Author: ادارہِ تجزیات

مصنف: فرانسس فوکویاما اردو ترجمہ : ڈاکٹر محمد حسین زیر نظر مضمون میں ہم شناخت سے متعلق اہم معاصر تصورات کا جائزہ لیں گے، جنہیں معروف امریکی دانشور فرانسس فوکویاما نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "Identity: The Demand for Dignity and the Politics of Resentment” ترجمه : شناخت: وقار کا مطالبه 11 اور رنجش کی سیاست میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔ اس مضمون میں پیش کیے گئے کچھ اقتباسات اسی کتاب کے منتخب حصوں کا اردو ترجمہ ہیں، جن کا مقصد قارئین کو موجوده عالمی رجحانات شناختی سیاست کے ارتقا، اور اس کے سماجی و سیاسی اثرات سے روشناس…

Read More

سہ ماہی تجزیات کا شمار پاکستان کے معتبر مجلات میں ہوتا ہے۔ اسے ملک کے سنجیدہ فکر و نظر کے حامل طبقات کی جانب سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تجزیات کا پرنٹ ایڈیشن ہر تین ماہ بعد شائع کیا جاتا ہے۔ وقیع اردو مضامین کے ساتھ انگریزی کے اہم مضامین کے تراجم بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ مجلہ کسی خاص نظریے کی ترویج نہیں کرتا بلکہ متنوع شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اس کا حصہ ہیں۔ سہ ماہی تجزیات کا نیا شمارہ شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔ تازہ شمارے کو…

Read More

راولپنڈی میں منعقدہ ورکشاپ کی روداد پاک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز (PIPS) نے 13-14 جنوری 2025 کو راولپنڈی میں تیسری دو روزہ ورکشاپ بعنوان Building Bridges: نوجوانوں میں رواداری اور شمولیت کو فروغ دینا“ کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں شمالی پنجاب کے یونیورسٹیوں ، کالجوں اور مدارس کے اساتذہ اور طلباء کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق اور سول سوسائٹی کے کارکنان اور پریکٹیشنرز نے شرکت کی۔ اس نے نوجوان ذہنوں کو رواداری، سماجی ہم آہنگی ، شہریت کے حقوق ، آئین، ثقافتی تنوع اور میڈیا کے اثرات جیسے موضوعات پر متنوع مباحثوں میں شامل ہونے کا موقع دیا۔…

Read More

جیف ہاکنز کی یہ کتاب "A thousand Brains: A new Theory of Intelligence” انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک انقلابی نقطه نظر پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب دماغ کی ساخت، سیکھنے کے عمل، اور انسانی ذہانت کے اصل فطری اصولوں کو واضح کرتی ہے۔ ہاکنز کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ در حقیقت ہزاروں چھوٹے دماغوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مل کر کام کرتے ہیں اور دنیا کو سمجھنے کے لیے ایک منظم طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ نظریه روایتی ماڈلز کے برعکس ہے، جو عام طور پر ذہانت کو ایک مرکزی پروسیسر کے…

Read More

یه کتاب فلسطینی تاریخ کا ایک جامع اور مستند جائزہ پیش کرتی ہے، جو فلسطینی نقطۂ نظر سے بیان کیا گیا ہے۔ معروف محقق رشید خالدی کے کام سے اخذ کرده یه کهانی تاریخی دستاویزات بنیادی ذرائع اور ذاتی بیانات کو یکجا کرکے 1917 سے لے کر آج تک کے فلسطین کی ایک مؤثر اور حقیقت پر مبنی روداد مرتب کرتی ہے۔ رشید خالدی ایک فلسطینی – امریکی مؤرخ ہیں، جو کولمبیا یونیورسٹی میں ایڈورڈ سعید پروفیسر آف ماڈرن عرب اسٹڈیز کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور جرنل آف فلسطین اسٹڈیز کے مدیر بھی ہیں۔ ان کی…

