لبرل ازم نے دنیا کو کیا سمت دی ہے اور اس کی اقدار کس نوع کے سماج کو تشکیل دینے میں کامیاب ہوئی ہیں ؟ مسلم دنیا کے عوام لبرل ازم اور جدیدیت کو اب تک مشکوک سمجھتے ہیں، ان کے خیال میں یہ اسلام کے متوازی نظام ہے۔ جبکہ مغربی دنیا میں یہ تأثر اُبھرتا نظر آیا ہے کہ آج کے معاشروں میں جو ناہمواری غالب آرہی ہے اس کا ذمہ دار لبرل ازم ہے۔لبرل ازم پر عدم اعتماد اور تنوع سے خوف عصرحاضر کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ مغربی معاشرے کے بعض سیاسی ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ لبرل ازم کی اقدار نے مسلم تہذیب کو ان کے سماج میں پنپنے کا موقع دیا ہے۔ م4سلمانوں نے مغربی ممالک میں آکر بھی اپنی مخصوص اقدار اور طرززندگی سے دستبرداری اختیار نہیں کی بلکہ انہیں یہ خوف ہے کہ رفتہ رفتہ وہ مغرب کے سماجی ڈھانچے پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد مسعود کانام محتاجِ تعارف نہیں۔ ان کا شمار اسلامی قانون پر دسترس رکھنے والی چند نمایاں شخصیات میں ہوتا ہے۔انہوں نےزیرنظر مضمون میں لبرل ازم ، تنوع اور آزادی کے حوالے مختلف زایوں کے تاریخی پس منظر اورحالیہ بے چینی پر تحقیقی انداز گفتگو کی ہے۔(مدیر)
Author: ڈاکٹر خالد مسعود
کبھی آپ نے غور کیا کہ تعلیم و تربیت کا ذکر آتے ہی مار پیٹ کیوں یاد آتی ہے؟ ہمارے ہاں والدین اپنے لخت جگر کو استاد اور میاں جی کے حوالے کرتے ہوے یہ کیوں کہتے ہیں کہ ہڈیاں ہماری اور کھال تمہاری؟ قرآنی مدارس خصوصاً حفظ کے تعلق سے جو کہانیاں سننے میں آتی ہیں ان کی وجہ سے بھی یہ مشہور ہوگیا ہے مار پیٹ اسلامی تعلیم و تربیت کا لازمی حصہ ہے۔ اس مضمون میں ہم اسلامی روایت کے حوالے سے ان سوالوں کا جواب تلاش کریں گے۔ تربیت کا تعلیم کے ساتھ ذکر ہو تو…
گالیاں کل تک راندہ درگاہ تھیں۔ ہم وثوق سے نہیں کہ سکتے کہ آج انہیں جو عزت مل رہی ہے یہ ان بد قسمتوں کے حق آزادی کا اعتراف ہے، بالی وڈ کی نقالی ہے، گو رے میڈیا سے ٹرینڈی ہم آہنگی کی علامت ہے، گالیوں والے آئیٹموں کی بڑھتی ہوئی ریٹنگ ہے یا میڈیا کے شیریں لبوں کی وہ جادوگری ہے کہ بقول غالب گالیاں سن کے رقیب بھی بے مزہ نہیں ہوتے۔ دشمن کے خلاف ہو یا دوست کے، ہر گالی پر لوگ خوشی سےجھومنے لگتے ہیں کہ برق سی گر گئی، کام ہی کر گئی آگ ایسی…
سوشل برین آج کے علم نفسیات کا سلگتا موضوع بن گیا ہے۔ یہ دراصل سماجی شناخت کا ذیلی موضوع ہے جو جدید معاشروں میں تنوع میں اضافے سے پیدا پیچیدہ مسائل کے مطالعے کا نام ہے۔ بیسویں صدی میں زبان، نسل اور ثقافت میں تنوع کو خوش آمدید کہا گیا۔ کئی مغربی ممالک نے ملٹی کلچر کو اپنایا بھی۔ لیکن اکیسویں صدی میں ہر سیاسی، معاشی، اصلاحی اور سماجی ناکامی کا ملبہ سماجی تنوع پر ڈالاجارہا ہے۔ عالمی دہشت گردی، قومی ریاست کی ٹوٹ پھوٹ، فکری انتشار، معاشرتی بے چینی، اوراقتصادی بحران بلکہ ہر بحران کا سبب تنوع ہی بیان…
مسلم دنیا میں سیاسی نظمِ اجتماعی کے ڈھانچے کی تشکیل کا مسئلہ ابھی تک عملی سطح پر حل نہیں کیا جاسکا۔اسلامی ریاست، جمہوریت اور سیکولرزم جیسی اصطلاحات ابھی تک مبہم ومتنازعہ ہیں اور ان کے تشخص واثرات پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ڈاکٹر خالدمسعود کا نام محتاجِ تعارف نہیں،ان کا شمار اسلامی قانون پر دسترس رکھنے والی چندنمایاں شخصیات میں ہوتا ہے۔ زیرنظرمضمون میں انہوں نے اس مسئلے کا ماضی اور حال کے سیاسی فقہی ادب اور ریاستوں کے عملی تعامل کے تناظر میں جائزہ لیا ہے۔ان کے مطابق ماضی کی مسلم ریاستیں حقیقت پسند رہی ہیں اور عصرحاضر میں…
