Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»لمبی چپ کے بعد
    کالم

    لمبی چپ کے بعد

    ظفر اللہ خانBy ظفر اللہ خاندسمبر 1, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read6 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مجید امجد کا یہ شعر میں اکثر اپنے آدھے ادھورے خواب بکھر جانے کے بعد گنگناتا ہوں:۔

    میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے

    میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

    تجزیات سے لمبی غیر حاضری ایک طرح سے سچ کے قحط کے زمانے میں  خاموشی کے فیسٹول میں چپ چاپ شرکت تھی۔آج پھر لکھنے کو دل چاہا تو مجید امجد کا شعر پھر بے اختیار یاد آیا اور سوچنے لگا۔لکھوں۔کون پڑھتا ہے،نہ لکھوں تو بھی کیا فرق پڑتا ہے۔ یہاں ایک وضاحت ضروری ہے کہ "میرا فکری سافٹ وئیر” سچ کے قحط کے زمانے میں  تھوڑا سہم سا گیا تھا۔ اس عرصے میں سوچا لکھنے کی بجائے فقط بات کی جائے۔آج تو کمپیوٹر کے ایسے سافٹ وئیر آ چکے ہیں  جو بولے گئے الفاظ کو اچھے برے انداز میں تحریر کر دیتے ہیں۔ ویسے بھی استاد کلاس روم میں  بول کر نالج ٹرانسفر کرتے ہیں۔ میں بچپن سے سوچتا آیا ہوں کہ اسکول لکھنا پڑھنا تو سکھاتے ہیں۔ امتحان بھی تحریری ہوتے ہیں۔اسکول بات کرنا کیوں نہیں سکھاتے،سوال اٹھانے پر معتوب کیوں سمجھا جاتا ہے اور اگر نالج گفتگو سے ٹرانسفر ہوتا ہے تو امتحان زبانی /بول کر کیوں نہیں ہوتے۔ہاں پی ایچ ڈی تھیسس وغیرہ کا  دفاع بول کر ضرور ہوتا ہے۔ تاہم تعلیم کے جنگل میں بہت کم لوگ ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ تک پہنچ پاتے ہیں۔ سنا ہے مذہبی تعلیمی اداروں میں  باقاعدہ مناظرہ،مجادلہ وغیرہ سکھائے جاتے ہیں۔شاید اس لیے ہمیں مذہبی  تقریبات میں شعلہ بیانی نظر آتی ہے۔اس حوالے سے فقط یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہاں مکالمے کی بھی تربیت ہونی چاہیے۔مذہبی تناظر میں یہ بات سچ ہے کہ الہامی کتب کا نزول "وحی” (فرشتے کے لائے ہوئے پیغام) کی صورت ہوا اور بعد ازاں الہامی کتب کی تدوین ہوئی۔اور آج ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم بولتی کتابوں کے کلچر تک بھی پہنچ چکے ہیں۔ تہذیبی اعتبار سے بھی سچ یہی ہے کہ دنا میں آنے والے بچے کی  پہلی چیخ اور آواز سے  لیکر عمدہ تقریروں ،مشاعروں میں پڑھی گئی نظموں،جنگوں میں بجائے گئے نقاروں،قصہ گوئی، ڈرامے ،تھیٹر،گیتوں ،فلموں،ویڈیوز،ایک طویل فہرست ہے جو زبانی اظہار کے توانا انداز ہیں۔ میں تو سینہ گزٹ کو دنیا میں  سب سے زیادہ سر کولیشن والا موثر  اخبار کہتا ہوں۔ اور یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر درو دیوار بات کر سکتے  تو کتنی ایسی باتوں کا تذکرہ ہوتا جو کبھی لکھی نہ جا سکیں۔

    اپنی تحریری خاموشی کی اتنی ساری توجہیات ذہن میں آئیں تو سوچا کیوں نہ اپنا سافٹ وئیر خود بخود ہی اپ ڈیٹ کر لیا جائے۔اسی عمل میں احساس ہوا کہ بات تو منتشر خیالات ہوتی ہے۔انہی تک پہنچتی ہے اور وہی سنتے ہیں جو سامنے ہوتے ہیں اور پھر بھول جانا بھی انسانی جبلت ہے اور بات پر کان نہ دھرنا  بھی انسانی رویہ ہے۔یہی سوچ کر دوبارہ قلم اٹھانا اور یہ کالم لکھ ڈالا۔ارادہ ہے کہ سوچ،قلم اور کاغذ کا رشتہ اب نہ ٹوٹے،بھلے یہ کالم سائبر دنیا کے سمندر میں  ایک نئی پوسٹ آ جانے کے بعد کہیں کھو جائے گا۔امید ہے اس وقت تک نیا کالم لکھ پاؤں گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمحلے میں پاپڑ بیچنے والا سبّی کا نوجوان کانٹیننٹل ہوٹل میں اپنے پراڈکٹس کی نمائش کرنے میں کیسے کامیاب ہوا؟
    Next Article صدیق عالم کا ناول "صالحہ صالحہ”: اسرار کی دھند میں لپٹی ہوئی کہانی
    ظفر اللہ خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by