Read More

” دنیا حقیقت میں کیسے کام کرتی ہے“ (2022) ایک ایسی کتاب ہے جو جدید دنیا کے ایک بنیادی تضاد کو اجاگر کرتی ہے: ہمارے پاس معلومات کی بے پناہ رسائی ہے ، لیکن پھر بھی ہمیں یہ کم ہی معلوم ہوتا ہے که چیزیں در حقیقت کیسے کام کرتی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہم ہر چیز میں ماہر نہیں ہو سکتے، لیکن ویکلا و سمل کا مؤقف ہے کہ ایک ذمہ دار شہری کے طور پر ہمارا فرض ہے کہ ہم بنیادی حقائق سے آگاہ رہیں – یعنی وہ بڑے سوالات جو ہمارے معاشروں اور ان کے مستقبل کی…

Read More

انگریزی سے ترجمہ : اجمل کمال ہندوستان کے پہلے مغل فرماں روا ظہیر الدین محمد بابر (۱۵۳۰ – ۱۴۸۳ء) کی خود نوشت سوانحبا برنامه ازمنہ وسطی کی دنیا کی ایک حیران کن یادگار ہے۔ یہ دنیا کی ان گفتی کی ادبی تحریروں میں سے ایک ہے جنھیں اپنے زمرے کی واحد تحریر قرار دیا جا سکتا ہے: ایک ایسی تحریر جس کے لیے نہ تو پہلے سے کوئی نمونہ موجود تھا اور نہ جس کی بعد میں آنے والوں نے پیروی کی۔ مغربی روایت میں جنگی یادداشتوں کا نسبی سلسلہ بہت پیچھے زمینوفون (Xenophon) اور جولیس سیز رسے جاملتا ہے۔…

Read More

سہ ماہی تجزیات کا شمار پاکستان کے معتبر مجلات میں ہوتا ہے۔ اسے ملک کے سنجیدہ فکر و نظر کے حامل طبقات کی جانب سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تجزیات کا پرنٹ ایڈیشن ہر تین ماہ بعد شائع کیا جاتا ہے۔ وقیع اردو مضامین کے ساتھ انگریزی کے اہم مضامین کے تراجم بھی اس کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ مجلہ کسی خاص نظریے کی ترویج نہیں کرتا بلکہ متنوع شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات اس کا حصہ ہیں۔ سہ ماہی تجزیات کا نیا شمارہ شائع ہو کر منظر عام پر آچکا ہے۔ تازہ شمارے کو…

Read More

پاک انسٹیٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز (PIPS) نے 13 جون 2025 کو اسلام آباد میں منعقدہ ایک اختتامی تقریب کے ساتھ اپنی دس ملکی تربیتی ورکشاپس کی سیریز مکمل کی، جس کا عنوان ” Building Bridges: Fostering Tolerance and Inclusivity among Youth” تھا ۔ اس اقدام کا مقصد ملک بھر میں مقامی امن کارکنوں اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنا کر مذہب کی بنیاد پر ہونے والے جبر اور تشدد کا مؤثر طور پر مقابلہ کرنا تھا۔ ورکشاپ میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے شرکاء کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا، جن میں مرکزی دھارے اور…

Read More

"مجھے جنگ سے نہیں، جنگ کے بعد کی صورتحال سے ڈر لگتا ہے۔” یہ ڈائیلاگ مشہور سیریز Game of Thrones میں ایک کردار کی زبانی سننے کو ملتا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس میں آج کی حقیقت چھپی ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا پر جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ بڑھتا ہے تو ایک مخصوص طبقہ جنگ کو ایک تفریح بنا دیتا ہے۔ میمز بنتی ہیں، لطیفے گھڑے جاتے ہیں، اور ایسا تاثر دیا جاتا ہے جیسے جنگ کسی فلم کا سین ہو جو سب کو محظوظ کرے گا۔ لیکن اصل سوال یہ ہے…

Read More