ہمارے ہاں یہ رجحان اور رویہ پختہ تر ہو چکا ہے کہ وہ شخص حریت پسند اور جمہوری ہے جو حکومت اور حکمرانوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیے رکھے ،وہی حق پرست ہے جو حکومت اور حکمرانوں کی پالیسیوں کا نقّاد رہے۔ایسے ماحول میں کالم نگاروں،تجزیہ نگاروں اور مبصروں میں بھی ایک بھیڑ چال شروع ہو جاتی ہے کہ کون حکومت کا زیادہ نقّادہے اور کون زیادہRating دیتا ہے۔ایسے ماحول میں متوازن بات کہنا ازحد مشکل ہو جاتا ہے۔آپ حکومت کے اچھے کاموں اور ملکی مفاد کے لیے بنائی گئی پالیسیوں پر بھی کوئی تعریفی رائے دیتے ہوئے گھبراتے…
Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول
خوشی کا اظہار انسانی فطرت کاخاصہ ہے۔ اظہار ہمیشہ انسان کی ثقافت اورکلچر کے آئینہ دار ہوتا ہے۔ صدیوں سے مسلمان رسول اللہ ﷺ کی ولادت کے موقع پر اپنے اپنے انداز اور طریقے سے خوشی کا اظہار کرتے آ رہے ہیں ۔ اس روز گلیوں،گھروں اور بازاروں کو سجایا جاتا ہے ، اپنے ہمسایوں کے ساتھ مختلف اور لذیز کھانوں کا تبادلہ ہوتاہے ۔ محافل ومجالس منعقد کی جاتی ہیں ۔ سیرت النبی کی کانفرنسز اور جلسوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ کسی خاص یوم کا اہتمام دراصل "یاددہانی” کے مقصد سے کیا جاتا ہے تاکہ ہم اپنا احتساب…
پاکستانی مسلمانوں کی سادہ دلی اوراسلام سے غیرمشروط محبت کے ثبوت کے لئے یہی بات کافی ہے، جس سے پاکستان، اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺسے محبت وعشق کی بات سنتے ہیں اس کے گن گاتے اوراس کے پیچھے چل پڑتے ہیں ۔ ایک لحاظ سے یکسوئی اور یکجائی کی اعلیٰ مثال ہے ۔ دوسری طرف اس کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں ہوشمندی، دانائی اور تدبر نہ ہو تو عملی زندگی میں اس کے نتائج نہایت سنگین اور منفی بھی ظاہر ہوسکتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ اس نکتہ کو سمجھنے کے لئے بہت سی مثالیں اپنے دامن میں چھپائے ہوئے…
رسول اللہ ﷺ کسی خاص زمانے یا خاص قوم کی طرف معبوث نہیں ہوئے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کوتمام زمانوں اورتمام انسانیت کے لئے نبی بنا کر بھیجا ۔ قرآن مجید اللہ کا آخری او ر ابدی پیغام ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت قرآنی احکامات کی عملی تفسیر اور مکمل پیروی کا نام ہے۔ قرآن مجید کی آفاقیت کو آپ کی سیرت نے اپنے اندر سمو لیا ہے۔ اس لئے ہر زمانے اور معاشرے کا انسان آپ کی سیرت سے استفادہ کر سکتا ہے ۔ آپ کی سیرت مبارکہ زندگی کے ہر پہلو میں ہماری راہنمائی کرتی…
ہمارے ہاں کسی فعل کوجائز قرار دینے کی ایک تاویل یہ ہوتی ہے کہ فلاں شخص، جماعت یا گروہ نے بھی ایسا کیا تھا، اس سے پہلے اگر کوئی غلط کام حکومت اور ریاست کی غفلت کے باعث ہوا تھاتو اس غلط کام کوہمیشہ کیلئے جاری رہناچاہئے۔ اگر آپ تنقید کریں گے یا اس سے منع کریں گے توگویا جرم عظیم کے مرتکب ہوں گے۔ فرقوں کے بعدتقسیم کی پرانی صورت نئے نقوش کے ساتھ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیاپہ چند دنوں سے بہت نمایاں ہوئی ہے اور وہ سیکولر اور مخالف سیکولر تقسیم ہے ۔ اب کوئی بھی شخص…
