کئی دہائیوں سے سماجی علوم کے ماہرین اس سوال سے نبرد آزما ہیں کہ کیا دنیا کا دوسرا بڑا مذہب اسلام اسی طرح کی انقلابی تبدیلی سے گزرے گا جس طرح کی انقلابی تبدیلی دنیا کے سب سے بڑے مذہب مسیحیت میں رونما ہوئی: یعنی سیکولرپسندی۔ کیا اسلام بھی اپنے ماننے والوں کی سماجی زندگیوں پر اپنا اختیار کھو دے گا؟ اور مسلم سماج میں بجائے ایک فیصلہ کن قوت کی حیثیت کے دیگر اٹھنے والی عام آوازوں کی مانند ایک رائے کی صورت میں باقی رہ جائے گا؟ کئی مغربی مفکرین کا خیال ہے کہ نہیں، ایسا نہیں ہوگا…
Author: ادارہِ تجزیات
اٹھارہویں صدی عیسویں سے لے کر آج تک کی قومی ریاستوں نے جو آئین تشکیل دیے ہیں ان کی جڑیں بقول ماہرین سیاسیات کے روشن خیال آئینی نمونے میں موجود ہیں۔ اس آئینی ماڈل کی تشکیل میں سترہویں اور اٹھارہویں صدی عیسویں کے فلسفیوں نے بنیادی کردار ادا کیا جن میں تھامس ہابز ، جان لاک اور ژاں ژاک روسو کے نام نمایاں ہیں۔ اگرچہ اٹھارہویں صدی عیسویں سے پہلے بھی تحریری شکل میں آئین موجود تھے تاہم یہ روشن خیالی کا آئینی نمونہ ہی وہ واحد عملی مثال ہے جس پر آج تک کے آئین تشکیل دیے جاتے ہیں۔…
وقت آن پہنچا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے لوگ تاریخ کا مطالعہ اسی طرح سے کریں کہ جس طرح وہ حقیقت میں پیش آئی۔ ہندوستان کے لبرل اور ہندوانتہاء پسند، دونوں ہی کے لیے یہ بہت آسان اور سہل ہے کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کو گالی دیں اور ہر طرح کے جھوٹ اور بہتان ان پر باندھیں کیونکہ وہی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے بھارت ماتا کو تقسیم کیا۔ حالیہ دنوں میں جب ہندوستان میں حکمران بی جے پی اتحاد ہندوستانی آئین کا تشخص پامال کرتے ہوئے شہریت کے قانون میں آئینی ترمیم کررہا ہے تو…
آج بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا 144 واں یومِ پیدائش منایا جارہا ہے۔ قائد نے اِس خطے کے مسلمانوں کے لیے پرامن و باوقار زندگی کے حصول کی خاطر جدوجہد کی اور انہیں ایک الگ ملک دلانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ عظیم نعمت قوم کو اس کے بانی کی یاد دلاتی ہے۔ ہر سال قائداعظم کے یومِ پیدائش پر عوام یہ دن احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔ یہاں ان کی شخصیت وہ واحد ذات ہے جس پر کسی کو اختلاف نہیں، ہم سب ان کے عزم و جدوجہد کے لیے یکساں احترام رکھتے ہیں۔ تاہم یہ جذبہ اب…
یہ کوئی چھ طویل سالوں سے زیادہ عرصہ ہوچلا ہے کہ جب سے ایک فطین استاد جس کا نام جنید حفیظ ہے ملتان کی سنٹرل جیل میں قید تنہائی کاٹ رہا ہے۔ راجن پور کے رہائشی جنید حفیظ نے فل برائٹ اسکالر شپ پر امریکہ سے اعلیٰ تعلیم کے بعد وطن واپس آکر ملتان شہر میں بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کے طلبہ کو ان بڑے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے کے لیے پڑھانے کا فیصلہ کیا جو دنیا کو سال 2011ء میں درپیش تھے۔ جنید کو شاعری، نثر اور ڈرامہ نگاری میں بہت دلچسپی تھی اور وہ یہ چاہتے تھے کہ وہ…
