Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»ویژن-2047ءکے لیے ڈائیلاگ
    کالم

    ویژن-2047ءکے لیے ڈائیلاگ

    ظفر اللہ خانBy ظفر اللہ خانمئی 22, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اگلے سال پاکستان اپنے قیام کی گولڈن جوبلی منائے گا۔آزادی موہوم کے اِن پچھتر سالوں پر بہت کچھ لکھا اور بولا جائے گا۔یقیناََ بہت ساری تقریبات ہوں گی۔کامیابیوں کا خوب چرچا ہوگا۔آدھے ادھورے خوابوں کا بھی شمار ہوگا۔ میری نظر میں یہ ایک نادر موقع ہے کہ ہم ایک منفرد قومی ڈائیلاگ کا اہتمام کریں۔مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ اِس ڈائیلاگ کا اہتمام کون کرے گا؟لیکن اس میں کسے شریک ہونا چاہیے میں نے ایک فہرست مرتب کی ہے۔

    اِس وقت پاکستان میں چار سابق صدور،چھ سابق وزرائے اعظم ،چار سابق نگران وزیراعظم،چھ سابق قائدینِ اختلاف (قومی اسمبلی)پانچ سابق چیئرمین سینٹ،آٹھ سپیکر قومی اسمبلی، دس سابق چیف جسٹس آف پاکستان اور پانچ سابق آرمی چیف حیات ہیں۔ان سب کو اکٹھے بٹھانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگاکیونکہ بعض ملک سے باہر ہیں اور ان کی واپسی کی قیمت ہوگی ،اور بعض ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کے بھی روادار نہیں۔تاہم یہ سچ ہے کہ اِن اہم مناصب پر کام کرتے ہوئے اُن کے پاس تجربات کی دانش کا وسیع خزانہ ہےاُنہوں نے اقتدار میں خود دیکھا کہ کیا کیا ہمارے معروضی حالات میں اہم ترین اور مؤثر ہےاور کون کونسی غلطیاں ہیں جن کا دہرانا زہر ہے۔

    ہم نےدنیا کے کئی ممالک میں دیکھا ہے کہ اہم عہدوں پر قوم کے لیے خدمات سرانجام دینے والوں کے تجربات سے بھرپور استفادہ کیا جاتا ہے۔امریکہ کے سابق صدور اہم قومی تقریبات میں شریک ہوتے ہیں۔نیز وہاں ہر صدر کے دور پر تحقیق کے لیے صدارتی لائبربیری بھی بنائی جاتی ہے تاکہ اُن کے کاموں اور خدمات کا مطالعہ کیا جاسکے۔ ہندوستان میں بھی وزرائے اعظم کی لائبریری ہے۔ پاکستان میں ایسی کوئی روایت نہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی روایات بنائی نہیں جاسکتیں۔

    اس احساس سے بھی چھٹکارا ممکن نہیں کہ ہم ایک منقسم سماج ہیں جہاں سیاسی مخالفت اکثر ذاتی اور دائمی دشمنیوں میں ڈھل جاتی ہے۔ چونکہ سیاست ممکنات کا کھیل ہوتی ہےاس لیے اس ڈائیلاگ کا خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں اور شاید یہی راستہ ہو کہ ہم ایک نارمل سوچنے اور مل کر کام کرنے والی قوم بن جائیں۔دوسرا یہ بھی اہم ہے کہ یہ ڈائیلاگ اپنی اپنی خدمات کی گردان اور بعداز ریٹائرمنٹ سچائیوں کے اظہار کا فورم نہ ہو،بلکہ پاکستان کو درپیش مسائل کی جامع فہرست تیار کی جائے اور ہر کوئی اپنا اپنا حل تجوز کرے۔اس ڈائیلاگ میں سامنے آنے والے نکات پر اتفاقِ رائے ہمارے مستقبل کا روڈمیپ ثابت ہوسکتا ہے۔یعنی ویژن-2047ء۔

    مجھے احساس ہے کہ زندگی ایک فانی حقیقت ہے اور ممکنہ مہمانوں کی اس فہرست میں بعض شخصیات ایسی بھی ہیں جو آجکل صاحبِ فراش ہیں،لہذا اُنہیں تحریری تجاویز کے لیے کہا جاسکتا ہے۔آج ویژن-2047ء کے لیے مہمانوں کی فہرست درج ذیل بنتی ہے:

