Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»ہزار دماغ ۔ ذہانت (انٹلیجنس ) کا ایک نیا نظریہ
    تما م آرٹیکلز

    ہزار دماغ ۔ ذہانت (انٹلیجنس ) کا ایک نیا نظریہ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتاگست 11, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    جیف ہاکنز کی یہ کتاب "A thousand Brains: A new Theory of Intelligence” انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں ایک انقلابی نقطه نظر پیش کرتی ہے۔ یہ کتاب دماغ کی ساخت، سیکھنے کے عمل، اور انسانی ذہانت کے اصل فطری اصولوں کو واضح کرتی ہے۔
    ہاکنز کا بنیادی نظریہ یہ ہے کہ ہمارا دماغ در حقیقت ہزاروں چھوٹے دماغوں پر مشتمل ہوتا ہے، جو مل کر کام کرتے ہیں اور دنیا کو سمجھنے کے لیے ایک منظم طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ یہ نظریه روایتی ماڈلز کے برعکس ہے، جو عام طور پر ذہانت کو ایک مرکزی پروسیسر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہاکنز کا یه کام نه صرف نیورو سائنس (عصبی سائنس) میں ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ مصنوعی ذہانت اور انسانی شعور کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے بھی ایک زبردست حوالہ ہے۔ (مدیر)

    کبھی آئینے میں دیکھ کر یہ سوچا ہے کہ اندر کیا چل رہا ہے؟ یہ ایک با مقصد سوال ہے، اور ظاہر ہے کہ آپ نے ایسا سوچا ہوگا۔ دماغ نہ صرف سائنسی بلکہ انسانی تاریخ کے بھی سب سے بڑے رازوں میں سے ایک ہے۔ یہ ہمیں صدیوں سے الجھاتا آیا ہے۔

    یہ نہیں کہ ہم نے اس کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ نیورو سائنسدانوں نے دماغ کے بارے میں بے شمار حیرت انگیز مشاہدے اکٹھے کیے ہیں، لیکن بنیادی سوال اب بھی باقی ہے: کس طرحنیوران کہلانے والے ننھے خلیے مل کر ذہانت تخلیق اور شعور کی مکمل تصویر تشکیل دیتے ہیں؟

    یہیں سے ہزار دماغوں کا نظریہ آتا ہے۔ یہ ایک شاندار، وسیع اور گہرائی میں جانے والا نظریہ ہے، جسے حیاتیات دان رچرڈ ڈاکنز اتنا سنسنی خیز اور دلچسپ قرار دیتے ہیں کہ یہ آپ کے ذہن کو مسلسل گردش میں رکھے گا اور نیند اڑادے گا

    نئی کارٹیکس کے راز
    چلیں، پہلے دماغ کی ساخت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک برتن میں اسکیٹی بنانے کا تصور کریں۔ اب ہر اسپیگیٹی کو ایک دسویں انچ (2. 5 ملی میٹر لمبے ٹکڑوں میں کاٹیں اور ان میں سے ایک کو کھڑا رکھیں، جیسے کہ کوئی ننھا رومی ستون ۔ پھر ان ستونوں کو ایک دوسرے کے قریب رکھ کر 150000 ٹکڑوں کی ایک شیٹ بنالیں، جو تقریباً ایک ڈنر ٹیبل کے کپڑے کے برابر ہو۔

    کیا آپ ہمارے ساتھ ہیں؟ زبردست ! اب تصور کریں کہ یہ پوری شیٹ آپ کے دماغ کی نئی کارٹیکس ہے، جو آپ کی کھوپڑی کے 70 % حصے پر مشتمل ہے۔ یہ دماغ کا وہ حصہ ہے جو نسبتاً جدید ارتقائی دور میں پیدا ہوا اور پرانے حصوں جیسے لیمبک سسٹم ( جسے رینگنے والے جانوروں کا دماغ ” بھی کہا جاتا ہے ) کے ارد گرد لپٹا ہوا ہے۔

    یہ ننھے اسکیٹی نما ٹکڑے دراصل کورٹیکل کالمز ہیں۔ ننگی آنکھ سے نظر نہ آنے والی یہ بار یک ساختیں نیورانز کے جڑنے کے طریقے کی نمائندگی کرتی ہیں۔ یہی نئی کارٹیکس ” آپ کو دیکھنے، سنے، چھونے، بولنے اور سوچنے کے قابل بناتی ہے۔ یہ آپ کو زبانیں سیکھنے، ریاضی کا علم حاصل کرنے، پینٹنگ بنانے اور فلسفہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

    لیکن یہاں ایک مسئلہ ہے۔ یہ تمام مختلف کام انجام دینے کے باوجود، نئی کارٹیکس کا ہر حصہ تقریباً ایک جیسا دکھائی دیتا ہے۔ عجیب بات ہے، ہے نا ؟ مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ دوسرے ممالیہ جانوروں کی نئی کارٹیکس بھی بالکل ایسی ہی لگتی ہے حالانکہ وہ زبان نہیں بول سکتے ، روبک کیوب نہیں حل کر سکتے اور کو انٹم فزکس نہیں سمجھ سکتے !

