پاکستان میں مکالمے کی اہمیت کا احساس تو ہمیشہ سے ہےاور ان دنوں اس کے رواج میں اضافہ بھی ہوا ہے، لیکن مکالمے کی ثقافت موجود نہ ہونے کی وجہ سے مکالمہ متوقع کردار ادا نہیں کر پارہا۔ مکالمہ بہت تیزی سے مگالمہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔گالم گلوچ ہی نہیں ہاتھا پائی بھی مکالمے میں شامل سمجھی جا نے لگی ہے۔مکالمے کا یہ انداز اب گلی محلے سے آگے اسمبلی کے باوقار ایوانوں، بلدیہ کی مجلسوں ، سرکاری اجلاسوں اور ابلاغ عامہ کے اداروں میں رواج پاچکا ہے۔ ٹیلی ویژن پر ٹاک شو میں یہ اہتمام شروع ہوا کہ …
Author: ڈاکٹر خالد مسعود
ڈاکٹر خالد مسعود کا شمار دنیا میں اسلامی فقہ کے چند بڑے ماہرین میں ہوتا ہے۔آپ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلا م آباد کے اسلامک ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹرجنرل اور ہالینڈ کے انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی سٹڈی آف اسلام کے ڈائریکٹر بھی رہے۔عدالتِ عظمی ٰ کے شریعت اپیلٹ بنچ کے ایڈہاک ممبر بھی ہیں۔ڈاکٹر خالد مسعود سہ ماہی تجزیات اور تجزیات آن لائن میں باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔ان کا حالیہ مفصل تجزیہ عرب بہار کے آٹھ سال بعد کی صورتِ حال کا احاطہ کرتا ہے اس کی اہمیت ا س لحاظ سے بھی دو…
پچھلے ہفتوں میں اخبارات ، ٹی وی اور سوشل میڈیا میں شیخو پورہ کی کیلوں کی ریڑھی کا بہت تذکرہ رہا۔ لکھا تو بہت گیا لیکن کسی نے اصل بات کا ذکر نہیں کیا۔ اس افسوس اور غصے کے اظہار تو کیا گیا کہ کیلے لوٹ کر کھائے گئے لیکن مملکت خدا داد کی کسمپرسی کا کسی نے ذکر نہیں کیا۔حالانکہ شیخو پورہ میں اس ظلم کے نام سے فوراً عدل جہانگیری اور اس کے حوالے سے مملکت خداداد کی یاد آنا چاہئے تھی ۔لکھنے والوں نے کیلے کھانے والوں کی نیک نیتی پر تو حرف گیری کی، کچھ نے…
اس کی ایک وجہ تو یہی سمجھ میں آتی ہے کہ پاکستان میں ہی نہیں دنیا بھرمیں قانون اور اخلاق میں فرق کیا جاتا ہے۔ لیکن الفاظ اس فرق کا ساتھ نہیں دیتے۔ ہم کہتے ہیں جب تک جرم ثابت نہ ہو اس وقت تک ہر شخص معصوم ہے۔ حالانکہ معصوم اسے کہتے ہیں جس نے کبھی کوئی غلطی نہ کی ہو اور عقیدے کی زبان میں معصوم وہ ہے جس سے غلطی کا امکان ہی نہ ہو۔ سنی اور شیعہ میں بڑا اختلاف اسی بات پر ہے کہ معصوم کون ہے اور کتنے ہیں؟ اختلاف کو بھول بھی جائیں…
یاد ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا یہ شعرہے تو جناب اختر انصاری کا لیکن عذاب ہمارے لیے بنا ہوا ہے۔ تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ ہر سال اگست میں یہ شعربہت یاد آتا ہے۔ اتنا کہ دھڑکا لگنے لگتا ہے کہ یہ ہماری دعا بن کر قبول نہ ہو جائے۔ ہر سال پاکستان کی کہانی سنائی جاتی ہے۔ اس لیے بنا اور اس لیے نہیں بنا۔ سال بہ سال نئی کہانیاں سننے میں آتی ہیں۔ ماضی کی یادیں دہرائی جاتی ہیں۔ کہانی کی کہانیاں بنتی جا رہی ہیں۔ پہلے پہلے کہانی سیدھی سادی…
