روایت ہے کہ محمد بن قاسم کی فوج دیبل کی فتح کے بعد تھکی ہاری اندرون سندھ سفر کر رہی تھی ۔ پیاس کے مارے برا حال تھا کہ ایک درخت کے کے نیچے ایک بزرگ اونگھتے نظر آئے۔ محمد بن قاسم نے آگے بڑھ کر ان سے پانی کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے اپنے پیچھے مٹکوں کی طرف اشارہ کیا۔ کچھ عرصے سے سوشل میڈیا پر آئی لو یو اسلام آباد کی محفل سجی ہے ۔ لوگ جوق در جوق اسلام آباد کے حسن کی تصاویر بانٹ رہے ہیں۔ یہ شہر اتنا حسین ہے کبھی سوچا بھی…
Author: ڈاکٹر خالد مسعود
منطق الطیر پرندوں کی بولی ہے، انسان بولے تو سوچ سمجھ کر۔ ورنہ اپنے ہی آشیانے کے تنکے بکھر جاتے ہیں۔ منطق الطیر کا لفظی معنی تو پرندوں کی بولی ہے جو بہت ہی خاص زبان ہے۔ اس بولی کو سمجھنے کی صلاحیت اللہ تعالی نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائی تھی۔ جدید تحقیق کے مطابق یہ دنیا میں بولی جانے والی زبانوں کی سب سے ابتدائی شکل ہے جو صرف گانے کے لئے نہیں بلکہ پیغام پہنچانے کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے۔ پرندے آواز کے سب سے چھوٹے ٹکڑوں کو دہرا کر جملے بناتے ہیں۔ یوں…
چبھتا سوال یہ ہے کہ اگر خلافت ارضی سے مراد زمین پر اولاد آدم میں اضافہ تھا تو آدم وحوا کو شجر ممنوعہ کے قریب جانے سے روکا کیوں گیا۔ اگر یہ جرم نہیں تھا تو جنت سے نکالا کیوں گیا۔ ہر چند کہ طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کے انکشافات سے بہت پہلے ہم صغریٰ اور کبریٰ کو ملا کراسی نتیجہ پر پہنچ چکے تھے کہ طالبان بالکل معصوم ہیں اور بھارت کے بہکاوے میں آکر ایسے کام کر رہے ہیں جن کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ تاہم اندیشہ ہے کہ اگر یہی صورت حال رہی تو طالبان…
ہم ابھی تک تذبذب کی سماجیات میں جی رہے ہیں۔ کبھی اسے شہریت قرار دیتے ہیں کبھی اخلاقیات میں محدود کرتے ہیں۔ کبھی اسے دین بنا کر معاشرے پر گرفت مضبوط کرنے کا علم سمجھتے ہیں۔ آج کل ضرب عضب کے بعد ہم رد الفساد کے عمل سے گذر رہے ہیں۔ بقول اکبر الہ آبادی توپ کھسکی پروفیسر آئے جب بسولہ ہٹا تو رندا ہے بعض لوگوں کو گلہ ہے کہ توپ، پروفیسر، بسولہ اور رندا ایک ہی کمپنی فراہم کر رہی ہے۔ لیکن ہماری رائے میں یہ گلہ بے جا ہے۔ ستر برس اسی سوچ میں گذرگئے کہ ہم…
اقبال کے تصور اجتہاد کے حوالے سے اہل علم ہمیشہ سے دو متحارب مسلکوں میں تقسیم رہے ہیں۔ مولانا سلیمان ندوی اور دیگر جید علما کو خطبات اقبال کی اشاعت پر افسوس تھا۔ بھارت سے الطاف اعظمی نے بھی خطبات پر دینی نقطہ نظر سے بہت سخت تنقید کی ہے۔ اجتہاد ہمیشہ سے امت ِ مسلمہ کا اہم موضوع رہا ہے ۔اجتہاد سے مراد قرآن وسنت اور اجماع کی روشنی میں مقررہ شرائط کے مطابق استنباط و استخراج،شرعی احکام اورقوانین کی تشکیل جدید،تفصیل ،توسیع اور تنقیدکے لئے ماہرانہ علمی کاوش ہے۔علامہ اقبال کے کلام اور خطابات میں اس پس منظر…
