’’اندلس اے اندلس!‘‘ ہسپانیہ مسلم تاریخ کا درخشندہ باب ہے جو آج بھی مسلم ذہن کو مسحور کیے ہوئے ہے۔ اردو ادب میں اس کا حوالہ کب، کیسے اور کس پیرائے میں آیا اور اس نے ’’کلٹ آف سپین‘‘ یا ’’عشقِ اندلس‘‘ کی صورت اختیار کر لی، اس پر ڈاکٹر خالد مسعود نے کھوج کی ہے اور قارئینِ تجزیات کے لیے موضوع کی نئی جہتیں سامنے لائے ہیں۔ عشقِ اندلس کا مسلم قومی شناخت کی تشکیل میں کیا کردار رہا ہے اور کس طرح یہ علمی بحثوں کا محور رہا، تاریخ پس منظر، اور سفرناموں سے ہوتا ہوا اردو شاعری…
Author: ڈاکٹر خالد مسعود
یوں تو پاکستان کے کئی شہروں میں گھنٹہ گھر ہیں لیکن مشہور فیصل آباد کا ہی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس گھنٹہ گھر کی وجہ سے فیصل آباد میں آدمی گم نہیں ہو سکتا کیونکہ جدھر بھی جائیں گھنٹہ گھرسامنے رہتا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام آباد میں آئے دن لوگ اس لئے گم ہو جاتے ہیں کہ یہاں گھنٹہ گھر نہیں ہے۔ یوں بات سے بات نکالنا ایسی ہی بے معنی جگت بازی ہے جیسے آج کل جس ٹی وی چینل پر جائیں رانا ثناءاللہ ہی دکھائی دیتے ہیں تو کوئی کہے کہ فیصل آباد…
پاکستان کے لبرلز کے بارے میں عامر رانا صاحب کا رنجیدہ رنجیدہ مقالہ پڑھا۔ کہتے ہیں پاکستان میں جب بھی بحران آئے لبرل کی شامت آتی ہے۔آخر میں انہوں نے ایک معصومانہ سوال بھی کیا ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ وہ اپنے سوال کے جواب میں جس نتیجے پر پہنچے ہیں اس سے ان کی لبرل معصومیت کن اکھیوں سے جھانکتی نظر آرہی ہے۔ ہمیں توان کا مقالہ پڑھ کر کوکلا چھپاکی کا کھیل یاد آگیا۔ سب بچے ایک گول دائرے میں بیٹھ جاتےہیں۔ ان میں سے ایک کو کوڑا پکڑا دیا جاتا ہے جو عام طورپر کسے…
معروف صحافی جناب رؤف کلاسرا مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اسلام آباد میں درختوں کے قتل عام پر آواز اٹھائی ہے۔ ان کے میڈیا میں رنج اور افسوس کےاظہار سے پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کا گلہ بجا ہے لیکن تاریخ شاہد ہے کہ قتل عام ہمیشہ کسی اعلی مقصد کے لئے ہوتا ہے اور اس کی کوئی حکمت عملی ہوتی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ اسلام آباد میں درختوں کے قتل عام کے مقصد اور حکمت عملی سے آگاہی ہمیں بھی نہیں۔ لیکن ہم ایک پیج پر رہنے کے…
سیکولرزم مسلم فکر اور سماج کے لیے ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ مسلم فکر خواہ وہ مذہبی ہو، سماجی یا سیاسی اس کی ایک پوری روایت سیکولرزم کے ردوقبول پر قائم ہے۔ یہ بحث ریاست کی تشکیل، معاشرے کے خدوخال اور انفرادی آزادیوں سے لے کر ثقافتی اور سماجی اظہار تک پھیلی ہے۔ ڈاکٹر محمد خالد مسعود نے اس ساری بحث کو، پس منظر، تناظر اور اس کے اطلاقی پہلو سمیت، اس مختصر مضمون میں سمیٹا ہے اور واضح کیا ہے کہ مختلف مسلم معاشروں میں سیکولر ازم نے کیا چیلنج کھڑے کیے اور ردِ عمل کی نوعیت کیا رہی۔…
