Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مالیخولیا
    کالم

    مالیخولیا

    ڈاکٹر خالد مسعودBy ڈاکٹر خالد مسعوداکتوبر 9, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    المیہ یہ نہیں  کہ پاکستان میں مالیخولیا کی بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے المیہ یہ ہے کہ کسی کو صحیح علم ہی نہیں ہے کہ یہ بیماری ہے کیا۔ کوئی اسے پاگل پن سمجھتا ہے، کوئی ذہنی دباؤ۔ حتی کی ڈکشنری میں بھی اسے جنون، سودا، وحشت اور گھبراہٹ بتایا گیا ہے جس میں دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ تعجب تو یہ ہے کہ ڈاکٹر بھی اسے ذہنی بیماری سمجھتے ہیں۔ حالانکہ  نام سے ہی ظاہر ہے کہ مالیخولیا مال کی ہوس  کی بیماری ہے یہی وجہ ہے کہ بیمار بھی ڈاکٹر کی بات  نہیں مانتا نہ علاج کے لئے تیار  ہوتا ہے۔ اصرار کریں تو ڈاکٹر کو بائی پاس کرکے لندن کے کسی ہسپتال کا رخ کر لیتا ہے ۔

    مالیخولیا کے مریضوں کا حال دیکھنے سے ہی پتا چل جاتا ہے کہ یہ مال بنانے کی بیماری ہے۔ مال کمانا بری بات نہیں نہ ہی اسے بیماری کہا جا سکتا ہے۔ لیکن اس بیماری میں مال ودولت کی بھوک اتنی شدید ہو جاتی ہے کہ  مریض کے ہوش و حواس پر قبضہ کر لیتی ہے۔  وہ دولت جمع کرنے کے لئے منافع خوری، اجارہ داری، جائداد ہتھیاری، چوری، ہیرا پھیری، رشوت ستانی، رسہ گیری، منی لانڈری، بھتہ خوری، بلیک میلنگ ہر قسم کے جرائم میں سکون محسوس کرتا ہے اور لطف لیتا ہے۔ اپنے کارناموں پر فخر کرتا ہے۔ اسے جرم کا احساس نہیں ہوتا۔ کبھی ضمیر میں چبھن  نہیں ہوتی۔ وہ بے فکر ہو کر اپنے کاروباروں کو دنیا بھر میں وسعت دینے لگتا ہے۔

    اس کی بڑی وجہ تو یہی ہے کہ اول تو ڈاکٹر اسے بیماری نہیں سمجھتے ہیں،  دوسرے جب بیماری بڑھنے لگتی ہے تو وہ  چونکہ اسے ذہنی بیماری قرار دیتے ہیں ،اس کا نفسیاتی علاج کرنے لگتے ہیں۔  نفسیاتی علاج کے چکر میں  دوسرے سب لوگ بھی مریض کے ساتھ ہمدردی کرنے لگتے ہیں۔  مریض کو بھی لطف آنے لگتا ہے۔ وہ  بھی ڈاکٹروں کو چکر دینے  کے لئے  ہر وقت شکایت کرتا ہے کہ وہ دشمنوں میں گھرا ہوا ہے۔ سب اس کے خلاف ہو گئے ہیں۔ ڈاکٹر اسے تسلی دلاتے ہیں۔ دوست اس کا خوف دور کرنے کے لئے پبلک مقامات پر لے جاتے ہیں۔ وہ لوگوں سے پوچھتے ہیں ہاتھ اٹھا کر بتائیں کیا آپ مریض کے دشمن ہیں ؟ سب یقین دلاتے ہیں کہ وہ مریض کے دوست ہیں۔

