دومختلف تہذیبوں کے افرادکے ملاپ سے پیدا ہونے والے اثرات و نتائج کیا ہوں گے۔ کیا ہم جو ابھی تلک انڈین ڈراموں اورفلموں کے سحر سے باہر نہیں آ پا رہے ، چین کی انڈسٹری میں اپنی شناخت تو نہیں کھو بیٹھیں گے سال ہا سال پہ محیط پاک چین تعلقات موجودہ دورِ حکومت میں اپنے عروج پہ دکھائی دیتے ہیں۔ جس کی واضح مثال سی پیک منصوبہ اوردیگر میگا پراجیکٹس ہیں۔ یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان نے ترکی، چین اور روس کی آزاد ریاستوں سے اپنے تعلقات کو ’’دو اورلو‘‘ کے اصول پہ مستحکم کیے ہیں…
Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول
پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی وجہ سے جہاں مدارس تنقید کی زد میں ہیں وہاں مروجہ نظامِ تعلیم بھی اور اس سے وابستہ اداروں پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں ۔صاحبزادہ امانت رسول نے بھی اسی انداز میں قلم اٹھایا ہے ۔صاحبزادہ امانت رسول چونکہ پاکستان میں قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے لئے ایک توانا آواز ہیں اس لئے وہ ان مسائل سے کماحقہ آگاہ ہیں جوا س سلسلے میں رکاوٹ ہیں ۔ صاحبزادہ امانت رسول سہ ماہی تجزیات اور تجزیات ڈاٹ کام سے وابستہ ہیں ۔وہ ادارہ فکر جدید کے سربراہ اور ماہنامہ ’’روحِ بلند…
یہ بات حوصلہ افزاء اور قابلِ تحسین ہے ہمارے معاشرے میں یہ قدر بایں صورت زندہ ہے کہ ا گر کوئی شخص کسی عورت کو تضحیک کا نشانہ بناتا یا اسے غلط نام سے پکارتا ہے تو پاکستان کی اکثریت سراپا احتجاج بن جاتی ہے اور اس کی اس حرکت کی بالا جماع مذمت کی جاتی ہے مشرقی روایات میں سے ایک روایت عورت کا احترام بھی ہے۔ عورت ماں ہویا بیٹی، بیوی ہو یا بہن ۔اس کا ہر روپ قابلِ احترام ہے یہی وہ تعلیم ہے جو ہمیں قرآن اور سنت رسول سے ملتی ہے۔ اسلامی تہذیب ہو یا…
رمضان المبارک جیسا مقدس مہینہ بھی اسی ہوس مال وزرکی نذرہو چکا ہے ۔سب سے پہلے رمضان المبارک کے مہینے کو مذہب کے نام پہ اپنے مزموم مقاصد کے لئے ایکEventکی شکل دے دی گئی۔ لوگوں کا وقت،دولت اور صلاحیت اجتماعات کے انعقاد و انصرام کی نذرکر دیاگیا ۔ رمضان المبارک میں مختلف چینلز پہ دکھائی جانے والی سحراور افطار ٹرانسمیشن نے ہمار ی تہذیب و اقدار کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ۔ سرمایہ دار کسی بھی ملک اور معاشرے کا ہو، اس کی ذہنیت اورسوچ ایک جیسی ہوتی ہے۔ اس کی نظر صرف اور صرف سرمائے پہ…
میں اِن وسائل کو بیساکھیاں کہتا ہوں جنہوں نے ہمیں بہت کچھ دیا ہے لیکن ہم سے ہم کوچھین لیا ہے۔ ہم سے ریسرچ لے لی اور سرچ دے دی،ہم سے علم لے لیا اور معلومات کا سمندر تھما دیا۔ ہم سے گہرائی و گیرائی لے کر سطحی سوچ دے دی ،ہم سے گہر چھین لیا اور صدف دے دی۔ کسی شاعر نے کہا تھا یادِ ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا بھول جانا نعمت تو ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ تکلیف دہ بھی بہت ہے ۔ انسان غیر ضروری باتوں کو بھول جانا اورضروری باتیں یاد رکھنا…
