آزمائش کے لمحوں میں دوسروں کے کام آنا انسانی جبلت ہے۔ پاکستانیوں کی اس حوالے سے شہرت بے مثال خیرات کرنے والوں کی ہے ۔ کرونا کی وباء آئی تو ہم نے دیکھا کہ سبھی اپنے تیئں کچھ نہ کچھ کرتے نظر آئے ۔ راشن کی تقسیم ایسے مواقع پر خوب ہوتی ہے اور منظم نظام نہ ہونے کے باعث سڑکوں پر پیشہ ور راشن وصول کرنے والوں کی اچھی خاصی تعداد نظر آئی ۔ بعض کو تو اتنا کچھ مل گیا کہ سوشل میڈیا پر ویڈیوز آئیں کہ وہ راشن کے تھیلے دکانوں پر واپس بیچنے کی کوشش کررہے…
Author: ظفر اللہ خان
کرونا عہد میں جب روئے زمین پر انسانی سرگرمیاں محدود ہوئیں تو اکثریت نے سیارہ سائبریا پر ہجرت کرلی۔ اس سیارے وسعت بے پناہ ہے۔ سائبراعداد و شمار پر کام کرنے والے اداروں کے مطابق اس وقت دنیا کی کل آبادی 7اعشاریہ 8 ارب کے لگ بھگ ہے۔ اور اس میں سے 59 فیصد 4 اعشاریہ 5 ارب افراد کو اچھا برا انٹرنیٹ دستیاب ہے۔ جہاں انٹرنیٹ کے حوالے سے عدم مساوات یا غربت ہے وہ ایشیاء ، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ "انٹرنیٹ تک رسائی ” کو بنیادی…
ہم جس طرح رہتے ہیں ،سوچتے ہیں ، کام کرتے ہیں ، سماجی اور معاشی تعلق نبھاتے ہیں ، لکھتے ہیں ، کھیلتے ہیں،حتیٰ کہ جیسے یہ عارضی دنیا چھوڑتے ہیں المختصر دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ بدل گیا ہے ۔ نظر نہ آنےوالے کرونا نے سب کچھ ایسا کردیا ہے کہ اس کے اثرات ہرجانب نظر آرہے ہیں۔ گلوبلائزیشن کی لہر دم توڑ چکی ہے۔ کیا نیا ورلڈ آرڈر آچکا جس میں تمام ریاستوں کو یہ تجربہ ہوا کہ سبھی کچھ کس قدر آسانی سے لاک ڈاؤن کیا جاسکتا ہے ۔ آزادیاں ختم ہوسکتی ہیں ۔ بازار، تعلیمی ادارے…
2020کا عالمی یوم خواتین تو گزر گیا لیکن امسال یہ تحقیق اور تجزیہ کے لئے کئی سوالات چھوڑ گیا ۔ جب بھی پاکستانی خواتین کی صنفی برابری کی جدوجہد کی تاریخ لکھی جائے گی تو 2020 کا حوالہ ایک منفرد ٹرننگ پوائنٹ کا ہوگا۔ کیونکہ اس موقع پر پاکستانی سماج میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے پائی جانے والی کئی فکری فالٹ لائنز کھل کر سامنے آئیں۔ دینی و دنیاوی تناظر سے حقوق کی تقسیم پرکھنے والے طبقات کھل کر ایک دوسرے کے سامنے آگئے۔ وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میں تو بات محدود تصادم تک جا پہنچی۔ ویسے تو…
عوام کی منتخب پارلیمان کو ویسے تو ہر روز قوم کی امنگوں کی ترجمان ، خوابوں اور اور امیدوں کا مرکز و محور ہونا چاہیئے۔ لیکن آج آپ کے ساتھ ایک تصوراتی اجلاس کی کاروائی کے بارے میں شیئر کرتے ہیں۔ خوابیدہ لمحوں میں ہوا کچھ یوں کہ ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس کا ماحول اس وقت یک بیک بدل گیا جب تمام پارلیمانی پارٹیوں کے نمائندوں نے اسپیکر صاحب کے سامنے یہ مطالبہ رکھا کہ قومی اسمبلی کی معمول کی کاروائی روک کر ملک کے ترقیاتی ماڈل پر سیر حاصل بحث کی جائے۔ مشورہ اتنا اچھا، وزنی اور…