افسوس یہ ہے کہ مغرب زدہ خواتین کی جو تصویر ان کے دل کے نہاں خانے میں لٹکی تھی اور پری زاد مِس سے جو توقعات انہوں نے باندھ رکھی تھیں وہ سراسر یک طرفہ لگتی ہیں۔ اکثر مغرب زدہ ان کی توقعات پر پوری نہیں اترتی ہوںگی۔ مغرب زدگی کا جو تصور جاناں لئے وہ عمر بھر بیٹھے رہے . بے پردہ نظر آئیں جو کل چند بیبیاں اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا پوچھا جو میں نے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا کہنے لگیں کہ عقل پر مردوں کی پڑ گیا اکبر بھلے زمانے کے…
’’ریاست ہوگی ماں کے جیسی‘‘ کا قدامت پسندتصور ایک خوش کن بیانیہ ہے جو خواب کی شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔ ’’ہوگی‘‘ کا مستقبل کا صیغہ احتیاط کے طورپر استعمال کیا جاتا ہے جس میں شروع سے شک کی گنجائش رکھ لی جاتی ہے۔ آج کل پاکستان میں اداروں کو مضبوط کرنے کا کام بہت تیزی سے ہو رہا ہے ۔ نکتہ چینوں کو فکر کھائے جارہی ہے کہ ادارے مضبوط ہوئےتو ریاست کمزور ہو جائے گی۔ دور سے دیکھنے والوں کو چیزیں ہمیشہ چھوٹی نظر آتی ہیں۔ کہتے ہیں نا دُور کے ڈھول سہاونے۔ ریاست کمزور انہیں لگتی…
حیرت اس بات پر ہے کہ آج اگر ٹرمپ مسلمانوں کو توبہ کا موقع دے رہا ہے کہ وہ مسلم معاشرت میں واپس جا کر اپنی عاقبت سنواریں تو اسے برا بھلا کہا جا رہا ہے۔ دھرنے ، مظاہرے اور کارٹون بنا کر اس نیک کام کی مخالفت کی جارہی ہے خبر ملی ہے کہ صدر امریکہ جناب ڈونالڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کو امریکہ میں ہجرت سے منع کردیا ہے۔ امریکہ میں شریعت کے نفاذ کی جانب اس پہلے قدم پر مبارکباد تو بنتی ہے۔ ایک صدی سے فقہائے امت غیر مسلم ممالک میں ہجرت کے عدم جواز کا فتوی…
ہور چوپو کی حکمت عملی کو "جمہوریت بہترین انتقام” کا نام بھی دیا گیا ہے۔ اس سے دشمن کا قلع قمع بھی ہو جاتا ہے اور جمہوریت بھی بدنام نہیں ہوتی۔ ہمارے خیال میں امریکی صدر کو بھی اس حکمت عملی کو اپنانا چاہئے تا کہ امریکہ میں صحیح جمہوریت کو استحکام ملے۔ امریکہ سے آج کل شاذ و نادر ہی اچھی خبر سننے کو ملتی ہے۔ کبھی امریکی خواتین کے ملین مارچ کی خبر آتی ہے۔ کبھی صحافیوں کی دھمکیاں سنائی دیتی ہیں۔ کہیں رنگ و نسل کی تفریق کے نام پر حکومتی ادراوں کی جگ ہنسائی کا تماشا…
ہمیں یہ سوچ کر ہول آتا ہے کہ یہ کیسا معاشرہ ہوگا۔ مسائل جدیدہ کا انبار سامنے دیکھ کر اجتہاد کی ضرورت شدیدہ یاد آئی ماتھا تو اسی وقت ٹھنک گیا تھا جب گذشتہ برس فرانس سے یہ خبر آئی تھی کہ پیرس کی ایک نوخیز حسینہ لِلّی کو روبوٹ سے عشق ہو گیا ہے ۔ ڈیلی پاکستان میں للی کی اس ننگ انسانیت حرکت پر کہ اس نے روبوٹ سے جنسی تعلقات بھی قائم کر لئے ہیں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ پھر سے یقین ہوگیا کہ مغربی ثقافت انسانیت کی تذلیل پر تُل گئی ہے اور…
