Author: ادارہِ تجزیات

جمعہ کے دن امریکا نے اہم ترین ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کو ایک ڈرون حملے میں نشانہ بنا کر ایران کے خلاف کھولے گئے محاذ کو نئے رُخ پر ڈال دیا ہے۔ ذیل میں گزشہ آٹھ دنوں کے دوران پیش آنے والے ان نمایاں واقعات کا ذکر کیا جاتا ہے جن کی وجہ سے معاملات یہاں تک پہنچے۔ جمعہ، 3 جنوری امریکی ڈرون نے دو کاروں کو نشانہ بنایا جو بغداد ایئرپورٹ سے جنرل قاسلم سلیمانی اور چند دیگر ایرانی حمایت یافتہ عراقی مسلح تنظیموں کے ارکان کو لے کر جارہی تھیں۔ امریکی سرکاری ذمہ داران کے مطابق جنرل سلیمانی…

Read More

دنیا میں امن و امان کے لیے کام کرنے والے ادارے سال کے اختتام پر تفصیلی رپورٹ شائع کرتے ہیں جس سے انسداد دہشت گردی کے متعلقہ حلقوں کو یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کتنی کامیابیاں حاصل کی گئیں اور کیا خلا باقی ہیں جن پر توجہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں دوہزار اٹھارہ کی بہ نسبت دوہزار اُنیس کے دوران دہشت گردانہ حملوں میں گیارہ فیصد کمی واقع ہوئی۔ جبکہ اس میں مرنے والوں میں کی تعداد چالیس فیصد کم رہی۔ عالمی سطح پر دہشت گردی کی بات کی جائے تو 2019ء میں مختلف واقعات کے دوران…

Read More

پاکستانی ادب کی تاریخ ہے کہ اس میں ہمیشہ ایک حلقہ ایسا رہا ہے جس نے عوامی مسائل کو اُجاگر کرنے اور جمہوری قدروں کے تحفظ کو اپنے فن کا حصہ بنائے رکھا۔ لیکن ماضی قریب سے ملک کے ادبی حلقے سے ایسی آوازیں سنائی دینی بند ہوگئی ہیں۔ ڈاکٹرمزمل حسین کہتے ہیں کہ ہمارا موجودہ ادب کارپوریٹ کلچر کے زیراثر تشکیل پارہا ہے اور اب ملک کے شاعر وادیب سماج کے بجائے ریاست کے بیانیے کے ترجمان ہیں، یا پھر خاموش ہیں۔ادبِ عالیہ کی نظیریں اب دیکھنے کو نہیں ملتیں۔ انہوں نے مضمون میں اس کے اسباب پر بات…

Read More

پاکستان میں مذ ہبی جماعتوں کی سیاست کا مستقبل گاہے بگاہے زیر ِبحث آتا رہتا ہے۔ اب تک کی سیاست کے بارے میں سیاسی امور کے ماہرین اس بات پر اتفاق کر تے ہیں کہ مذ ہبی سیاسی جماعتیں ابھی تک اپنا عوامی اثرو رسوخ قائم کرنے میں ناکام ہوئی ہیں اور ایک مؤثر سٹریٹ پاور کے باعث اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال ہوتی آئیں ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ان کو اقتدار کے قریب لا سکتی ہے جیسا کہ 2002ء کے انتخابات میں جزوی طور پر یہ ہوا تھا۔ اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ…

Read More

لامحدودیت کی استعارہ شخصیت فہمیدہ ریاض کا شمار پاکستان کی ان معدودے چند خواتین میں ہوتا ہے کہ سیاست وادب کے میدانوں میں جن کی آواز وفکر کے اثرات نہایت گہرے ونمایاں ہیں۔انہوں نے خواتین کواورنسائی ادب کو روایتی سماج میں وہ اوج عطا کی جو پہلے حاصل نہ ہوئی تھی۔ ان کا سراپا آمریت وجبر کے خلاف تھا۔انقلابی تھیں مگر نعرہ باز نہ تھیں۔ شاہ لطیف ورُومی سے بھی متعاوف کرایا۔ انہی کا کہنا تھا ”میں بندہ و ناچار کہ سیراب نہ ہوپاؤں“۔ انہیں دنیا سے انتقال کیے سال بیت گیا ہے۔ مجاہد بریلوی کا فہمیدہ ریاض سے خاص…

