Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»سی پیک کے پاکستانی تہذیب و ثقافت پر ممکنہ اثرات
    کالم

    سی پیک کے پاکستانی تہذیب و ثقافت پر ممکنہ اثرات

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجولائی 3, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    دومختلف تہذیبوں کے افرادکے ملاپ سے پیدا ہونے والے اثرات و نتائج کیا ہوں گے۔ کیا ہم جو ابھی تلک انڈین ڈراموں اورفلموں کے سحر سے باہر نہیں آ پا رہے ، چین کی انڈسٹری میں اپنی شناخت تو نہیں کھو بیٹھیں گے

    سال ہا سال پہ محیط پاک چین تعلقات موجودہ دورِ حکومت میں اپنے عروج پہ دکھائی دیتے ہیں۔ جس کی واضح مثال سی پیک منصوبہ اوردیگر میگا پراجیکٹس ہیں۔ یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ پاکستان نے ترکی، چین اور روس کی آزاد ریاستوں سے اپنے تعلقات کو ’’دو اورلو‘‘ کے اصول پہ مستحکم کیے ہیں ۔ وہ نئی ریاستیں جو تجارت کے لئے بہت کار آمد ہیں ان کی طرف پاکستان نے توجہ کی ہے۔ خاص طور پر، چین بہت بڑی سرمایہ کاری پاکستان لا رہا ہے اور پاکستانی تاجر چین جا رہے ہیں۔چین سے پاکستان منتقل ہونے والے انجینئرز، کاریگراور ورکرز کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو مختلف منصوبوں میں مصروفِ کار ہے۔ مستقبل میں اس سے زیادہ افراد کی آمد اور سکونت کی امید کی جا سکتی ہے۔ جس سے پاکستان میں خوشحالی کا دور آئے گا۔ پاکستانی حکومت پاکستان میں جاری منصوبوں کا ذکر بڑے فخر سے کرتی ہے اور کرنا بھی چاہئے۔ لیکن بقول شاعر
    لبِ خنداں سے نکل جاتی ہے فریاد بھی ساتھ
    اس ترقی کا سوچ کر خوشی ہوتی ہے لیکن فکرمندی بھی لاحق ہوتی ہے اور یہ فکر مندی دو حوالوں سے ہے۔
    ایک مسئلہ یہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی کوئی قوم گئی ہے خواہ وہ روزگار کے سلسلے میں گئی اس نے اس قوم کے کلچر ، رہن سہن اورسماج کو ضرورمتاثر کیا ہے ۔اگر اس قوم کا کلچر ،رہن سن اور سماج مضبوط بنیادوں پر استوار ہے تو اس نے آنے والی قوم کومتاثر کیا ہے۔ ابتدائے اسلام میں ،مسلمان جہاں گئے انہوں نے وہاں کے لوگوں کو اپنی اقدار و کردار سے متاثر کیا۔ اس قوم میں مذہب ، معاملات اور سیاست کے حوالے سے تبدیلی کا باعث بنے۔ آج بھی مسلمان جن ممالک میں روزگار کے لئے گئے ہیں ،اگر مسلمان بطور خاندان و مذہب متاثر ہوئے وہاں انہوں نے اس قوم کو بھی متاثر کیا۔
    مغربی ممالک کے پالیسی ساز ، دانشور اور اہل علم اپنی حکومت و ریاست کو ان مسائل سے صرف آگاہ نہیں کرتے بلکہ اسے Road Map بھی بناکر دیتے ہیں۔ ریاست اس پہ پلان بناتی اور اس کا نفاذ بھی کرتی ہے ،یہ ایسی انہونی بات ہونے نہیں جا رہی کہ چین سے لوگ پاکستان میں آباد ہو رہے ہیں۔ پاکستان کی تجارت، منصوبوں اور انفراسٹرکچر میں دلچسپی لے رہے ہیں۔
    مسئلہ یہ نہیں ہے ، اصل مسئلہ یہ ہے کہ چین کے لوگ کثرت سے پاکستان منتقل ہوتے ہیں۔ یہاں وہ کاروبار کرتے، کمپنیز بناتے اور آفسز کھولتے ہیں۔ سماجی اورمعاشرتی سطح پر ان کے تعلقات پاکستانیوں سے قائم ہوتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ان کے بچے، نوجوان اوربچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ان کی اخبارات اورچینلز کا اجراء ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شادیاں، دوستیاں اور میل جول وجود میں آتا ہے۔ان کے نتائج کیا ہونگے؟ کیا ان معاملات پہ کبھی اہل حل و عقد اور اہل دانش و علم نے غو ر کیا ہے۔۔۔؟
