Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»پاکستان میں آرکائیوز کا کلچر
    کالم

    پاکستان میں آرکائیوز کا کلچر

    ظفر اللہ خانBy ظفر اللہ خانفروری 15, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ہم تاریخی ریکارڈ محفوظ کرنے والی سوسائٹی نہیں ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہماری اجتماعی یادداشت ضعف کا شکار ہے۔ تاریخی واقعات کی حقیقی دستاویزات کی عدم یا پھر ادھوری دستیابی کے باعث من گھڑت افسانے اب سچ لگتے ہیں۔ پاکستان میں ادارہ جاتی تاریخ لکھنے کا رجحان بھی بہت کمزور ہے، تاہم چند لوگوں کی آب بیتیاں مل جاتی ہیں جنہیں میں اکثر بعد از ریٹائرمنٹ ادھوری کہانی شمار کرتا ہوں۔

    زندہ قوموں میں ہمیں ان کے قومی آرکائیوز ایک مضبوط ادارے کی شکل میں کام کرتے نظر آتے ہیں جو تاریخی دستاویزات کو محفوظ کرتے چلے جاتے ہیں جوکہ ایک مسلسل عمل ہے اور پھر مؤرخ انہی کی مدد سے اپنی قومی تاریخ کا مستند بیانیہ بناتے ہیں۔ پاکستان کی کہانی کیا ہے؟ یہ کہانی یقیناََ برصغیر کی تاریخ سے جڑی ہے اور ہمیں لوگوں کے ذاتی عملی ذخائر اور کتب خانوں کے علاوہ انگریزوں کے دور میں اِس مقصد کے لیے قائم کیے گئے ادارے ملتے ہیں۔ قیامِ پاکستان کے وقت ہمیں دیگر وسائل کی طرح متحد انڈیا کے قومی آرکائیوز کا بہت کم حصہ ملا، حالانکہ پارٹیشن کونسل نے فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان کی حکومت کو ان آرکائیوز کے معائنے اور اپنی دلچسپی کا ریکارڈ حاصل کرنے کا حق ہوگا۔ ستم ظریفی یہ رہی کہ اس حوالے سے بہت کم عملدرآمد ہوا۔

    قیامِ پاکستان کے تین ماہ بعد کراچی میں پہلی پاکستان ہسٹری کانفرنس کا انعقاد 27 نومبر سے لے کر یکم دسمبر 1947ء تک کو ہوا اور کانفرنس کے صدر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے تاریخی ریکارڈ اور آرکائیوز کمیشن کی قرارداد پیش کی جوکہ منظور بھی ہوئی۔ بعدازاں نومبر 1951ء میں اِس کمیشن کے علاوہ ڈائریکٹوریٹ آف لائبریریز اینڈ آرکائیوز کا قیام بھی عمل میں آیا۔ یہاں یہ تذکرہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ اُس وقت صوبائی سطح پر پنجاب اور اور خیبرپختونخوا(اُس وقت کے صوبہ سرحد) میں بالترتیب 1923ء اور 1946ء سے آرکائیوز کے ڈیپارٹمنٹ موجود تھے، جبکہ سندھ اور بلوچستان میں ایسے ڈیپارٹمنٹ 1976ء میں قائم ہوئے۔ برطانوی راج میں تو ضلعی سطح پر ’’ڈسٹرکٹ گزٹ‘‘ کی بھی روایت تھی۔ برسوں کی بے عملی کے بعد ہم نے 1975ء میں آرکائیول میٹریل کے تحفظ اور ایکسپورٹ کنٹرول کا ایکٹ بنایا ۔ اِسی سال تاریخی نوادرات کے تحفظ کا قانون بھی بنا۔ 1974ء میں کابینہ ڈویژن میں ’’قومی دستاویزات مرکز‘‘ کا قیام بھی ہوا۔ تاہم قومی اور تاریخی اہمیت کے مواد کے تحفظ کے لیے قومی آرکائیوز ایکٹ 1993ء میں بنا۔ ان قوانین پر کتنا عمل ہوا؟اسلام آباد میں قائم نیشنل آرکائیوز کا دورہ کریں تو معلوم ہوگا کہ کم وسائل کی بدولت آج بھی یہ کام سرکار کی آخری سے بھی آخری ترجیح لگتی ہے۔

