کراچی سے ایک شخص نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا, اپنی جماعت بنائی،اس کا نام مہاجر قومی موومنٹ رکھا۔سالوں میں نہیں مہینوں میں، مہینوں میں نہیں دنوں میں اسے مقبولیت حاصل ہوئی اور یہ جماعت ہر شخص کی زبان کا وظیفہ اور ہر دل کی دھڑکن بن گئی۔دیکھتے دیکھتے لاشیں گر نے لگیں ،کراچی بھتہ خوری،چوری،ڈکیتی،عقوبت خانوں اور ٹارگٹ کلنگ کی آماجگاہ بن گیا۔ صحافی،سیاستدان ،تاجر ،ڈاکٹرز، وکلا،علما ءاورحکماء قتل ہونے لگے ۔اللہ تعالی نے عوامی اور مالی طاقت مہاجر قومی موومنٹ کی گود میں ڈال دی۔ایسے مواقع زندگی میں سب کو عطا نہیں ہو تے ۔ایسے لیڈر کسی…
Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول
رمضان المبارک کے آتے ہی ہمارے ملک میں بہت کچھ مختلف ہو نا شروع ہو جا تا ہے ،کچھ مثبت اور بہت کچھ منفی۔مثبت یہ کہ لوگوں میں دینی تعلیمات کی طرف ایک رجحان پیدا ہو تا ہے جس سے ایک روحانی ماحول پیدا ہو تا ہے ۔بند گانِ خدا مساجد میں دن رات حاضری دیتے ہیں،قر آ ن مجید کی تلاوت کر تے اور مخلوقِ خدا کی خدمت کر تے ہیں ۔گھروں میں بھی ایک مختلف ما حول دکھائی دیتا ہے ۔بچے بوڑھے مر دو عورت کسی نہ کسی صورت میں ذکر الہی میں مصروف ہوتے ہیں ۔گھروں میں…
کیا یہ بات حیرانی کی نہیں ہےکہ الیکٹرانک میڈیا ،پرنٹ میڈیا اور سو شل میڈیا پہ قوم کی تربیت اور شعور و آگہی کے لیے کوئی لائحہ عمل نہیں اور نہ ہی ہمارے پاس اس کیلیے وقت ہے ۔سیاست،سکینڈلز اور مخصوص مسالک کے مخصوص ایام کے لیے وقت ہی وقت ہے ۔سیاست بھی ایسی جس میں سوائے تہمت ،تعصب اور ابن الوقتی کے کچھ نہیں ہے ۔سکینڈلز ایسے جن میں غیر ضروری دلچسپی اور بے مقصد توجہ حاصل کر نے کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔مذہبی تہوارو میں فرقہ واریت اور مخصوص فر قوں کے نظر یات و عقائد…
ہمارے ہاں غیر علمی اور غیر حقیقی طرزِ عمل یہ ہے کہ ہم ایک نکتہ اور مسئلہ پہ اختلاف کی بنا پرشخصیت کے مکمل افکار و خیالات کو رد کر تے ہیں اور صرف خیالات و افکار کو ردہی نہیں کر تے بلکہ اس شخصیت کے در پے آزار ہوجا تے ہیں ۔آزارو اذیت دینا بذاتِ خود نا پختہ ذہنیت اور خام تربیت کا نتیجہ ہو تا ہے ۔اگر ہم جزئی اختلاف کو جزئیت تک قائم رکھیں اور اتفاق کا بر ملا اظہار کریں تو شاید فر قوں اور تقسیم کی لکیر گہری ہونے کے بجائے مدہم ہو نا شروع…
قندوز میں ہونے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں101حفاظ کرام شہید ہوئے ۔اس کے بعدمسلم دنیا میں شدید ردِعمل سامنے آیا اور امریکہ و یورپ پر شدید تنقید کی گئی۔ردِ عمل میں بہت سے مسلم والدین نے بچوں کوقرآن مجید حفظ کرانے کا عہد کیا ۔کئی ایسے والدین سے بھی رابطہ ہوا جنہوں نے باقاعدہ سکول سے اپنے بچوں کو اٹھا کر مدارس ومساجد میں حفظ کے لئیے داخل کرا یا ہے ۔ بچوں کے والدین کے جذبات قابل تحسین و تعریف ہیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ جس قوم کے خلاف جذبات کے تحت بچوں کو حفظِ قرآن کے…
