Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»مدارس کے سماجیات کے مسائل شجرِممنوعہ کیوں؟
    رواں تبصرے

    مدارس کے سماجیات کے مسائل شجرِممنوعہ کیوں؟

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 28, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دو دن قبل کی خبر کے مطابق مانسہرہ کے مدرسہ میں ایک استاد دس سالہ بچے کو مسلسل جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا جس کی وجہ سے بچے کی آنکهوں سے خون رسنا شروع ہوگیا. مدرسہ بند کردیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ نے تفتیش کا حکم دیا ہے۔

    مدارس سے متعلقہ مسائل جہاں ایک طرف متوع اور نہایت اہمیت کے حامل ہیں وہیں وہ ایک خاص قسم کی حساسیت اور پیچیدگیاں بهی رکهتے ہیں. مدارس کے معاشرے پر اثرات کا دائرہ مختصر نہیں ہے بلکہ وسیع ہے لیکن اس کے ساتهہ بڑی مشکل یہ ہے کہ اس حلقے کے ساتهہ جڑے مسائل پر بات کرنا آسان نہیں. زیادہ سے زیادہ نصاب سازی اور فرقہ واریت کے کنٹرول پر بات چیت ہوتی ہے لیکن اس کے اندر کے نظم وضبط، رہن سہن، رویوں اور سماجیات کے مسائل کو زیربحث لانا ایک ممنوع موضوع ہے اور تحقیق کے لیے ناقابلِ رسائی بهی. اس حوالے سے نہ ریاست کے پاس کوئی اعدادوشمار ہیں، نہ کسی نجی تنظیم کے پاس اور نہ ہی خود مدارس اس کا تجزیہ کرنے کو اہم خیال کرتے ہیں۔

    سماجیات سے جڑے ان مسائل میں سے ایک بچوں کے ساتهہ جنسی زیادتی کا قضیہ بهی ہے. یوں تو یہ مسئلہ پورے معاشرے میں سفاکانہ حد تک ممنوعہ موضوع ہے اور ایسے واقعات پر ردعمل آئے بهی تو شورشرابے سے آگے نہیں بڑهتا، تاہم مدارس کے حلقے میں رونما ہونے والے جنسی زیادتی کے واقعات کا معاملہ  ایک تو پوری طرح واضح نہیں ہے کہ اس کی سطح کیا ہے، اس پر نہ تحقیق ہوتی ہے نہ بات کی جاتی ہے. مزیدبرآں اس کا تناظر بهی باقی معاشرے کی نسبت سے الگ ہے. لہذا اس کا نقصان صرف جرم کے اثرات تک رہنے کی بجائے مدارس کی اخلاقی ساکهہ اور مذہبی تشخص پر سوالیہ نشان کھڑا کرنے تک پهیلا ہے۔

    ہر مسلک کے مدارس کے وفاق قائم ہیں. ان کی کمیٹیوں اور اجلاس میں سماجیات سے جڑے ایسے مسائل کبهی زیربحث نہیں آتے. نہ کسی وفاق نے اپنے ذیلی مدارس کو ان امور میں توجہ دینے کی باقاعدہ تاکید کی ہے نہ ان سے رہن سہن و نظم وضبط کی شفافیت کی رپورٹ طلب کی جاتی ہے۔

    اہل مدارس کو سمجهنے کی ضرورت ہے کہ یہ معاملہ صرف انا کا یا طبقاتی نہیں ہے کہ اس پر کھل کے بات نہ کی جاسکے، بلکہ انسانی اور معاشرتی ہے اور اس کو نظرانداز کرنے کے بهیانک اثرات سامنے آرہے ہیں. ان کی طبقاتی خیرخواہی بهی اسی میں ہے کہ وہ ان معاملات میں قابلِ قدر توجہ دیں. اگر وہ کسی اور کے ان میں بات کرنے یا تحقیق کرنے سے گریزاں ہیں تو خود ہی اس کی سنگینی کو دیکهتے ہوئے اقدامات کرلیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعالَم اسلام میں ایک نیا سیکولرزم اُبھر رہا ہے
    Next Article اگر بے نظیر بھٹو زندہ ہوتیں !
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by