جب انسان پہ ذمہ داریوں کو بوجھ آتاہے تو وہ بہت کچھ بھولنے لگتاہے۔ ذمہ داریاں اسے ’’کولہو کا بیل‘‘ بنا کر رکھ دیتی ہیں۔ جن سے اِدھر اُدھر دیکھنا اور سوچنا ناممکن ہو جاتا ہے ۔ وہ اسی فکر و خیال میں رہتا ہے کہ مجھ سے میری ذمہ داریاں صحیح طریقے سے اداہوتی رہیں۔ کسی شاعر نے کہا تھا یادِ ماضی عذاب ہے یارب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا بھول جانا نعمت تو ہے ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ تکلیف دہ بھی بہت ہے ۔ انسان غیر ضروری باتوں کو بھول جانا اورضروری باتیں یاد رکھنا چاہتا ہے لیکن اگر…
ایک سیاسی جماعت کے اہم عہدیدار ایک روز اپنے قائد کا شکوہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ‘‘ہم ایگزیکٹو کمیٹی میں متفقہ رائے کے ساتھ جو فیصلے کر کے اٹھتے ہیں ،ہمارے گھر پہنچنے سے پہلے وہ تبدیل ہو چکے ہوتے ہیں جس کی خبر ہمیں صبح دوسرے دن موصول ہوتی ہے’’ بہت ہی مناسب رویہ ہے کہ ہمارے تجزیہ و تعریف اورتنقید و تنقیح میں جانبداری اور تعصب کا شائبہ تک نہ ہو۔ بلاتفریق جماعت (خواہ وہ حزب اقتدار کی ہو یا حزب اختلاف کی) ہمیں ہر اچھے کام کی تائید و تعریف اور ہر برے کام پر تنقید و…
اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو 75 سالوں میں بتدریج سیاست اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوئی ہے۔ اس کا اظہار سیاستدانوں کے بیانات سے ہوتا ہے کہتے ہیں انسان کی گفتگو اور کلام سے ، اس کے قبیلے کا پتہ چلتا ہے۔ پرُقارطرز کلام اور شائستہ لہجہ سے انسان کی تربیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ فحش کلامی اور بہتان طرازی جس کا شیوہ ہو گو یا اس کی تربیت کسی بہتر ماحول میں نہیں ہوئی اور اس کی صحبت بھی اچھے لوگوں میں نہیں ہے۔ سیاستدان ،علماءکرام اور دانشور جہاں معاشرے کے مرّبی ہوتے ہیں…
خوش قسمتی سے لاہور آتے ہی مجھے ایک مسجد میں خطابت مل گئی۔ اس خطابت کا وظیفہ 1500 تھا۔ میں اس مسجد میں تقریباً 3 سال خطیب رہا اور مجھے اس کے بعد وہاں سے نکال دیا گیا نوے کی دہائی میں،میں لاہور آیا۔ گوجرانوالہ میں ،میں نے بی اے کیا ،شرح جامی ، شرح وقایہ اور نورالانوار تک میں نے درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ۔ خوش قسمتی سے لاہور آتے ہی مجھے ایک مسجد میں خطابت مل گئی۔ اس خطابت کا وظیفہ 1500 تھا۔ میں اس مسجد میں تقریباً 3 سال خطیب رہا اور مجھے اس کے…
افسران و ملازمین کی بہت بڑی تعداد کرپٹ ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ کرپٹ ثابت ہونے کے لیے چہرے پہ نحوست کا ہونا ضروری ہے۔ صدر پاکستان جناب ممنون حسین صاحب نے بددیانت اور ایماندار میں ایمان افروز فرق بتایا ہے جو پڑھنے کے بعد کم از کم میں جھوم اٹھا ہوں اور اہل ایمان بھی ضرور جھومے ہوں گے۔ انہوں نے فرمایا: ”جو جتنا کرپٹ اس کے چہرے پر اتنی ہی نحوست ہوتی ہے“ فرماتے ہیں: ”کرپٹ لوگوں میں بھی مختلف درجات ہیں کوئی بہت زیادہ کرپٹ ہے کوئی درمیانہ کرپٹ ہے بہت زیادہ کرپٹ لوگ منحوس ہوتے ہیں ان…
