12 مارچ 2021ء کو نئی سینٹ آف پاکستان کو آئینی طور پر موجود ہونا ہے۔ کیونکہ دستور ہاؤس آف فیڈریشن کو ’’تسلسل کا حامل‘‘ آئینی ادارہ قرار دیتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ 1977ء اور 1999ء کی فوجی مداخلتوں کے بعد اِس ادارے کو بھی توڑ دیا گیا تھا۔ آئین کے مطابق سینٹ آف پاکستان کے انتخابات 10 فروری 2021ء کے بعد کسی بھی دن اور 10 مارچ سے پہلے ہونا لازم ہیں۔ یقیناََ یہ 10 مارچ سے ہفتہ ڈیڑھ پہلے ہی ہوں گے، کیونکہ نومنتخب سینیٹروں کا ضابطوں کی تکمیل کے بعد الیکٹن کمیشن آف پاکستان کو باقاعدہ…
Author: ظفر اللہ خان
شہریت کی تعلیم کے ماہرین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ لوگ اپنے اندر وہ ضروری علم، معلومات، مہارتیں اور میلانات لے کر پیدا نہیں ہوتے جو انہیں اپنے سماج و ملک کے اندر ایک مفید شہری کا درجہ عطا کرتے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ شہری یہ سب کچھ خاندان کی تر بیت، اپنے سماجی مشاہدے، تجربات اور تعلیم و تر بیت کے مسلسل عمل سے سیکھتے ہیں۔ وہ اقدار جن کے ذریعے فرد میں ہم آہنگ سماجی روابط کا احساس جاگزیں ہو، معاشرے کے تنوع اور مختلف ثقافتوں کی پہچان ہوتی ہو، انسانی حقوق کا…
پاکستانی سیاست کولگے فکری سمجھوتوں کے کینسر سے لڑتے ہوئے ، میر حاصل خان بزنجو نے ہمیشہ حوصلوں کو بڑھایا لیکن جسمانی کینسر نے ان کی فانی زندگی مختصر کر دی۔ نال (خضدار) کی مٹی کی خوشبو بن جانے کے بعد بھی میر حاصل خان بزنجو کی ہمت اور جرات اہل سیاست کو وہ راہ دکھاتی رہے گی جس میں میں جہد مسلسل بھی ہے، مکالمہ کی لچک بھی ہے اور اصولوں کی پاسداری بھی۔ وفاقیت کی لڑی میں پروئی ہوئی اکائیاں بھی ہیں اور ان کے حقوق کی بھرپور وکالت بھی،سمجھوتوں کے نگر میں محروموں اور مظلوموں کے لیے…
آزادی کے 73سالوں کے بعد بھی پاکستان میں یہ بحث جاری ہے کہ ملک کے لئے پارلیمانی نظام موزوں ہے یا صدارتی نظام مناسب ہے۔بحث و مباحثہ تو بری بات نہیں لیکن جب یہ باتیں مقتدر حلقوں کی جانب سے آتی ہیں تو اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ اچھا خاصا چلتا اور رینگتا نظام تھم سا جاتا ہے، بے یقینی بڑھ جاتی ہے اور مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا ہو جاتے ہیں۔یہ پہلی یا آخری بار نہیں ہو رہا ہے اس سوال کو تاریخ میں کئی بار الجھایا اور سلجھایا گیاہے۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر پارلیمانی نظام…
ٓٓآج کل بات بات پر قانون کی حکمرانی کے خواب بنے جاتے ہیں۔ پھر یہ خواب خواہشوں کی گرداب میں کہیں کھو جاتے ہیں۔ قدیم سماج میں قبائلی سرداروں کے احکامات، بادشاہوں کے فرمودات اور مذہبی رہنماؤں کے فتوے حرف آخر ٹھہرتے تھے۔ جدید ریاستوں کی تشکیل کے ساتھ قوانین اور ضابطے کے باقائدہ ادارے بن گئے۔ ارتقاء کے اس سفر میں پارلیمنٹ کو یہ حق حاصل ہوا کہ یہاں بحث و مبا حثہ کے بعد قوانین بنائے جائیں، وقت و حالات کے مطابق ان میں ترامیم کی جائے اور جن قوانین کی ضرورت باقی نہ رہے انھیں ختم کردیا…
