وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ دو ہفتوں سے کتابی میلے لگے ہوئے ہیں ایک آکسفورڈ پبلشرز نے لگایا تو دوسرا نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ، آکسفورڈ کی جانب سے پاکستان میں کتاب کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے جو کاوشیں ہو رہی ہیں وہ لائقِ تحسین ہیں ۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن بھی اپنے متحرک ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی قیادت میں شبانہ روز سرگرم ہے ۔ یقیناً انعام الحق جاوید نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کو بہت آگے لا کھڑا کیا ہے ۔ مگر اس کتابی میلے میں ایک برادر اسلامی ملک سے منسلک ایک مذہبی اشاعتی ادارے کو…
Author: رواں تبصرے
پانامہ کیس کا فیصلہ آئے ہوئے کم و بیش چوبیس گھنٹے گزر چکے ہیں ۔یہ شاید تاریخ کا واحد فیصلہ ہے جس میں دونوں فریقین مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں پانامہ کیس کا فیصلہ آئے ہوئے کم و بیش چوبیس گھنٹے گزر چکے ہیں ۔یہ شاید تاریخ کا واحد فیصلہ ہے جس میں دونوں فریقین مٹھائیاں بانٹ رہے ہیں ۔ پاکستان میں سیاسی فیصلوں کی ایک طویل تاریخ ہے اور اکثر فیصلے متنازعہ ہی قرار پائے ہیں ۔اس کی ایک وجہ تو ماضی میں عدلیہ کی ماتحتی تھی لیکن اب کم از کم اعلی ٰ عدلیہ کو انتظامیہ سے مکمل آزاد…
روزانہ واک کرنے کے علاوہ سیاحوں کی ایک بڑی تعداد بھی آتی ہے جو فطرت سے لطف تو اٹھاتے ہیں مگر اس کی حفاظت کا انہیں کوئی شعور نہیں اس لئے وہ جلتے ہوئے سیگریٹ یہاں پھنکتے ہیں جن سے آگ بھڑک اٹھتی ہے ۔ دوسری وجہ یہاں کے دیہاتی اور ٹمبر مافیا بھی ہے اسلام آباد کی خوبصورتی اس کی مارگلہ کی پہاڑیاں ہیں جنہوں نے دو اطراف سے اسے گھر رکھا ہے ۔ مگر ہر سال ان پہاڑیوں کا ایک بڑا حصہ جل کر راکھ ہو جاتا ہے اس سال بھی یہاں پر آگ لگنے کے کئی واقعات…
افغانستان میں پراکسی وار ایک نئے اور مزید خوفناک دور میں داخل ہو رہی ہے ۔پاکستان، افغانستان میں ہونے والی کسی بھی تبدیلی سے الگ نہیں رہ سکتا پاکستان کی سرحد سے متصل افغان صوبہ ننگر ہار میں امریکہ نے روایتی بموں میں سب سے بڑے بم کا استعمال کیا ہے ۔آٹھ ہزار کلو گرام وزنی اس بم کو ‘‘بموں کی ماں ’’ کہا جاتا ہے ۔یہ بم جس علاقے میں گرایا گیا اس میں داعش کے ٹھکانے تھے ۔اس بم کے نتیجے میں کیا نقصانات ہوئے ہیں اور امریکہ نے کیا اہداف حاصل کئے ہیں اس بارے میں تو…
سٹی ڑپورٹنگ زوال پزیر ہے یامیڈیا کے اداروں میں بیٹھے مدیروں کو اس کی خود بھی شُد بد نہیں ہے اس کی وجہ جو بھی ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے شہروں کے مسائل کی ایک وجہ میڈیا میں ان مسائل کے بارے میں بہت محدود کوریج ہے ۔ پاکستان میں آپ کسی چھوٹے شہر میں جا کر کسی رکشے والے سے بھی بات کریں تو آپ اس کی عالمی معلومات پر دنگ رہ جائیں گے ۔مثال کے طور پر اسے امریکی صدر ٹرمپ کے شب وروز کے بارے میں علم ہو گا ،شام میں کیا ہو رہا…