    دومختلف تہذیبوں کے افرادکے ملاپ سے پیدا ہونے والے اثرات و نتائج کیا ہوں گے۔ کیا ہم جو ابھی تلک انڈین ڈراموں اورفلموں کے سحر سے باہر نہیں آ پا رہے ، چین کی انڈسٹری میں اپنی شناخت تو نہیں کھو بیٹھیں گے۔انڈیا نے ہماری فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کو ختم ہی نہیں کیا بلکہ مغلوب و محکوم بھی کر دیا ہے۔ ہم بیرونی چیلنجزسے مقابلہ نہیں کر پا رہے جب کہ چین کی شراکت داری اندرونی معاملات میں ہے۔ میں نے ابھی تلک کوئی ایسا سیمینار یا کانفرنس نہیں دیکھی جس میں ان مسائل کو بھی زیر بحث لایا گیا ہو۔
    دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے مانا کہ پاکستان چین کی شراکت اورتعاون سے معاشی اورسائنسی میدان میں ترقی کر ے گا۔موٹرو ے، ایئرپورٹس کی عالیشان تعمیراور درآمدات و برآمدات میں اضافہ ہو جائے گا لیکن سوال یہ ہے کیا اس سے پاکستانی عوام کو بھی فائدہ پہنچے گا؟۔اس نظام میں کبھی غریب کا فائدہ نہیں ہوا اگر ہوا تو وہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوتا ہے۔
    اگر اس وقت بھی جائزہ لیا جائے ، پاکستان میں تجارت کے مختلف سیکٹرز میں ،اکثرانہی لوگوں کا قبضہ نظر آتا ہے جوحکومتوں کے کارندے اور نمائندے ہوتے یا رہتے ہیں ۔ یہی وہ طبقہ ہے جسے اندر کی کہانی پہلے سے معلوم ہوتی ہے اور یہ وقت سے پہلے مارکیٹ پہ قبضہ کر لیتا ہے۔ اس کی چھوٹی سی مثال لاہور میں زیر تعمیر ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں یہ وہ مضافاتی علاقے ہیں جو پہلے ویران اور بے آبادتھے یاجہاں لوگ کھیتی باڑی کرتے تھے۔ حکومت میں موجود سرکاری نمائندوں نے ان جگہوں کو خرید لیا یا اپنے دوستوں کے ذریعے معمولی قیمت پہ ’’بھائی والی‘‘ کر لی۔ انہیں معلوم تھا کہ پانچ سال بعد اس علاقے کو ڈویلپ کیا جانا ہے ۔ انہوں نے انہی’’سینہ گرٹ‘‘ معلومات کی روشنی میں اونے پونے ،ہزاروں ایکڑ زمینیں خرید لیں آج وہاں عظیم الشان ہاؤسنگ سوسائٹیز قائم ہوچکی ہیں جہاں غریب کو پانچ مرلے کا پلاٹ ایک کروڑ سے کم کا نہیں ملتا۔یہ صرف ایک مثال ہے، ورنہ ایسی بے شمار مثالیں ہیں۔ یہ وہ کرپشن ہے جس پہ کوئی عدالت ہاتھ نہیں ڈال سکتی کیونکہ یہ ’’جائز کرپشن‘‘ ہے۔ چینکی آمد اور چین کی سرمایہ کاری سے کیا واقعی پاکستانی عوام کو فائدہ ہو گا یا حسب دستور چند ’’معمولی خاندان‘‘ پاکستان کے امیر خاندانوں میں شامل ہو جائیں گے جو اپنی ہوس مٹانے کے لئے اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچنے دیں گے، جن کا ہر منصوبہ میٹروبس کی طرح ہوگا جو عوام کو جھولے دے گا لیکن معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم نہیں کرے گا۔ ان خاندانوں تک معاشی ثمرات ڈیم کے پانی کی طرح پہنچیں گے اور غریب تک چھاننی سے چھن کر آئیں گے۔
    یہ دوخدشات اور اندیشے ہیں کہ پہلا مسئلہ بھی عوام کا مسئلہ ہے کہ چینی عوام کی زبان، تہذیب اورکلچر براہِ راست پاکستانی عوام کو ہی متاثر کریں گے اور پاکستان کے غیر عادلانہ نظام میں مادی اور معاشی فوائد بھی عوام تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ سرکاری اہلکار ، وزیرو مشیر ، بیوروکریٹس اوربااثر تاجر یہ سب کچھ سمیٹ کر اپنے گھر لے جائیں گے۔ اگر غریب کوکچھ ملے گا تو وہ ان خاندانوں کی نوکری اور غلامی کی صورت میں ہی ملے گا۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ دوستی
    Next Article بکھرتی ہوئی داعش اور دہشت گردوں کے فریب
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024
    Leave A Reply Cancel Reply

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by