Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»عورت کی تضحیک کا کلچر
    کالم

    عورت کی تضحیک کا کلچر

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجون 19, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    یہ بات حوصلہ افزاء اور قابلِ تحسین ہے ہمارے معاشرے میں یہ قدر بایں صورت زندہ ہے کہ ا گر کوئی شخص کسی عورت کو تضحیک کا نشانہ بناتا یا اسے غلط نام سے پکارتا ہے تو پاکستان کی اکثریت سراپا احتجاج بن جاتی ہے اور اس کی اس حرکت کی بالا جماع مذمت کی جاتی ہے

    مشرقی روایات میں سے ایک روایت عورت کا احترام بھی ہے۔ عورت ماں ہویا بیٹی، بیوی ہو یا بہن ۔اس کا ہر روپ قابلِ احترام ہے یہی وہ تعلیم ہے جو ہمیں قرآن اور سنت رسول سے ملتی ہے۔ اسلامی تہذیب ہو یا مشرقی روایت، ان کا خمیر اسلامی تعلیمات ہیں جو قرآن وسنت پہ مشتمل ہیں۔ قرآن مجید نے سورۃ الاحزاب میں بدقماش اور اوباش لوگوں کے لئے سخت سزا تجویز کی ہے وہ بھی اس پس منظر میں ہے کہ وہ عفت مآب خواتین پہ تہمت و بہتان لگاتے یا پھر گلی کوچوں میں کھڑے ہو کر نازیبا جملے کستے اور ان کے جسمانی و اعضاء کا ننگی اور بھوکی نظروں سے جائزہ لیتے تھے۔

