Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»پولیس کا ڈھانچہ تبدیل کیا جائے
    رواں تبصرے

    پولیس کا ڈھانچہ تبدیل کیا جائے

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےاپریل 2, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    ایف آئی آر کا اندراج پولیس کا فرض ہے ۔مگرعموماً دیکھا گیا ہے کہ پولیس سنگین جرائم میں بھی ایف آر درج نہیں کرتی ۔جس ایک مقصد حکام کو جرائم کی شرح کم دکھانا بھی مقصود ہوتا ہے ۔

    ایف آئی آر کا اندراج پولیس کا فرض ہے ۔مگرعموماً دیکھا گیا ہے کہ پولیس سنگین جرائم میں بھی ایف آر درج نہیں کرتی ۔جس ایک مقصد حکام کو جرائم کی شرح کم دکھانا بھی مقصود ہوتا ہے ۔خیبر پختونخواہ پولیس نے اس سلسلے میں عوام کی کچھ تشفی کی جس میں سائلین کوفوراً ایف آئی آر کی کاپی دی جاتی ہے اس کے علاوہ وہاں پر آن لائن ایف آئی آر کا اندراج بھی روشناس کرا دیا گیا ہے ۔

    پنجاب اور سندھ میں پولیس کی حالت دگرگوں ہے ۔افسران  سےپوچھیں تو وہ وسائل کا رونا روتے ہیں۔لیکن وہ اس بات کا جواب نہیں دیتے کہ جوفورس موجود ہے کیا وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہی ہے ؟ پاکستان کا مخصوص دیہاتی کلچر جس میں لڑائی جھگڑے اور  تھانہ  کچہری معمول کی بات ہے اور اسی دیہاتی کلچر کی ایکسٹینشن کے طور پر پھیلتے ہوئے شہروں میں بھی وہی کلچر در آیا ہے ۔اسی لئے دیہات ہوں یا شہر پولیس با ثر افراد کی مددگار فورس کا روپ اختیار کر چکی ہے ۔عام آدمی کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔

    دہشت گردی کی ایک وجہ سماجی ناہمواریاں اور نا انصافی بھی ہے ۔جب لوگوں کو ان کے حقوق نہیں ملتے تو پھر وہ ایسے دلفریب بیانیوں کا شکار ہو جاتے ہیں جس میں انہیں ریاست اور اس کےاداروں کے خلاف اکسایا جاتا ہے ۔پاکستانی معاشرے میں انصاف کے جنازے نے بھی یہاں پر بے گناہوں کی میتوں کے انبار لگا دیئے ہیں ۔ ہمارے حکمران ابھی تک روایتی سوچ کا شکار ہیں ۔اس لئے دہشت گردی کے  خلاف جنگ میں اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانے کے باوجود پولیس کے ادارے کو جدید خطوط پر استوار نہیں کر سکے ۔ جو پولیس روایتی جرائم کی روک تھام میں ناکام ہو چکی ہو اس سے آپ کیسے توقع کرتے ہیں کہ وہ دہشت گردی کا خاتمہ کر دے گی ۔پولیس میں مکمل اصلاحات کی ہی نہیں بلکہ  اس کا ڈھانچہ از سر نواستوار کرنے کی ضرورت ہے ۔اس سلسلے میں کئی اداروں نے تحقیقاتی کام کیا ہوا ہے اور ان ممالک کے ماڈلز کو بھی اپنایا جا سکتا ہے جنہوں نے نو آبادیاتی دور کے بعد پولیس میں اصلاحات کی ہیں ۔

    جب تک قوم میں تحفظ کا احساس بحال نہیں ہو گا ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ۔اگر پولیس صرف امرا کے مفادات کے  تحفظ کے لئے رہ گئی ہے تو پھر آپ معاشرے میں شدت پسند بیانیوں کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے ۔

    پولیس کو حوالے سےآپ کیا سوچتے ہیں ؟ نیچے کمنٹس میں اپنی  آرا درج کریں :

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدہشت گردی کی جڑ اور اس کی تاریخی نظیر
    Next Article جامع اور روادار تعلیمی بیانئے کے فروغ کی ضرورت
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by