عوام ناہنجاراور بے وقوف ہیں ، اسے معلوم نہیں کہ اس کے راہنما اورسرکاری اداروں کے سربراہ اس کے لئے سارا دن کیا کیا کرتے ہیں۔ کبھی اِدھر میٹنگ ، کبھی اُدھر اجلاس، کبھی ایک شہر جلسہ کبھی دوسرے شہر جلوس ،کبھی اسلام آبا دھرنا کبھی فیصل آباد مظاہرہ۔ یہ سب کچھ ایسے ہی نہیں ہوتا ،اس کے لئے بڑی صلاحیت، جذبہ اور حوصلہ چاہئے۔صرف حوصلہ ہی نہیں سر مایے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سڑکیں ذرا کیا بلاک ہوئیں ، ٹریفک کیا درہم برہم ہوئی کہ اپنے ہی خیرخواہوں اور خادموں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ ہاں…
صحافت کاتعلق صحیفہ سے ہے ،عربی زبان میں وہ چیز جس میں کچھ لکھا جاتا ہے،اُسے صحیفہ کہتے ہیں۔ گویا صحافت کا تعلق لکھنے سے ہے اور لکھا قلم سے جاتا ہے ۔ قلم کی حرمت کا یہ عالم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قلم کی قسم کھائی ہے ۔ مولانا روم نے کہا ہے کہ علم کو "من”پہ مارو تو یار یعنی دوست بن جاتا ہے اگر” تن”پہ مارو تو ماریعنی سانپ بن جاتا ہے ۔ ایسا ہی معاملہ قلم کا ہے بہت سے لوگوں نے قلم بیچ کر اپنا تن بلکہ کئی تن پالے ہیں…
معاشی تحزیہ نگاروں کا کہنا ہے سعودی عرب تاریخ کے شدید ترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ اس معاشی بحران کے خاتمے اورحالات پہ کنٹرول کرنے کے لئے سعودی حکومت چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے۔ وہ اس کوشش میں مصروف ہے کہ داخلی اورخارجی عوامل و اسباب جو معیشت کے لئے خطرہ ہیں، ان سے جتنا جلدی ہو سکے نمٹا جائے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کا حالیہ اقدامات اسی کی عکاسی کرتے ہیں۔محمد بن سلمان ان دنوں جن خیالات کا اظہار کررہے ہیں،وہ سعودی عرب میں موجود قدامت پسند طبقے کو پسند نہیں ہیں۔ محمد بن سلمان کا کہنا…
ایک زمانہ تھا جب ایک لکھاری کسی اخبار میں اپنا مضمون چھپوانے اورکسی ٹی وی چینل پہ آنے کیلئے بہت بے تاب رہتا تھا۔اگر اخبار والے مضمون لے لیتے تو پھر اس کی اشاعت کا انتظار رہتا تھا۔ یہی صورتِ حال ٹی وی پروگرام کی ہوتی تھی، ہمارے ایک عزیز کا پروگرام پی ٹی وی پہ آنا تھا ،وہ بھی پی ٹی وی کے آخری پروگرام فرمانِ الٰہی سے کچھ دیر پہلے آیا یا خود فرمانِ الٰہی ہی ان کا پروگرام تھا۔ انہوں نے ہمیں نیند سے اٹھا کر اپنا پروگرام دکھایا تو ہم نے ان کا دل رکھنے کے…
انسانی تاریخ بتاتی ہے جہاں "مذہبیت” کا آسیب ہو وہاں فنونِ لطیفہ اور سپورٹس کا وجود دم توڑ جاتا ہے۔ انِ اصناف کا کچھ حصہ بے حیائی اور عریانی کے زمرے میں شمار ہوجاتا ہے اور باقی جو بچتا ہے وہ اس قابل ہی نہیں ہوتا کہ اسے زندہ ادب کہاجائے، وہ دم توڑ تا ہی نہیں بلکہ مردہ ادب کہلانے کاحق دار ہوتا ہے۔انسان کے وجودمیں طاقت ایک ہے لیکن اس کے استعمال کے طریقے دو ہیں ایک مثبت اوردوسرا منفی ۔ انسان کی یہی Aggressionہی اس کی طاقت ہوتی ہے جسے وہ فنونِ لطیفہ ، فلم ،…