    اگر ہم ریاست کے تینوں ستونوں کے آرکائیوز کلچر کا مختصراََ جائزہ لیں تو پارلیمنٹ کی کہانی دکھ بھری ہے

    اگر نیشنل آرکائیوز ایکٹ 1993ء پر اس کی روح مطابق عمل ہوتا تو 20ویں صدی میں ہونے والے واقعات کی تمام دستاویزات اب تک ’’ڈی کلاسیفائی‘‘ ہوچکی ہوتیں، کیونکہ اِس قانون کی شق نمبر 8 اس کا حکم دیتی ہے۔ نیشنل آرکائیوز بورڈ موجود ہے یا نہیں اِس قانون کے مطابق ادارہ کی سالانہ رپورٹ حکومت کو دی جاتی ہے یا نہیں، یہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے مائندسیٹ کے تحت آج بھی سربستہ راز ہیں۔

    اگر ہم ریاست کے تینوں ستونوں کے آرکائیوز کلچر کا مختصراََ جائزہ لیں تو پارلیمنٹ کی کہانی دکھ بھری ہے۔ اگرچہ پارلیمنٹ کے ایوان میں ہونے والی  کاروائی پارلیمانی مباحث کی کتابوں میں محفوظ ہے تاہم اُس رجسٹر کا سراغ کہیں بھی نہیں ملتا جس پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے دستورساز اسمبلی کے ممبر کی حیثیت سے دستخط کیے تھے۔ پارلیمنٹ آف پاکستان میں آج بھی پارلیمانی آرکائیوز کا کوئی باقاعدہ شعبہ نہیں۔ تاہم آج سینٹ آف پاکستان کا میوزیم اور گلیء دستور موجود ہیں جو تاریخ کی کہانی سناتے ہیں۔ اعلی عدلیہ نے سپریم کورٹ میں میوزیم قائم کیا جہاں عدالتی تاریخ کی دستاویزات اور نوادرات دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انتظامیہ کے حوالے سے قومی مرکز دستاویزات کابینہ ڈویژن میں قائم ہوئی ہے۔ حال ہی میں ایک باقاعدہ آرمی انسٹی ٹیوٹ آف ملٹری ہسٹری قائم کیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان، مسلح افواج اور دیگر اداروں کے میوزیم بھی قائم ہوچکے ہیں۔

    اِس ساری صورتحال میں جس چیز کی کمی محسوس ہوتی ہے وہ ایک مربوط قومی آرکائیوز کلچر ہے۔ نیز ریسرچ اور ریفرنس کے لیے ان تاریخی وسائل کی دستیابی ناممکن نہیں تو کٹھن ضرور ہے۔ ڈیجیٹل عہد میں تو یہ کام باآسانی آن لائن بھی ہوسکتے ہیں۔ تاہم مسئلہ تو یہ ہے کہ کیا ہم مستند تاریخ کا سامنا کرنے کو تیار ہیں؟ کیا ہم ماضی میں رونما ہونے والے واقعات کی دستاویزات پبلک کرنے کے لیے تیار ہیں؟ کیا ہم ان کی روشنی میں ہونے والی تحقیق اور تدریس کو ہضم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ شاید یہی سوال ہیں جن سے گھبرا کر ’’مستند آرکائیوز کلچر‘‘ کی طرف ہماری توجہ بہت کم ہے۔

    آرکائیوز تاریخی دستاویزات نیشنل آرکائیوز پاکستان
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعبدالقادر کا بلوچستان
    Next Article محرومیوں کا علاج چاہیے
    ظفر اللہ خان

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by