    سابق صدور میں 92 سالہ محمد رفیق تارڑ، 81 سالہ ممنون حسین،78 سالہ پروزیرمشرف اور 66 سالہ آصف علی زرداری شامل ہیں۔سابق وزرائے اعظم میں 75 سالہ چوہدری شجاعت حسین، 72 سالہ شوکت عزیز،69 سالہ سید یوسف رضا گیلانی،71 سالہ راجہ پرویز اشرف،72 سالہ میاں محمد نوازشریف، اور 63 سالہ شاہد خاقان عباسی شامل ہیں۔نگران وزرائے اعظم میں 92 سالہ میر ہزار خان کھوسو،93 سالہ میر بلخ شیر مزاری، 71 سالہ میاں محمد سومرو اور 71 سالہ جسٹس ناصرالملک شامل ہیں۔سینٹ آف پاکستان کے سابق چیئرمینوں میں 80 سالہ وسیم سجاد،71 سالہ میاں محمد سومرو،74 سالہ فاروق نائک،68 سالہ نیر حسین بخاری اور 68 سالہ میاں رضا ربانی شامل ہیں۔جبکہ قومی اسمبلی  کے سابق سپیکرز میں 84 سالہ گوہر ایوب ،79 سالہ سید فخر امام ، 77 سالہ حامد ناصر چٹھہ،95 سالہ الہی بخش سومرو، 69 سالہ سید یوسف رضا گیلانی،79 سالہ چوہدری امیر حسین،65 سالہ ڈاکٹر فہمیدہ مرزااور 67 سالہ سردار ایاز صادق شامل ہیں۔

    سابق قائدین حزبِ اختلاف میں 68 سالہ مولانا فضل الرحمان،69 سالہ سید خورشید شاہ،67 سالہ چوہدری نثار علی خان،76 سالہ چوہدری پرویز الہی، 79 سالہ سید فخر امام  اور 72 سالہ میاں محمد نوازشریف شامل ہیں۔سینٹ آف پاکستان میں قائد حزبِ اختلاف کی فہرست میں اعتزاز احسن، شیری رحمان،راجہ ظفرالحق ، اسحاق ڈار،مولانا عبدالغفور حیدری،کامل علی آغااور میاں رضا ربانی شامل ہیں۔

    سابق چیف جسٹس کی فہرست میں 67 سالہ جسٹس آصف سعید کھوسہ،68 سالہ میاں ثاقب نثار،70 سالہ انور ظہیر جمالی،71 سالہ جواد ایس خواجہ،71 سالہ ناصرالملک،74 سالہ تصدق حسین جیلانی، 75 سالہ افتخار محمد چوہدری اور 84 سالہ جسٹس ارشاد حسن خان شامل ہیں۔یہاں یہ اعتراف بھی لازمی ہے کہ میرے پاس جسٹس ناظم حسین صدیقی اور شیخ ریاض احمد کے بارے میں حتمی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

    مجھے معلوم ہے کہ اس فہرست میں اقتدار کے روایتی ٹرائیکا کے چند ناموں پر کئی لوگوں کو اعتراض ہوگا لیکن پاکستان کے حالات میں سول-ملٹری توازن اہم ہے۔اِس لیے 90 سالہ جنرل اسلم بیگ، 84 سالہ جنرل عبدالوحید کاکڑ،80 سالہ جنرل جہانگیر کرامت،78 سالہ جنرل پرویز مشرف،69 سالہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور65 سالہ جنرل راحیل شریف کو دعوت دی جاسکتی ہے۔علاوہ ازیں ہر شعبہ میں حیات سابقہ سربراہوں مثلاََ چیف الیکشن کمشنر،انٹیلی جنس کے سابق سربراہوں کو بھی دعوت دی جاسکتی ہے۔

    ہم باوجود ڈھیروں مطالبات کے آج تک ’’سچائی اور مفاہمت کا کمیشن‘‘ نہیں بناسکےلیکن قومی ڈائیلاگ کا یہ طریقہ آزمایا جاسکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleڈیجیٹل میڈیا الائنس آف پاکستان نے اپنی عبوری کابینہ کا اعلان کر دیا
    Next Article غیرت آباد کی دل گرفتہ کہانیاں
    ظفر اللہ خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by