Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر1267 اور حافظ سعید
    رواں تبصرے

    سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر1267 اور حافظ سعید

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےفروری 2, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    یہ قرارداد15اکتوبر1999 کو مظو ر کی گئی تھی جس میں القائدہ اور طالبان رہنماؤں کے نام شامل کئے گئے تھے

    پاکستان کی وزارت ِ داخلہ نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید سمیت 38 سرکردہ رہنماؤں کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کئے ہیں ۔یہ اقدام سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر1267 کے تحت اٹھایا گیا ہے ۔یہ قرارداد15اکتوبر1999 کو منظور کی گئی تھی جس میں القائدہ اور طالبان رہنماؤں کے نام شامل کئے گئے تھے ۔بعد ازاں 10دسمبر2008 کو اس قرارداد میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اس میں جو نام شامل کئے گئے ان میں حافظ سعید، ذکی الرحمٰن لکھوی ،لشکر طیبہ کے شعبہ مالیات کے سربراہ حاجی اشرف ،لشکر طیبہ سے منسلک سعودی شہری محمود محمد احمد بھاذق ،اورتنظیم کے میڈیا کے شعبے سے وابستہ محمد یحیٰ مجاہد  بھی شامل تھے مگر اسی قرارداد میں لشکر طیبہ کے ساتھ جن دیگر تنظیموں پر پابندی لگائی گئی تھی ان میں الرشید ٹرسٹ اور الاختر ٹرسٹ بھی شامل تھے ۔بعد ازاں اس قراداد میں مزید جن تنظیموں اور افراد کو شامل کیا گیا ان میں حرکت المجاہدین کو6اکتوبر2001کو شامل کیا گیا۔جیشِ محمدکو17 اکتوبر2001 ،الحرمین فاؤنڈیشن پاکستان ،26  جنوری 2004 ،حرکت الجہاد الاسلامی 6 اگست2010اور ظفر اقبال 14 مارچ2012 کو اس قرارداد کا حصہ بنایا گیا۔

    حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نے یہ کارروائی اسی قرارداد کے پس منظر میں کی ہے ۔سوال یہ ہے کہ لشکر طیبہ اور اس کے رہنماؤں کے نام تو سات سال پہلے اس قرارداد میں شامل کئے گئے تھے ۔حکومت کو اس قرار داد پر عمل در آمد کاخیال اتنی دیر سے کیوں آیا۔دوسرااہم سوال یہ بھی ہے کہ اس قرارداد میں شامل دیگر شخصیات اورتنظیموں کے بارے میں حکومت ابھی تک کیوں خاموش ہے ؟کیا اس کا واضح مطلب یہ نہیں کہ بھارتی حکومت نے امریکہ کے ذریعے پاکستان پر دباؤ بڑھایا ہے کہ وہ لشکر طیبہ کے رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرے اور یہ کارروائی اسی پس منظر میں کی گئی ہے۔اگر سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل در آمد کا مسئلہ ہوتا تو پھر باقی شخصیات اور تنظیموں کے خلاف بھی کارروائی ہوتی ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبشارالاسد کی بیماری کا معمہ
    Next Article دہشت کا سرچشمہ (دولت اسلامیہ کی تاریخ )،فواذ اے جارج کی کتاب پر تبصرہ
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by