المیہ یہ نہیں کہ پاکستان میں مالیخولیا کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے المیہ یہ ہے کہ کسی کو صحیح علم ہی نہیں ہے کہ یہ بیماری ہے کیا۔ کوئی اسے پاگل پن سمجھتا ہے، کوئی ذہنی دباؤ۔ حتی کی ڈکشنری میں بھی اسے جنون، سودا، وحشت اور گھبراہٹ بتایا گیا ہے جس میں دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ ڈاکٹر بھی اسے ذہنی بیماری سمجھتے ہیں۔ حالانکہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ مالیخولیا مال کی ہوس کی بیماری ہے یہی وجہ ہے کہ بیمار بھی ڈاکٹر کی بات نہیں مانتا نہ…
ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ایک اوٹ پٹانگ عہد میں جی رہے ہیں۔ ایک طرف شمالی کوریا کے کِم جونگ ہیں اور دوسری طرف شمالی امریکہ کے ٹرمپ۔ ان کے بیچ میں ہم۔ ان دونوں کو اوٹ پٹانگیاں مار نے میں کمال حاصل ہے۔ ایک عرصے تک کم جونگ کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ لیکن اب کم جونگ خوشی سے جامے میں نہیں سما رہے کہ دوسرے لیڈر بھی اوٹ پٹانگ ہوتے جارہے ہیں۔ پاکستان پر بھی دباو بڑھ رہا ہے اورپاکستان مقدور بھر کوشش بھی کر رہا ہے۔ لیکن پاکستان کا حالیہ "کیوں نکالا” والا آئیٹم ہٹ نہیں…
پاکستان مخمصہ پسند ملک ہے۔ ہمیں ہر روز نیا مخمصہ چاہیے۔ اور نیا نہ ملے تو پچھلے کو ہی اتنا گھسیٹتے ہیں کہ صیقل ہوکر نیا لگنے لگتا ہے۔ اب پانامہ کو ہی لیجئے اس میں کیا نیا تھا۔ رشوت کب نہیں لی جاتی تھی اور کون نہیں لیتا تھا۔ منی لانڈری بھی کوئی عجوبہ نہیں رہا۔اقربا نوازی بھی صدیوں پرانی ہے۔ ہم نے ان کو مذہب اور اخلاق کا مسئلہ بنا کر اور صادق اور امین سے جوڑ کر اچھا خاصہ مخمصہ بنا لیا۔ سب جانتے ہیں کہ اصل مسئلہ رشوت اور اقربا پروری نہیں جمہوریت ہے جو…
ہم مستقبل کو ماضی بعید سمجھ کر جیتے ہیں۔ اس انقلاب آفریں طرز زندگی کا ثمر ہے کہ اب ہم صحیح معنوں میں عوامی جمہوریت جینے کا سوچ رہے ہیں۔ عدل و انصاف، جمہوریت، الیکشن، اور آئین جیسے مسائل کے جھنجٹ نے عوامی جمہوریت کا راستہ روکا ہوا ہے۔ آج ہم سترسال کے ہوگئے ، نہ سٹھیائے نہ سترے۔ ہماری ستر سالہ کامیاب زندگی کا راز یہ ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں ۔ ہم حال سے بے گانہ اور مستقبل سے بے پروا ہوکر جیتے ہیں۔ یہ سب ممکن یوں ہوا کہ ہم نے ماضی میں جینا سیکھ لیا…
ایک وفا شعار بیوی کا یہ درد ناک سوال آج تک کانوں میں گونجتا ہے۔ بے چاری اتنی دیر سے دفتر سے آنے کا سبب پوچھ رہی تھیں اور حضرت مکمل بے اعتنائی سے کسی کریم کا نام لے رہے تھے۔ وفا شعار کو شک تو تھا لیکن یقین نہیں تھا کہ کریم مرد ہے یا عورت۔ جھنجلاہٹ میں محتاط خفگی کی وجہ سے سوال دھیما ہوتا ہوتا صرف گلہ بن کر رہ گیا تھا۔ یہ کریم کون ہے؟ معلوم نہیں اس سوال جواب کا نتیجہ کیا نکلا ہوگا۔ افسوس یہ ہے کہ ایک لیموزین سروس نے اپنا کاروبار…
