاخ داردی زبانوں سے تعلق رکھتی ہے۔ داردی گروہ کی دیگر زبانوں میں شینا، کھوار، کشمیری، مایو، کلاشہ، گاؤری، دمیلی، گوارباتی، بٹیڑی وغیرہ زبانیں شامل ہیں۔ کسی زمانے میں توروالی زبان بولنے والے پورے سوات اور بونیر سے نیچے علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے لیکن مرور زمانہ کے ساتھ یہ لوگ اپنے علاقوں سے بے دخل ہوتے گئے، ان کی زبان و ثقافت اور شناخت بھی مٹتی گئی اور آخر کار کچھ لوگ ضلع سوات کے بالائی علاقے بحرین اور چیل کی وادیوں میں…

Read More

علامّہ محمد اقبال کو پاکستان کے دونوں طبقات مذہبی اور لبرل کے نمائندے ان کے دس پندرہ اشعار یاد کرکے ان کی بنیاد پر کٹر ملّا قرار دیتے ہیں۔ جہاں مذہبی طبقہ اس سرکاری اقبال کو ان چند اشعار کے اپنے سیاق و سباق میں رکھ کر تشریح کرکے کٹر مذہبی قرار دیتا ہے تو دوسری طرف لبرل اور لفٹسٹ طبقہ ان کو انہی اشعار کی بنیاد پر ایک کٹر ملّا قرار دے یکسر مسترد کردیتا ہے۔ مثلاً ان لوگوں کے ہاں اقبال کے خودی کا تصّور بس اس شعر کے ذریعے واضح ہوجاتا ہے: ؀ خودی کو کر بلند…

Read More

مصوری اور مجسمہ سازی کی طرح موسیقی اور رقص بھی فن ہیں کیونکہ ان کا تعلق بھی انسانی جذبات اور جمالیات سے ہے لیکن مجسمہ سازی یا مصّوری کے برعکس موسیقی اور رقص تین جہتوں میں کسی بولی کی طرح ہوتے ہیں۔ کسی جملے کی طرح موسیقی اور رقص کی بھی ایک ابتدا، درمیان اور انتہا ہوتی ہے۔ ایسا مصّوری کے ساتھ نہیں ہوتا کہ اسکی نہ کوئی ابتدا ہوتی ہے اور نہ انتہا۔ یہ زماں کے قید سے آزاد ہوتی ہے۔ ایک بار ہوگئی تو تا ابد رہ سکتی ہے۔ جبکہ موسیقی اور رقص غیر مرئی ہوتے ہیں۔ یہ…

Read More

آئندہ ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کے فارم نمبر 2 میں جنس، عمر، مذہب، ازدواجی زندگی، قومیت اور ‘مادری زبان’ کے بارے میں بنیادی سوالات شامل ہیں۔ اس فارم کے مطابق اس مردم شماری میں 14 زبانوں کو مادری زبان کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ ان زبانوں میں اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، کشمیری، سرائیکی، ہندکو، براہوی، شینا، بلتی، میواتی، کیلاش اور کوہستانی شامل ہیں۔ ‘دیگر’ زبانوں کے لیے ایک علیحدہ خانہ ہے۔ پاکستان میں 60 کے قریب دیگر زبانیں ہیں جنہیں ‘دیگر’  کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ کھوار، گجری، توروالی، گاوڑی، بروشسکی، وخی، گواربتی، پلولہ، دمیلی، اورموڑی،…

Read More

ہمارے لئےبیرون ملک سفر خود ایک عجوبہ ہوتا ہے۔ اب تک جتنے بھی ایسے سفر کیے ہیں ان میں کسی کا بھی دورانیہ چالیس دن سے زیادہ نہیں رہا ہے۔ زیادہ تر سفر ایک یا دو ہفتے کے ہوئے ہیں۔ اب تک یورپ اور ایشیا کے سفر زیادہ کیے ہیں اور افریقا کے صرف ایک ملک کا سفر ہوا ہے۔ شمالی امریکا اب تک نہیں جاسکا کہ 2009ء سے گزشتہ مارچ تک سات مرتبہ ویزہ درخواست مسترد ہوچکی ہے باوجود اس کے کہ وہاں کے جامعات اور بڑے بڑے ارگنائزیشن کی جانب سے مدعو تھا۔ تاہم کہیں پہ لٹ بھی…

Read More

پشتو کے معروف شاعر غنی خان نے کسی مولوی کو مخاطب ہوکر بے ساختہ کہا تھا کہ” یہ جو آپ سجدے میں گرتے ہیں اور میں جام اٹھاتا ہوں اصل میں ہم دونوں فرار چاہتے ہیں“۔ غنی خان کا سوال تو لگتا ہے نہایت فلسفیانہ ہے جہاں انسان کے وجود، عدم وجود اور ہستی اور فنا زیر بحث ہیں تاہم میں یہاں فرار سے مراد ایک عام رویّہ لیتا ہوں جو کام کے جگہوں پر، ہمارے ذہنی اسودگی یا سستی وغیرہ سے متعلق ہے۔ جہاں ہم زندگی میں درپیش کئی مسائل سے فرار چاہتے ہیں وہی پہ ہم اکثر لمحاتی…

Read More

خیبر پختون خواہ کے معیاری جامعہ یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ سائنسز IMSciences کے چند طلباء و طالبات نے مل کر پشاور ادبی میلے کے نام سے ایک دو روزہ ادبی و علمی محفل سجائی ہے۔ پہلے دن کی نشستوں میں ایک نشست کا عنوان یہ سوال تھا ”کیا بڑی زبانیں چھوٹی زبانوں کو کھا رہی ہیں؟“۔ بظاہر یہ سادہ سا سوال تھا تاہم اپنے اندر کئی معانی سموئے ہوئے تھا۔ اس نشست میں میں بھی شریک گفتگو تھا۔ پوری نشست کی گفتگو میں چار شرکاء واضح طور پر دو گرہوں میں بٹ گئے۔ ایک گروہ کا موقف رہا کہ ایسا…

Read More

سوات کے مصروف چوراہے گرین چوک کو 2009 میں طالبان کے ہاتھوں خونریزی اور عام لوگوں کے گلے کاٹنے کی وجہ سے مقامی لوگوں نے ”خونی چوک“ کا نام دیا تھا اور 2022ء کو جب سوات میں طالبان دوبارہ نمودار ہوئے تو ایک دوسرے مصروف ترین چوراہے ”نشاط چوک“ پر لوگوں نے سوات کی تاریخ میں سب سے بڑا احتجاج کرکے اس کو تحریر چوک بنادیا کہ یہی مزاحت سوات کے عوام کی اس دہشت گردی سے آزادی کی ضمانت ہے۔

Read More

تجربہ بتاتا ہے کہ جلد اس سوال کا جواب یوں ہوگا، ”سوات میں کچھ شر پسند عناصراپنے علاقے میںتالبان کی موجودگی کا بہانہ بنا کر ملکی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور دشمن کے ہاتھوں ففتھ جنریشن وارفیئر میں استعمال ہورہے ہیں۔ ان لوگوں میں کچھ سیاسی جماعتیں بھی شامل ہیں“۔ اگست کے اواخر میں مٹہ،سوات کی ایک خوب صورت وادی میں تالبان نکل آتے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق وہ شام ہوتے ہی سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور گاہے بگاہے پولیس تھانوں پر حملے کرتے ہیں۔ پھر ایک ویڈیو سامنے آجاتی ہے جس میں ایک…

Read More