    مریض کو پتا ہوتا ہے کہ ڈاکٹروں کا یہ ڈراما صرف اس کے علاج کے لئے ہے۔ لیکن جب یہ عمل بار بار دہرا یا جاتا ہےتو اسے احساس ہو نےلگتا ہے کہ واقعی عوام اس کے گرویدہ ہیں۔ وہ جس طرف نکلتا ہے لوگ سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔  کاروبار میں کامیابیاں قدم چومتی ہیں تو اسے یقین ہونے لگتا ہے کہ اللہ بھی خوش ہے۔ اب وہ لوگوں کی خدمت کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔ وہ عوام کو ان کا حق دلانے کے لئے سب کچھ کر گذرنے کی ذہنی کیفیت میں داخل ہوجاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ مالیخولیا  آخری خطرناک درجے پر پہنچ گیا ہے۔

    پاکستان میں مالیخولیا واقعی خطرناک حد تک پہنچ گیا ہےلیکن نہ ڈاکٹر اس خطرے کی بات کر رہے ہیں نہ مذہبی رہنما۔ دونوں کو مالیخولیا سے زیادہ مریض کی دولت میں دلچسپی ہے۔ مالیخولیا کا مریض مذہبی اور نیک لوگوں کی خد مت کرتا ہے۔ خیرات صدقات میں دل چسپی لیتا ہے۔ دونوں اسے سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔  نہ مالیخولیا کو بیماری بتاتے ہیں نہ مریض کو بیمار کہتے ہیں۔  ملک کے غریب عوام  اس بیماری کے نتائج کو بھگت تو رہے ہیں لیکن مالیخولیا کو  بیماری  نہیں مانتے کیونکہ یہ امیر بیماری ہے۔  انہیں معلوم ہے کہ وہ امیر بننے کی کوشش میں  تڑپ  تو سکتے ہیں امیر نہیں بن سکتے۔  غریب  مالیخولیا کے مریضوں سےہمدردی اور ان کی اطاعت گذاری میں جی کر خوش ہیں۔ یہ بھی مالیخولیا کی ایک قسم ہے جسے خالیخولیا کہتے ہیں۔ خالیخولیا کے مریض مالیخولیا کے مریضوں  کے راستے میں پھول بچھاتے ہیں اور ان کی کاروں کے نیچے کچلے جاتے ہیں اور شہید کا رتبہ پاتے ہیں۔ سارا ملک انہی دو بیماریوں میں مبتلا ہے۔ مالیخولیا یا خالیخولیا۔

    قدیم ترین کہانیوں سے بھی پتا چلتا ہے کہ بعض بادشاہ بھی مالیخولیا  کی بیماری میں مبتلا رہے ہیں۔ ایک کہانی میڈاس بادشاہ کے نام سے سنائی جاتی ہے۔ اسے مال کی اتنی ہوس ہوئی کہ اس نے خدا سے دعا مانگی کہ میں جس چیز کو ہاتھ لگا ؤں سونا  بن جائے۔ خدا نے دعا قبول کر لی۔ پورا دن وہ پاگلوں کی طرح محل میں گھومتا رہا۔ جس چیز کو ہاتھ لگا تا سونا ہو جاتی۔ وہ بے حد خوش تھا۔ اتنا سونا تو دنیا کے کسی بادشاہ کے پاس نہیں ہوگا۔ دوپہر کو کھانے کی میز پر بیٹھا۔ میز سے سیب اٹھا کر کھانے لگا تو دانت جواب دے گئے، سیب سونے کا ہو گیا تھا۔ دسترخوان سے جو چیز اٹھاتا سونے کی ہو جاتی۔ سخت پریشان ہو گیا کہ کیا کھائے۔ اسے اداس دیکھ کر اس کی ننھی بیٹی ابو کی طرف دوڑی آئی۔ بادشاہ نے پیار سے اسے گود میں اٹھا لیا۔ لیکن وہ تو سونے کی گڑیا بن چکی تھی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleآئینی اختیار
    Next Article میانمار میں خون ریزی۔اصل وجہ کیا ہے
    ڈاکٹر خالد مسعود

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by