پاکستان کی تاریخ لکھنے والے مؤرخین اور پاکستان کے حوالے سے پولیٹیکل سائنس کے سکالرز نے ملک کی پارلیمانی تاریخ پر بہت کم دھیان دیا ہے۔ یہ دانستہ نظرانداز کرنے کی بات ہے یا پھر اقتدار کے تھیٹر کا باقی ماندہ سکرپٹ اتنا مزے دار تھا کہ پارلیمنٹ محض ایک مختصر تنقیدی حوالہ بن کہ رہ گئی۔ اس سارے شعوری یا غیر شعوری عمل کا نقصان یہ ہوا کہ عوام کے اذہان میں پارلیمانی اداروں میں بیٹھنے والے افراد اور ان کی کارکردگی کے حوالے سے ڈھیروں ابہام پائے جاتے ہیں۔ "بیانیہ "، عصر ِحاضر میں ایک محاورہ بن کے…
سینٹ آف پاکستان کا قیام 1973 ء کے آئین کے تحت عمل میں آیا اور پہلی سینٹ نے 6 اگست 1973 ء کو اسلام آباد میں سٹیٹ بنک آف پاکستان کی عمارت میں اپنے کام کا آغاز کیا۔ 45 رکنی سینٹ کا پہلا انتخاب قومی اسمبلی(وفاقی دارا لحکومت اور قبائلی علاقہ جات کے لئے)اور صوبائی اسمبلیوں نے صوبائی سینیٹروں کے لئے سنگل ٹرانسفر ایبل ووٹ کے ذریعے کیا۔اس نظام کو اپنانے کا مقصد یہ تھا کہ صوبے کی چھوٹی سی چھوٹی آواز کو بھی وفاق میں نمائندگی اور آواز ملے۔ اس وقت سینٹ کی مدت 4 سال تھی اور اسے…
برطانوی پارلیمنٹ کو دنیا بھر کی پارلیمانوں کی ماں کہا جاتا ہے۔ جمہوری اداروں کا جنم اور ارتقاء اپنے دامن میں کئی نشیب و فراز کا امین ہے۔ اقتدار ِ اعلیٰ کے مغربی تصورات بادشاہت سے نکل کر ان اداروں کی امانت بنے۔ اس سفر میں کبھی بادشاہوں کے سر قلم ہوئے تو کبھی پارلیمانی اداروں کو نذرِ آتش کیا گیا ۔ برصغیر پاک و ہند میں پارلیمانی ادارے نو آبادیاتی دور میں پہنچے، اگرچہ لوگوں سے مشاورت کامقامی نطام پنچایئت یا مقامی مجلسوں کی صورت موجود تھا۔ برصغیر کی تقسیم میں دیگر عوامل کے علاوہ ایک بڑا محرک کانگرس…
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں ـقومی اسمبلی اور سینٹ کے بجٹ اجلاس ـ محدود اراکین کے ساتھ جاری ہیں۔ قائد حزب اختلاف سمیت اپوزیشن کے فرنٹ بینچ سے سابق وزیر اعظم سابق اسپیکر پارٹی کے جنرل سیکرٹری اور سیکرٹری اطلاعات کے علاوہ متعدد اراکین کرونا پازیٹو ہوکر خود کو قرنطینہ کرچکے ہیں۔ حکومتی بینچوں سے چیف وہپ سمیت ایک وفاقی وزیر ایک وزیر مملکت اور کئی اراکین کرونا پازیٹو ہو کر خود تنہائی اختیار کرچکے۔ سوشل فاصلہ رکھ کر روزانہ 46 حکومتی اور 46 اپوزیشن ارکان اجلاس میں آتے ہیں۔ متحدہ مجلس عمل اگرچہ کرونا کے ہاتھوں اپنے ایک معزز رکن…
اس بارے میں دو آرا ء نہیں کہ وفاقیت کا پھول جمہوری ماحول ہی میں کھِلتا ہے۔ایمرجنسی ، بحران اور قدرتی آفات اسے خدشوں ، تنقید اور الزامات کے تھپیڑوں میں دھکیل دیتے ہیں۔ دنیا بھر کے 193 ممالک میں فقط 28 وفاقی انداز میں منظم ہیں۔ تاہم یہ دنیا کی کل آبادی کا 40 فیصد اور اکثر بڑے بڑے کثیر القومی ممالک ہیں ۔ کرونا بحران کے نتیجے میں صحت اور معیشت کی ایمرجنسی نے مرکزی، صوبائی یا اسٹیٹ سطح کی حکومتوں کے مابین دنیا بھر میں کھینچا تانی ہوئی۔ ہرایک نے مسئلے سے نمٹنے کے لئے دوسرے کی…