کہاجاتا ہےکہ مہاتمی گاندھی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ مسلم راہنماؤں کو اپنی آواز پہنچانے کے لیے کسی اجتماع کو منعقد کر نے کی ضرورت نہیں ہوتی،انہیں ان کے دین کی طرف سے یہ سہولت میسر ہے کہ دن میں پانچ مر تبہ نماز با جماعت کا اہتمام کیا جا تا ہے، ہر ہفتے جمعہ کا اجتماع اور سال میں دو عیدوں کا اجتماع منعقد کیا جا تا ہے ۔اس کے علاوہ دیگر اجتماعات بھی منعقد ہوتے ہیں جن میں مسلم راہنما جو پیغام دینا چاہیں، وہ پیغام لو گو ں تک پہنچاتے ہیں۔ جمعہ کا اجتماع مسلم…
درسِ نظامی میں شامل کتب کے مصنفین میں سے کئی علما کرام نے اپنی کتاب کے ابتدائی خطبہ میں تین قسم کے لو گو ں کا ذکر کیا ہے۔ایک طبقہ مسلمانوں کا، دو سرا طبقہ علما کرام کا، تیسرا طبقہ مستنبطین یعنی مجتہدین کا ہے۔ اِن تینوں طبقوں میں سے بہتر ین طبقہ تیسرا طبقہ ہے ،پھر دوسرا اور اس کے بعد پہلا ۔جامعات و مدارس کے طلبا کرام خوش نصیب ہیں کہ وہ اپنے جذبہ دینی اور تمسک بالقرآن والحدیث کے باعث خود کو پہلے طبقے سے ممتاز کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد، تفقہ فی الدین کے اس…
بچہ پوری شخصیت لے کر پیداہوتا ہے، وہ اس خیال سے ہر کام کرتا ہے کہ یہ درست اور صحیح ہے۔ وہ کبھی خود کو ناقص اور نامکمل خیال نہیں کرتا۔ والدین کو اس کی شخصیت اور نفسیات کا فہم بہت ضروری ہے۔ یقیناً بچہ یا اولاد والدین کی عمر اور تجربہ پہ کھڑا ہوکر سمجھے گا نہ بات کرے گا لیکن والدین اس عمر اور تجربہ سے گزر چکے ہوتے ہیں لہٰذا وہ بچے سے اس کی سطح پہ آکر بات کر سکتے ہیں۔ اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا "جس کا بچہ ہے اسے چاہیے اس کے…
لودھراں میں پی ٹی آئی کے امیدوار علی ترین کی شکست کوئی اچنبھے اور حیرت کی بات نہیں ہے ۔یہ نو شتہ دیوار بہت پہلے پی ٹی آئی کی قیادت کو پڑھ لینا چا ہیے تھا۔اب شاید پڑھنے ،سمجھنے اور عمل کر نے کا وقت بھی پی ٹی آئی کے ہاتھوں ریت کے ذرّوں کی طرح نکل رہا ہے۔عمران خان صاحب کا کہنا ہے”کا میاب لوگ نا کامیوں سے سیکھتے ہیں” لیکن نا کامی در نا کامی پہ لوگ کا میاب نہیں نا کام کہلاتے ہیں ۔اگر یہ کہا جائے کہ عمران خان نیا پاکستان تمام پرانے اور استعمال شدہ…
بدیانت معاشروں میں انسان کو اس کی محنت اور اہلیت کے مطابق کبھی کچھ نہیں ملتا ،محنت کی جگہ نا جائز ذرائع اور اہلیت کی جگہ چاپلوسی اور تعلقات ہر عہدے اور مقصد کے حصول کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ معاشرے کا عام چلن ایسا قرار پا تا ہے کہ حقدار محروم اور نا حقدار سب کچھ لے اڑتا ہے ۔ایسے معاشروں میں اپنے مقاصد کے حصول کےلیے ہر وہ طریقہ اختیار کیا جا تا ہے جس کی اجازت نہ دنیا کا کوئی دھرم دیتا ہے اور نہ ہی انسانی عقل و منطق۔دنیا کا کوئی دھرم بھی کسی کا حق…