ٹرمپ انتظامیہ کے کسی اعلیٰ عہدے دار کی جانب سے یہ بیان امریکہ کی کشمیر پر پالیسی شفٹ کا عکاس ہے کیونکہ اس سے قبل امریکہ کی سابق حکومتیں اسے دوطرفہ مسئلہ قرار دے کر دونوں ممالک پر زور دیتی آئی ہیں امریکی صدر ڈونلڈ جب بر سر اقتدار آئے تھے تو انہوں نے عندیہ تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر حل کرانے کی کوشش کریں گے۔اس کا عملی ثبوت اس وقت آیا جب دو روز پہلے اقوام ِ متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے اس سلسلے میں پالیسی بیان دیا ۔بھارتی نژاد نکی ہیلی…
ایف آئی آر کا اندراج پولیس کا فرض ہے ۔مگرعموماً دیکھا گیا ہے کہ پولیس سنگین جرائم میں بھی ایف آر درج نہیں کرتی ۔جس ایک مقصد حکام کو جرائم کی شرح کم دکھانا بھی مقصود ہوتا ہے ۔ ایف آئی آر کا اندراج پولیس کا فرض ہے ۔مگرعموماً دیکھا گیا ہے کہ پولیس سنگین جرائم میں بھی ایف آر درج نہیں کرتی ۔جس ایک مقصد حکام کو جرائم کی شرح کم دکھانا بھی مقصود ہوتا ہے ۔خیبر پختونخواہ پولیس نے اس سلسلے میں عوام کی کچھ تشفی کی جس میں سائلین کوفوراً ایف آئی آر کی کاپی دی جاتی…
پاکستان میں امن اب دہشت گردی کے واقعات کے درمیانی عرصے کو کہا جاتا ہے ۔ایک بڑا واقعہ ہوتا ہے تو ہر طرف مذمت کا شور اٹھتا ہے ۔مطالبات ہوتے ہیں پرانا عزم نئے ولولے سے دہرایا جاتا ہے مگر پھر وہی ڈھاک کے تین پات پیر کا دن پاکستان کے لئے بھاری ثابت ہوا ۔اس روز ملک میں دہشت گردی کی پانچ بڑی وارداتیں ہوئیں ۔لاہور میں مال روڈ پردھماکہ ہواجس میں 13 افراد شہید اور 70 سے زائد زخمی ہوئے ۔کوئٹہ میں ایک بم کوناکارہ بناتے ہوئے بم ڈسپوزل پولیس کے دو اہلکار جانبحق اورآٹھ زخمی ہوئے ۔ وانا میں ایف سی…
یہ قرارداد15اکتوبر1999 کو مظو ر کی گئی تھی جس میں القائدہ اور طالبان رہنماؤں کے نام شامل کئے گئے تھے پاکستان کی وزارت ِ داخلہ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت 38 سرکردہ رہنماؤں کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کئے ہیں ۔یہ اقدام سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر1267 کے تحت اٹھایا گیا ہے ۔یہ قرارداد15اکتوبر1999 کو منظور کی گئی تھی جس میں القائدہ اور طالبان رہنماؤں کے نام شامل کئے گئے تھے ۔بعد ازاں 10دسمبر2008 کو اس قرارداد میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اس میں جو نام شامل کئے گئے ان میں حافظ سعید، ذکی الرحمٰن لکھوی ،لشکر طیبہ کے شعبہ…
یہ تناز عہ کہ قائد اعظم جھرک میں پیدا ہوئے تھے یا وزیر مینشن میں اپنی جگہ لیکن کلیم لاشاری کا موقف بہت دلچسپ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قائد اعظم کی جائے پیدائش نا تو وزیر مینشن ہے اور نا ہی جھرک. قائد اعظم محمد علی جناح کی تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش کے حوالے سے مختلف تضادات پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔ تاریخِ پیدائش کے بارے میں دو مختلف تاریخوں کے حوالے سے قائد اعظم کی سوانح حیات لکھنے والے جی الانا اِس کا ذکریوں کیا ہے، کتاب کے…