ویگنیں سیاسی پارٹیوں کی تمثیل ہیں۔ منزل کی ہانک لگا کر گھماتی پھرا تی ہیں اور شام کو وہیں پہنچا دیتی ہیں جہاں سے صبح مسافر نے سفر کا آغاز کیا تھا اناطول لیوین کی کتاب ’’پاکستان سخت جان ملک‘‘ تو 2011 میں شائع ہوئی لیکن پاکستانیوں کو اپنی سخت جانی کا پہلے سے پتا ہے۔ البتہ لیوین کوبھی یہ معلوم نہیں کہ اس سخت جانی کا اصل راز ہماری رُل جانے کی چَسْ ہے۔ یہ راز ہمیں ایک مسافر ویگن سے معلوم ہوا جس کے پیچھے یہ قول زریں لکھا تھا۔ ” رُل تے گئے آں پر َچسْ بڑی…
جب کوئی بات کہنے کے لئے زبان ساتھ نہ دے تو عام طور پر کہانی جانوروں کی زبانی کہی جاتی ہے۔ یہ روایت ملوکیت کے عہد میں عربی ادب سے شروع ہوئی جب کلیلہ و دمنہ جیسی کہانیاں فارسی اور ہندی سے عربی میں سنائی گئیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہی تھی کہ عرب اپنے سوا سب کو عجم یعنی گونگا سمجھتے تھے کیونکہ ان کو لگتا تھا باقی سب غوں غاں سے کام لے رہے ہیں اور بے زبان کی غوں غاں کا برا نہیں منایا جاتا۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ جانوروں کی کہانیاں کسی بھی…
آپ کو آئے یا نہ آئے لیکن ہمیں یقین ہے کہ غربت کا خاتمہ اسی سال ہونے والا ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، لیکن حد سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اس کا واضح ثبوت ہے کہ غربت اسی سا ل کوچ کر جائے گی۔ ہمیں یہ باتیں جس شخصیت نے بتائی ہیں وہ ملک کے ایک ماہر مویشیات ہیں۔ ہم ان کا نام اس لئے نہیں لے سکتے کہ انہوں نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آج کل اسٹیبلشمنٹ کوجس ٹیکنو کریٹ کا پتا چلتا ہے…
وہ تو بھلا ہو قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے چیئرمین جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہ انہوں نے 16 اپریل کو حکم سنا دیا کہ آج کے بعد کسی بھی گرفتار افسر کو ہتھکڑی نہیں لگائی جائے گی۔ ورنہ مملکت خداداد میں تو یہ چلن ہو چلا تھا کہ ہر ملزم اور مجرم کو ہتھکڑی پہنا کر کہا جانے لگا تھا کہ پاکستان میں قانون کی نظر میں سب ایک ہیں۔ ہتھکڑی کے بارے میں ایک صدی سے بحث مباحثہ چلا آرہا ہے۔ ان میں شعرا، سیاستدان اور ماہرین قانون سب اپنی اپنی کہے جارہے ہیں۔ اس کی وجہ…
ڈاکٹر خالد مسعود کا شمار دنیا میں اسلامی فقہ کے چند بڑے ماہرین میں ہوتا ہے۔ آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ، بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی اسلام آباد کے اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جنرل اورہالینڈ کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹڈی آف اسلام کے ڈائریکٹر رہے ہیں۔وہ عدالتِ عظمیٰ کے شریعت اپیلنٹ بنچ کے ایڈہاک ممبر بھی ہیں۔ڈاکٹر خالد مسعود سہ ماہی تجزیات اور تجزیات آن لائن میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ ان کا حالیہ مفصل مضمون اردو ادب میں سفرنامہِ حج کی روایت اوراس کے جدید اسالیب سے متعلق آگاہی فراہم کرتا ہے۔ یوں تو…
