Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»رواں تبصرے»قومی کتاب میلے میں شدت پسند ی پر مبنی کتابیں
    رواں تبصرے

    قومی کتاب میلے میں شدت پسند ی پر مبنی کتابیں

    رواں تبصرےBy رواں تبصرےاپریل 25, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔2 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    وفاقی دارالحکومت میں گزشتہ دو ہفتوں سے کتابی میلے  لگے ہوئے ہیں ایک آکسفورڈ پبلشرز نے لگایا تو دوسرا نیشنل بک فاؤنڈیشن نے ، آکسفورڈ کی جانب سے پاکستان میں کتاب کے کلچر کو فروغ دینے کے لئے جو کاوشیں ہو رہی ہیں وہ لائقِ تحسین ہیں ۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن بھی اپنے متحرک ایم ڈی ڈاکٹر انعام الحق جاوید کی قیادت میں شبانہ روز سرگرم ہے ۔ یقیناً انعام الحق جاوید نے نیشنل بک فاؤنڈیشن کو بہت آگے لا کھڑا کیا ہے ۔ مگر اس کتابی میلے میں ایک برادر اسلامی ملک سے منسلک ایک مذہبی اشاعتی ادارے کو بھی نہ صرف سٹال لگانے کی اجازت دی گئی بلکہ اسے میلے میں سب سے نمایاں جگہ دی گئی ۔ یہ مذہبی اشاعتی ادارہ ایک خاص قسم کا مذہبی لٹریچر چھاپتا ہے اور ان میں سے اکثر کتابیں بیرون ملک سے ہی چھپ کر آتی ہیں ۔ اس دارے کے سٹال پر جو کتابیں موجود تھیں وہ اسی بیانئے کے ارد گرد گھومتی ہیں جو شدت پسند بیان کرتے ہیں ۔ ایک بات تو یہ کہ خالصتاً ایک ادبی کتابی میلے میں کیا کسی مذہبی اشاعتی ادارےکو اور وہ بھی ایسا جس کی جڑیں ملک سے باہر ایک مخصوص مکتب ِ فکر سے ہیں ، اس کو سٹال لگانے کی اجازت ملنی چاہئے تھی ؟ اور دوسرا یہ کہ جب نیشنل ایکشن پلان کے تحت نفرت انگیز مواد کے خلاف کام ہو رہا ہے اور اس تمام لٹریچر کے خلاف جس سے بین المسالک یا بین المذاہب ہم آہنگی کونقصان پہنچ رہا ہے یا انتہا پسندی پنپ رہی ہے ۔ مگر دوسری جانب نیشنل بک فاؤنڈیشن جیسے اعلی ٰ وفاقی ادارے کے زیر اہتمام میلے میں ایسی کتب فروخت ہو رہی تھیں ۔ اس سٹال پر جو کتب موجود تھیں یہ وہی ہیں جن سے القاعدہ اور داعش نے فکری بیانیہ مرتب کیا ہےاور پاکستان کے شدت پسند گروپ بھی انہی سے اپنی کارروائیوں کا جواز تراشتے ہیں ۔

    اس بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں ؟ ریاست انتہا پسندی کے خلاف تضادات کا شکار کیوں ہے ؟ کیا کسی خالص ادبی میلے میں کسی مخصوص مکتب فکر سے وابستہ تنظیم کو اپنا سٹال لگانے کی اجازت دی جانی چاہئے تھی ؟ اس حوالے سے آپ بھی  اپنی رائے کا اظہار کریں :

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشدت پسندی کا تعاقب
    Next Article بالآخر ہجرت کو تم سے لپٹنا ہی تھا
    رواں تبصرے

    Related Posts

    سہ ماہی تجزیات کے نئے شمارے میں کیا کچھ شامل ہے؟

    اگست 6, 2025

    فلم دی لیجنڈ آف مولا جٹ : پنجابی ثقافت کے تناظر میں

    اکتوبر 24, 2022

    داعش کی مضبوطی کے امکانات بڑھ رہے ہیں

    اکتوبر 4, 2022
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by