    یہ کیسے ممکن ہے؟ آخر یہ ایک ہی قسم کا ٹشو اتنے مختلف کام کیسے کر سکتا ہے؟ یہی سوال ہم حل کریں گے۔

    ماغ ایک پیشن گوئی کرنے والی مشین ہے
    دماغ کو ایک برتن میں رکھا ہوا تصور کریں، جو کسی بھی چیز سے مجڑا نہ ہو مکمل تاریکی میں پڑا ہو۔ اب، اس دماغ کو ایک بصری فیڈ (کیمرے سے آنے والا سگنل ) سے منسلک کریں، جو نیوران کی برقی سرگرمی کے ذریعے منتقل ہوتا ہو۔

    دنیا کا ایک درست ماڈل بنانے اور اسے استعمال کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت ہی کو ذہانت کہا جاتا ہے۔

    اب ، اس برتن میں پڑے دماغ کو ہاتھوں سے جوڑ دیں۔
    ہاتھوں کے ذریعے، یہ دماغ دنیا کو جاننے کا ایک نیا طریقہ حاصل کرے گا چیزوں کو چھو کر اور ان کے ساتھ تعامل کر کے۔ مثال کے طور پر، اگر دماغ ایک اسٹیپلر اٹھاتا ہے، تو وہ اسے مختلف زاویوں سے دیکھے گا ، دبانے پر ایک اسٹیپل نکلے گا، کھولنے پر اندر بہت سے اسٹیپلز کی قطار نظر آئے گی ۔
    یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے : انسانی دماغ ڈیٹا کا غیر فعال انتظار نہیں کرتا، بلکہ خود ڈیٹا پیدا کرتا
    ہے۔

    یہ ہر نئی معلومات کو اپنے اردگرد کی دنیا کا زیادہ درست ماڈل بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے۔
    بطور انسان ، ہم ماڈلز بناتے ہیں تا کہ زندہ رہ سکیں۔ کیونکہ ماڈلز پیشن گوئی کرنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں، اور پیشن گوئی ہمیں کنٹرول دیتی ہے۔

    دنیا کا ایک درست ماڈل بنانے اور اسے استعمال کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت ہی کو ذہانت کہا جاتا ہے۔

    اور حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ آپ وہی برتن میں پڑا ہوا دماغ ہیں! آپ جو کچھ دیکھتے ، سنتے یا محسوس کرتے ہیں ، وہ سب آپ کے دماغ کے اندر بنے والی ایک ہولو گرا فک سمولیشن ہے۔

    ہزار دماغ ، ہزار ماڈلز
    روایتی سائنس یہ کہتی تھی کہ دماغ مختلف حصوں میں تقسیم ہے ایک حصہ حسی ڈیٹا کو پروسیس کرتا ہے، دوسرا حرکت کو کنٹرول کرتا ہے، تیسرا فیصلے لیتا ہے۔
    لیکن جیف ہاکنز کا کہنا ہے کہ یہ پرانی سوچ ہے!

    حقیقت میں، ہر ایک کورٹیکل کالم ” مکمل طور پر خود مختار ہوتا ہے۔ ہر کالم کے پاس اپنی حسی معلومات اور موٹر کنکشنز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آنا پر ، آنکھ سے جڑے ہوئے کالم صرف بصری معلومات ہی نہیں سنبھالتے ، بلکہ آنکھوں کی حرکت کو بھی کنٹرول کرتے ہیں ۔

    معلومات اور موٹر کنکشنز ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، آنا پر ، آنکھ سے جڑے ہوئے کالم صرف بصری معلومات ہی نہیں سنبھالتے ، بلکہ آنکھوں کی حرکت کو بھی کنٹرول کرتے ہیں ۔

    یہ نظریہ تین بڑی باتوں کی وضاحت کرتا ہے :
    .1 نئی کارٹیکس کا ہر حصہ ایک جیسا کیوں نظر آتا ہے؟
    .2 جانوروں میں اگر بینائی اور سماعت کے اعصاب بدل دیے جائیں ، تو وہ پھر بھی
    دیکھ اور سن سکتے ہیں؟
    .3 دماغ حیرت انگیز حد تک لچکدار اور موافقت پذیر کیوں ہے؟

    جواب یہ ہے : دماغ مخصوص حصوں میں نہیں بٹا ہوا ۔ اس کا ہر حصہ ایک ہی بنیادی ڈیزائن رکھتا ہے، اور فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کس چیز سے جڑا ہوا ہے۔

    آپ کا دماغ ایک جمہوریت ہے
    لیکن سوال یہ ہے کہ یہ 150000 چھوٹے دماغ مل کر ایک ہی حقیقت کیسے تخلیق کرتے ہیں؟
    ووٹنگ کے ذریعے !

    ہر کورٹیکل کالم میں کچھ خاص نیوران ہوتے ہیں جو دوسرے کالمز سے مجڑتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھ معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں، ووٹ دیتے ہیں اور بالآخر ایک متفقہ نتیجے پر پہنچتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ آپ جو کچھ بھی دیکھتے یا محسوس کرتے ہیں، وہ آپ کے 150000 دماغوں کا اجتماعی فیصلہ ہوتا ہے۔
    تو ، اگلی بار جب آئینے میں دیکھیں ، سوچیں: اندر واقعی کیا چل رہا ہے؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدہشت گردی کے خلاف جنگ میں غلطیاں
    Next Article نوجوان اور سماجی ہم آہنگی
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by