Read More

ڈاکٹر زاہد منیر عامر پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے سربراہ اور ملک کے معروف شاعر ونقاد ہیں۔زیرنظر رُوداد اُن کے سفرنامہ ایران کی ہے۔ان کے مطابق سماج کا علم کتابوں سے اتنا نہیں آتا جتنا کہ وہاں کے عام لوگوں سے ملنے جلنے اور ان کے ساتھ بات چیت کرنے سے آتا ہے۔پھر بات اگر حافظ،سعدی اور صائب کے شہروں کی ہوتو حاضری کے بغیر شوق کو راحت آشکار کیسے کیا جاسکتاہے۔اسی لیے وہ گلیوں بازاروں میں گھومتے ہیں، خریداری کرتے ہیں اور جدیدوقدیم روایت کا حظ اُٹھاتے ہیں۔رُوداد کے اسلوب کی چاشنی قاری کو ایک سحر میں گرفتار…

Read More

اگر حالیہ عالمی نظام اور اس کے بین الاقوامی اقتصادی بند وبست کے ممکنہ انہدام کی بات کی جائے تو اس موضوع کے بارے میں جاننے کے لیے بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرِ اقتصادیات ڈاکٹر دامبیسا فالیسیا مویو سے زیادہ عمدہ اور بہترین انتخاب کوئی اور نہیں ہو سکتا۔ ڈاکٹرمویوکا جنم زیمبیا میں ہوا،وہ دنیا بھر میں اقتصادی اُمور کی ماہر اور مصنفہ کے حوالے سے اپنی پہچان رکھتی ہیں اور کلاں معاشیات و عالمی امور کی تجزیہ کار ہیں۔جب دنیا میں بے چینی کا چلن عام ہواور بے یقینی راج کررہی ہوتو یہ جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ…

Read More

تاریخ کا ہر انسانی سماج بقائے باہمی کی غرض سے اور اپنی ضروریات کے پیش نظر ایک مخصوص نظمِ اجتماعی تشکیل دیتا رہا ہے۔اس کی مختلف شکلیں رہی ہیں تاہم ان سب میں شر وخیر کے محرکات کے حوالے سے تصورات میں ایک طرح کی فکری ہم آہنگی رہی ہے جسے ’بشری اخلاقیات‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اخلاقیات فطری دائرے میں مصنوعی نہیں ہوتی ہیں،لیکن جدید عہد میں ’نظریہ افادیت‘ ایک تسلیم شدہ اخلاقی حقیقت کے طور پہ سامنے آیا ہے جو بشری فطری ساخت کو متأثر کررہا ہے اور باہمی تعلقات میں مفاد پرستی کو اہم ترین بنا…

Read More

پاپولزم کیا ہے؟ یہ دورِحاضر کے گہما گہمی کے حامل سوالات میں سے ایک ہے۔یہ کسی طبقے کا بھونڈا سماجی برتاؤہے، کج ثقافتی اثر ہے، یازبردست سیاسی حربہ۔سلمان طارق قریشی کوئی فیصلہ تو نہیں سناتے تاہم وہ اس کے تاریخی  مظاہر کی روشنی میں یہ واضح کرتے ہیں کہ یہ ایک طوفانی جھکڑ کی طرح ہے جس کی میعاد طویل نہیں ہوتی لیکن یہ اپنے مختصر دورانیے میں بے شمار مسائل چھوڑ جاتا ہے۔وہ اسے شیکسپئر کے ڈرامے ”جولیس سیزر“ کے کرداروں میں بھی ڈھوندتے ہیں کہ کیسے بے رحم مثالیے کی طاقت اپنا کام کرتی ہے۔انہوں نے یہ نکتہ…

Read More

دو دن قبل کی خبر کے مطابق مانسہرہ کے مدرسہ میں ایک استاد دس سالہ بچے کو مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا جس کی وجہ سے بچے کی آنکهوں سے خون رسنا شروع ہوگیا. مدرسہ بند کردیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ نے تفتیش کا حکم دیا ہے۔ مدارس سے متعلقہ مسائل جہاں ایک طرف متوع اور نہایت اہمیت کے حامل ہیں وہیں وہ ایک خاص قسم کی حساسیت اور پیچیدگیاں بهی رکهتے ہیں. مدارس کے معاشرے پر اثرات کا دائرہ مختصر نہیں ہے بلکہ وسیع ہے لیکن اس کے ساتهہ بڑی مشکل یہ ہے کہ اس حلقے کے…

Read More