Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»طلبہ علوم دینیہ کی خدمت میں
    کالم

    طلبہ علوم دینیہ کی خدمت میں

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولمارچ 18, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read0 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    درسِ نظامی میں شامل کتب کے مصنفین میں سے کئی علما کرام نے اپنی کتاب کے ابتدائی خطبہ میں تین قسم کے لو گو ں کا ذکر کیا ہے۔ایک طبقہ مسلمانوں کا، دو سرا طبقہ علما کرام کا، تیسرا طبقہ مستنبطین  یعنی مجتہدین کا ہے۔  اِن تینوں طبقوں میں سے بہتر ین طبقہ تیسرا طبقہ ہے ،پھر دوسرا اور اس کے بعد پہلا ۔جامعات و مدارس کے طلبا کرام خوش نصیب ہیں کہ وہ اپنے جذبہ دینی اور تمسک بالقرآن والحدیث کے باعث خود کو پہلے طبقے سے ممتاز کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد، تفقہ فی الدین کے اس سفر میں  وہ تیسرے طبقے میں بھی شامل ہو کے ممتاز ترین حیثیت تک پہنچ سکتے ہیں ۔دوسرا طبقہ علماء  کا ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے انبیا کا وارث فر ما یا ہے ۔میری دانست میں انبیا کرام کی وراثت دعوت و تبلیغِ دین ہے ۔دعوت امر با لمعروف و نہی عن المنکر اور اصلاحِ معاشرہ  کا نام ہے ۔نام کو ئی بھی دے دیا جا ئے لیکن مقصد و مفہوم یہی ہے کہ جس طرح انبیا علیہم السلام معاشر ے سے غیر متعلق نہیں تھے ،اسی طرح علما ء کرام بھی معاشرے سے غیر متعلق نہیں ہو سکتے۔معاشرت ،سیاست ،معیشت حکومت اور اجتماعیت میں اصلاح کا عمل علماء  کرام کے ذریعے جاری رہنا چا ہیے اور یہ ان کا دینی فریضہ بھی ہے ۔
    دورِ حاضر میں شعبہ ہائے زندگی میں رو نما ہو نے والی تبدیلیوں اور انقلابا ت نے انسان کی فکر اور طرزِ حیات پہ گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔یہ تبدیلیاں مثبت بھی ہیں اور منفی بھی۔اِن انقلابات کا تعلق چونکہ مغرب سے ہے لہذا یہ تبدیلیاں ہمارےلیے  چیلنجز کی بھی حیثیت رکھتی ہیں ۔ان چیلنجز سے نبر د آزما ہو نے کے لئے مغرب کے فلسفہ ،فکر اور سائنس سے متعلق نظر یا ت کا اس حد تک ضرور جائزہ لینا ،سمجھنا اور پڑھنا ضروری ہے جہاں سے وہ مذہب،ما بعد الطبعیات اور الوہی حقیقتوں کو اپنا مو ضو ع بنا تے اور پھر اسے رد کرتے ہیں ۔اس لیے کہ علماء  کرام کی ذمہ داریوں سے ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ علمی اور فکری محاذ پہ وہ نو جوان نسل کی راہنمائی کریں اور اسے الحاد و کفر کی آندھیوں سے محفوظ کریں۔
    جامعات و مدارس میں نصاب تعلیم قرآن و حدیث کے فہم اور تفقہ کے حصول کے لیے تشکیل و تر تیب دیا گیا تھا ۔اس لیے اس کا ایک مقصد ہر مسئلہ و معاملہ کا علمی بنیادوں پہ جائزہ اور رائے قائم کرنا بھی ہے۔ عوام اور حصولِ علم کے لیے  زندگی وقف کر نے والوں  میں جو بنیادی فرق سامنے آ تا ہے ۔وہ یہی یے کہ عوام اکثر طور پر، جذباتیت اور وابستگی کی بنیاد پہ ایک رائے قائم کر تی ہے اور طلبا ء و علماء  مطالعہ ،تجزیہ اور غور وفکر کے بعد اپنی رائے قائم کر تے ہیں ۔اس کے لیے ان کے پاس ایک مضبوط بنیاد دین کی صورت میں مو جود ہے اور دین کے ساتھ ان کا وہ مزاج اور ذوق تیار ہو تا ہے جو سالوں کی تربیت کے بعد پروان چڑھتا ہے ۔اس لیے  مسئلہ کوئی بھی ہو خواہ سیاسی ہو یا مذہبی ہمیشہ وہ اپنی رائے دلائل کے ساتھ پیش کر تے ہیں۔
    پاکستان کے موجودہ حالات،جامعات و مدارس کے طلباکرام کے لیے جہاں آزمائشیں  ہیں، وہاں اِن حالات میں اِن پریہ  ذمہ داری بھی عائد ہو جا تی ہے ۔آزمائش یہ ہے کہ وہ ہر قسم کی سر گرمیوں اور رکاوٹوں سے جدا ہو کر اپنی تعلیم پہ توجہ دےپاتے ہیں یا نہیں۔وہ جس مقصد کی خاطر اپنے گھر اور وطن کو چھوڑ کر آ ئے ہیں، اس مقصد کو حاصل کریں اور مستقبل  میں دعوتِ دین میں اپنا حصہ شامل کر سکیں۔ ذمہ داری یہ ہے کہ موجودہ حا لا ت میں انہوں نے اپنی تربیت اس نہج پہ کرنی ہے کہ وہ کسی کے سیاسی عزائم کے آ لہ کار بن کر اپنے آپ کو جذباتی ردِ عمل میں ضائع نہ کر بیٹھیں اور مشکل سے مشکل حالات میں دانش و دیانت سے آگے بڑھ کر دوسروں کے لیے ایک مثال بھی بننا ہے ۔

    دنیا بہت وسیع ہے اور اس دنیا میں دعوتِ دین کے مواقع اور امکانات بھی بہت ہیں ۔ آپ پہ منحصر ہے کہ آپ دعوتِ دین کے وسیع مواقع کو رد کر کے ،ہیجان انگیزی،رد عمل اور تصادم کی راہ پہ چل کر خود کو ضائع کر تے ہیں یا اپنے آپ کو انسانیت کے لیے منفعت بخش بنا کر دین کی خدمت کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں ۔ دنیا آپ کی منتظر ہے۔آپ دونوں صورتوں میں رب ذو الجلال کی بار گاہ میں جواب دہ ہیں۔ پہلی صورت میں شرمندگی اور خجالت ہے دوسری صورت میں سر خروئی ہے ۔فیصلہ آ پ نے کرنا ہے۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمتبادل بیانیہ ۔۔۔ایک  متنوع چیلنج!
    Next Article وہ جو قرض رکھتے تھے جان پر
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by