خوشی کی بات ہے کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ الیکشن ووٹ کی عزت کے لئے ہورہے ہیں۔ فوج بھی یقین دلا رہی ہے کہ جمہوریت کی بقا اس کی ذمہ داری ہے۔ سیاست دان بھی اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے ، عوام حتمی عدالت ہیں اور الیکشن تطہیر یا لانڈری کا بہترین نظام ہیں۔ خوشی اس لئے ہے کہ دیر سے سہی لیکن آخر کار ووٹر کی نہ سہی ووٹ کی عزت نفس کا تو اعتراف کیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ لبرل سارے گلے شکوے فوجی آمریت کے نام کرکے اور مذہب…
آج علامہ اقبال کا یوم وفات ہے۔ اکثر سکولوں میں دن کا آغاز علامہ اقبال کی مقبول دعا سے ہوا ہوگا۔ علامہ نے اس دعا میں اس تمنا کا اظہار کیا تھا کہ جیسے شمع اندھیرے میں اجالا کردیتی ہے، ایسے ہی میری زندگی سے دنیا بھر میں روشنی پھیل جائے۔ جیسے پھول چمن کی زینت بنتا ہے، اسی طرح میں وطن کی زینت بنوں۔ غریبوں کی حمایت اور کمزوروں سے محبت میری عادت بنے۔ دعا ہے کہ اللہ مجھے نیک راہ پر چلائے اور برائی سے بچائے۔ علامہ اقبال کی یہ دعا قبول ہوئی اوران کے فکر کی روشنی…
سات اپریل ۲۰۱۸ کو جناب ظفراللہ خان کی تازہ کتاب”کسی اور زمانے کا خواب” (نیشنل بک فاونڈ یشن ۲۰۱۸) کی رونمائی کے بعد یہ بات کسی شک و شبہے کے بغیر کہی جاسکتی ہے کہ حقیقت پسند سیاست دان بھی خواب دیکھتے ہیں تاہم ان خوابوں کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سوتے میں دیکھے گئے ہیں۔ کسی اور زمانے کے خواب جاگتے لوگ ہی دیکھتے ہیں۔ خواب کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ خواب سوتے میں دیکھے جاتے ہیں لیکن جدید تحقیق سے پتا چلا ہے کہ انسان گہری…
ڈاکٹر خالد مسعود پاکستان میں ان چند افراد میں سے ایک ہیں جن کا فہم دینیات کے وسیع میدان سے سماجیات کے ہم عصر نظریات تک پھیلا ہوا ہے ۔ اسلامی فقہ ، قانون اور تاریخ کے ساتھ ساتھ فکر اقبال پر آپ کی نگاہ گہری ہے اور ان شعبوں میں متنوع موضوعات پر آپ کی تحقیقات اور تخلیقات بلامبالغہ سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہیں۔ زیر نظر مضمون بھی آپ کے دوررس قلمی سفر کا تسلسل ہے جس میں آپ جدید دور کی مذہبی تحریکوں کے تجزیئے میں درپیش مشکلات کا جائزہ لیتے ہیں۔ (از طرف مدیر) یورپ، امریکہ اور…
ابن سعد لکھتے ہیں کہ مجھے مسلم بن ابراہیم نے بتایا کہ انہوں نے ہشام الدستوائی نے اور انہیں عطا بن السائب نے کہا کہ جب ابوبکر خلیفہ چن لئےگئے تو ایک روز وہ بازار کی طرف جارہے تھے اور ان کے کندھے پر وہ کپڑا تھا جو وہ بازار میں بیچا کرتے تھے۔ انہیں حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ ملے۔ دونوں نے کہا اے رسول اللہ کے خلیفہ، آپ کہاں جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا بازار۔ دونوں نے کہا آپ کو تو مسلمانوں نے اپنے امور کی…