امیر ممالک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات کے باوجود ماضی قریب کے چند عشرے دنیا کے غریب افراد کے حق میں بہتر ثابت ہوئے ہیں۔ 1980ء سے 2016ء کے درمیانی عرصے میں نچلے طبقے کی آمدن میں پچاس فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ طبقہ کُل عالمی شرح پیداوار کے 12 فیصد پر ملکیت رکھتا ہے۔ آبادی کا وہ حصہ جو یومیہ 1.90 ڈالر کماتا تھا 1990ء سے اب تک اس کی تعداد میں تقریباََ نصف تک کی کمی واقع ہوئی ہے، اس کی تعداد پہلے دو ارب تھی جو گھٹ کر 700 ملین تک آچکی ہے۔ انسانی تاریخ…
برطانیہ کے ایک کنزرویٹو سیاست دان نے مزاح کے انداز میں ایک بار کہا تھا کہ ”وہ ملک جو اپنی تاریخ سے دور ہورہا ہو، اُس بوڑھے آدمی کی طرح ہے جو اپنی عینک کھو دیتا ہے، جس کی نظر خاصی کمزور ہو، وہ یکلخت غیریقینی صورتحال اور تذبذب کا شکار ہوجاتا ہے۔“ یہ خاص طور پر یہ کہنے کا خوش نما طریقہ نہیں تھا کہ وقت کا سفر کسی کے لیے رکتا نہیں ہے، جو اپنی تاریخ سے سیکھنے کے بجائے تصوراتی دنیا میں رہتے ہیں، یہ انہیں تاریخ کے کوڑادان میں ڈال دیتی ہے۔ پاکستان میں تاریخ کی…
آج اٹھارہ دسمبر سے ملائیشیا میں کوالالمپور سربراہی اجلاس شروع ہونے جارہا ہے جو اکیس دسمبر تک جاری رہے گا۔ اس میں چند مسلم ممالک کے سیاسی سربراہان سمیت دنیا کے 52 ملکوں سے 450 کے قریب شخصیات شرکت کررہی ہیں جس میں فلسطینی تنظیم حماس کی نمائندگی بھی نمایاں ہے۔ پہلا کوالالمپور سربراہی اجلاس دوہزار چودہ میں منعقد کیا گیا تھا، تب اس میں مختلف ممالک کے مسلم مفکرین اور علما مدعو کیے گئے تھے جنہوں نے عصرحاضر میں درپیش مسائل پر بات کی تھی۔ اس میں سعودی عرب کی نمائندگی بھی شامل تھی۔ تاہم حالیہ اجلاس کی نوعیت…
میر غوث بخش بزنجو پاکستان کے قوم پرست سیاستدانوں میں ایک نمایاں نام ہیں، 1970ء کے عام انتخابات میں ان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی اُس وقت کے صوبہ سرحد اور بلوچستان میں واحد اکثریتی پارٹی بن کر ابھری، یہی انتخابات بالآخر پاکستان کی علیحدگی پر منتج ہوئے۔ میر غوث بخش بزنجو سقوطِ ڈھاکہ کے چشم دید گواہ ہیں۔ اس وقت کے تنازعہ کے تمام فریقوں کے ساتھ وہ مذاکرات میں شامل رہے۔ یہ درست ہے کہ قیام پاکستان سے قبل وہ کانگریس کے ساتھ تھے اور پاکستان بننے کے مخالف تھے، تاہم جب یہ ملک بن گیا تو اس…
آج آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے پانچ سال پورے ہوگئے ہیں جس میں 150 کے قریب بچے نہایت سفاکی کے ساتھ شہید کردیے گئے تھے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ نقصان اُٹھایا اور اس عفریت نے ہزاروں شہریوں کی جانیں بھی نگلیں لیکن 2014ء کا حملہ ایسا سیاہ دن ہے جس کے گھاؤ کبھی مندمل نہیں ہوپائیں گے۔ یہ ملک کے ہر باسی کو گہرے دکھ کے احساس میں مبتلا رکھتا ہے اور ڈیڑھ سو خاندانوں پر ہر صبح سکول کا وقت ایک قیامت بن کر گزرتا ہے۔ اس سانحے کے بعد دہشت…