    یہ بات حوصلہ افزاء اور قابلِ تحسین ہے ہمارے معاشرے میں یہ قدر بایں صورت زندہ ہے کہ ا گر کوئی شخص کسی عورت کو تضحیک کا نشانہ بناتا یا اسے غلط نام سے پکارتا ہے تو پاکستان کی اکثریت سراپا احتجاج بن جاتی ہے اور اس کی اس حرکت کی بالا جماع مذمت کی جاتی ہے یہ مذمت بلا تفریق جنس ، گروہ اور نسل کے ہوتی ہے ۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں بہت عرصے سے بعض سیاستدانوں نے اپنی بیمار ذہنیت اور پست اخلاقیات کی وجہ سے مخالف جماعت کی عورتوں کو اپنی بے ہودہ گفتگو کے ذریعے نشانہ بناتے رہے ہیں لیکن خود ان کی اپنی جماعت کے لوگوں نے ان کی اس گفتگو کو پسند نہیں کیا۔ شیخ رشید احمدنے اپنے عہد شباب میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے لئے ایسی زبان استعمال کی جس وجہ سے انہیں کلاشنکوف کیس میں کچھ سال جیل میں گزارنا پڑے جہاں انہوں نے ’’فرزند پاکستان‘‘ قلمبند فرمائی۔ یہی وہ دور تھا جب نواز شریف صاحب سیاست سیکھ رہے تھے۔ ملک میں ٹکراؤ کی سیاست اپنے عروج پہ تھی۔ بے نظیر بھٹوملک کے لئے سکیورٹی رسک قرار دی جا چکی تھیں ۔ اس لئے نواز شریف صاحب نے بھی کبھی شیخ رشید احمد کو ایسے بیانات سے منع نہیں کیا تھا۔ خیر! وہ اب بھی منع نہیں کرتے لیکن اتنا ضرور ہے کہ اب وہ خود محتاط ہو گئے ہیں کہ کسی کے بارے میں خواہ مخواہ بیانات جاری نہیں کرتے۔ یہ بھی ایک اچھی مثال ہے جس پہ میاں صاحب کی تحسین ہونی چاہئے اگر وہ اپنی ذات کے علاوہ اپنے معزز وزراء اور اراکین کو بھی ہر حال میں شائستہ اور مہذب زبان استعمال کرنے کی تعلیم دیتے تو پاکستان کاسیاسی ماحول مزید بہتر ہو سکتا تھا۔
    مسلم لیگ کے ذمہ داران عمران خان یا کسی اور سیاستدان پہ رکیک حملے کرتے ہیں تو وہ اس لئے سن لیئے جاتے ہیں کہ ان کا رویہ بھی ایسا ہی ہوتا ہے (اگر چہ یہ بھی کوئی اعلیٰ مثال نہیں ہے) لیکن خواتین پہ رکیک حملے وڈیرانہ اور جاگیردارانہ ذہنیت کی عکاس ہیں کہ معاشرے میں بس وہی خواتین قابلِ احترام ہیں جو ہماری خواتین ہیں۔ان کا احترام سب پہ لام اور فرض ہے ۔ ان کے علاوہ خواتین جنسِ بازار ہیں جو چاہے جس وقت چاہے ان کی بولی لگا سکتا ہے۔
    دورِ طالب علمی میں پروفیسر ساجد میر کی تقریر محترمہ بے نظیر بھٹو سے متعلق سنی تھی وہ تقریر کیا تھی آپ اس سے اندازہ لگا لیں،محترمہ کی مخالف خواتین بھی اس کانفرنس میں ان کی حمایت اور پروفیسر ساجد میر کی مذمت پہ مجبور ہو گئی تھی ۔ اس نے زندگی میں پہلی اور آخر ی بار ایک عالمِ دین اور مذہبی راہنما کو ایسی گفتگو کرتے سنا تھا۔ وہ تقریر تھی یا چاٹ مصالحے کی ریڑھی ۔۔۔ میرے دونوں کانوں سے صرف دھواں ہی نہ نکلا ، میری آنکھیں بھی آنسوؤں سمیت زمین میں گڑ گئیں۔ شاید زمانہ جاہلیت میں ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے باپ اپنی بیٹیوں کو زمین میں زندہ درگور کرنے پر مجبور ہوئے تھے ۔پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جب بھی بے لگام سیاستدانوں کا ذکر ہو گا ان میں خواجہ آصف (وزیردفاع) کانام چنیدہ اسمائے گرامی میں سے ہو گا۔ سیاست کے میدان اور اقتدار کی راہداریوں میں جن کی زندگی بسر ہوئی ان میں ایک خواجہ آصف بھی ہیں ۔سنا ہے ان کے والد ایک مہذب اور شریف سیاستدان تھے۔ سیاست ان کا خاندانی ’’پیشہ‘‘ ہے، اتنے تجربہ کار سیاستدان کی زبان کے پھسلنے کا یہ عالم ہے کہ ابھی سال بھی نہیں ہوا ہو گا کہ انہوں نے شیریں مزاری کے متعلق ’’اول فول‘‘ فرمایا تھا اور اس پہ باقاعدہ ’’معذرت‘‘بھی کی تھی بلکہ معافی کے انداز میں معذرت کی تھی۔ اگر خواجہ آصف معافی اور معذرت کو اپنی عادت بنا لیں تو نواز شریف صاحب کو چاہئے کہ انہیں وزارتِ دفاع سے علیحدہ کر کے مسلم لیگ میں کہیں کھڈے لائن لگا دیں۔ ان کا جرم نہال ہاشمی سے کسی طرح بھی کم نہیں ہے۔ نہال ہاشمی کا حملہ جمہوریت اور جمہوری اداروں پر ہے تو خواجہ آصف صاحب کا حملہ چارداور چاریواری پر ہے ۔ اُس کے برے اثرات جلد نظر آ رہے ہیں تو اس کے اثرات دیرپا اور دوررس ہیں۔حکومت نے کرپشن اور بدعنوانی سے اپنی ساکھ کو تباہ کر ہی لیا ہے۔اب شرم و حیاء رہ گئی تھی وہ بھی رخصت ہونے لگی ہے۔
    کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمشال کیس اور زرعی یونیورسٹی کا حالیہ رویہ
    Next Article سی پیک کے لئے متبادل روٹ کی ضرورت
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by