بہار اور آئین پاکستان 1973ء میں اکٹھے آئے تھے لیکن پھر قومی افق پر سرزمینِ بے آئین کی خزاں کیوں؟ جواب تلاش کریں تو گرین بک کو گرے بک بنائے رکھنے میں سبھی کا حصہ ہے۔ ناقدین کا اصرار ہے کہ ہمارے ہر آئین میں نو آبادیاتی 1935ء کے انڈین ایکٹ کی بدروح چھپی ہوئی ہے۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ ہم اپنا معروضی آئینی ٹمپلیٹ نہیں بنا سکے۔ نو آبادیاتی نظام کی نسبت ہی یہ تھی کہ مختلف اداروں اور ضابطوں کے ذریعے غلاموں کو مکمل طور پر کنٹرول کیا جائے اور کبھی کبھار حسب…
پاکستان بظاہر ایک ملک ہے لیکن اس میں دراصل کتنے ملک آباد ہیں؟ اس سوال کی تفہیم ہمیں پاکستانی حقیقت اور خواب کو بہتر انداز میں سمجھنے کا راستہ فراہم کرسکتی ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان آبادی کے اعتبار سے دُنیا کا چھٹا بڑا ملک ہے اور بعض اعدادوشمار تو بتاتے ہیں کہ شاید اب ہم پانچواں بڑا ملک بن چکے ہیں۔ 21 ارب روپے سے زائد خرچ کرکے ہم نے سالوں کی تاخیر کے بعد 2017ء میں مردم شماری کرائی لیکن اس کے حتمی نتائج باقاعدہ طور پہ جاری نہیں کیے جاسکے اور وہ سرکاری فائلوں میں ہی…
بھارت کے 71ویں یومِ جمہوریہ پر کانگریس پارٹی نے نریندر مودی کو بھارت کے دستور کی کاپی اِس پیغام کے ساتھ بھیجی ہے کہ ’’جب آپ کو ملک تقسیم کرنے سے فرصت ملے تو اِسے ضرور پڑھیے گا‘‘۔ بظاہر یہ عمل میڈیا کے عہد میں ایک اچھی شہ سرخی ہے۔ دوچار اچھے ٹویٹ بھی ہوئے لیکن یہ دراصل بہت گہرا پیغام ہے کہ آئین ہی ریاست اور شہریوں کے درمیان واحد قابلِ عمل عمرانی معاہدہ ہے۔ اِس سافٹ وئیر میں نفرت کا وائرس آجائے تو سماج میں طاقتوروں کے فسطائی رویے راج کرنے لگتے ہیں۔ یہی آج کے بھارت میں…
قیامِ پاکستان کے مرحلے میں جوگیندرا ناتھ منڈل نئی ریاست کی تکثیریت کے پوسٹربوائے بن کر اُبھرے۔ دستورساز اسمبلی کی عبوری صدارت سے لے کر منڈل ڈے کی سرکاری تقریبات تک نوزائیدہ پاکستان نے مذہبی اقلیتوں کو تحفظ کا مثبت پیغام دیا۔ جوگیندراناتھ منڈل بانی پاکستان قائدِاعظم کا انتخاب تھے۔ بعدازاں یہ ہوا کہ وہ اپنی پاکستانی شہریت ہی چھوڑ گئے۔آج بھی اکثر لوگ ان کا حوالہ دیتے ہیں۔ کیا جوگیندرا ناتھ منڈل کوئی اور راستہ اپنا سکتے تھے؟ زیرِنظر تحریر میں اِس پہلو کا جائزہ لیاگیا ہے۔ مضمون نگار ظفراللہ خان پاکستانی جموریت، پارلیمنٹ اور آئینی اُمور کے ماہر…
گردشِ ایام ہمیں 2020ء میں لے آئی ہے۔ حکومت اِسے ترقی، خوشحالی اور نوکریوں کا سال قرار دے رہی ہے تو اپوزیشن نئے الیکشنوں کی پکار کے ساتھ اسے ’تبدیلی‘ کی ’تبدیلی‘ کا سال بنانا چاہتی ہے۔ تاہم پاکستان کے شہری یہ چاہتے ہیں کہ مسائل اور مشکلات کی دھند چھٹے اور بہتری کی سحر طلوع ہو۔ ایسا تبھی ممکن ہوگا کہ جب حکومت اور اپوزیشن صورتحال کی بڑی اور دُوراندیش تصویر دیکھنے کا ہنر اپنائیں گے۔ 2020ء کرکٹ کی زبان میں ٹی ٹونٹی کی طرح عوام کے مفاد میں تیزترین سکور کرنے کا سال ہونا چاہیے۔ پہلی نوید پاکستان…
