Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»نظامِ تعلیم اور سماجی ہم آہنگی میں حائل رکاوٹیں
    تما م آرٹیکلز

    نظامِ تعلیم اور سماجی ہم آہنگی میں حائل رکاوٹیں

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجولائی 1, 2017Updated:جولائی 1, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read6 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    پاکستان میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی وجہ سے جہاں مدارس تنقید کی زد میں ہیں وہاں مروجہ نظامِ تعلیم بھی اور اس سے وابستہ اداروں پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں ۔صاحبزادہ امانت رسول نے بھی اسی انداز میں قلم اٹھایا ہے ۔صاحبزادہ امانت رسول چونکہ پاکستان میں قیام امن اور سماجی ہم آہنگی کے لئے ایک توانا آواز ہیں اس لئے وہ ان مسائل سے کماحقہ آگاہ ہیں جوا س سلسلے میں رکاوٹ ہیں ۔ صاحبزادہ امانت رسول سہ ماہی تجزیات اور تجزیات ڈاٹ کام سے وابستہ ہیں ۔وہ ادارہ فکر جدید کے سربراہ اور ماہنامہ ’’روحِ بلند ‘‘ کے مدیر بھی ہیں ۔(مدیر)

    اس مسئلے میں کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ہمارا نظام تعلیم اصلاح طلب ہے۔اسے سماج سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔نظام تعلیم میں ایسی کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے معاشرے کے مختلف طبقات میں باہمی میل جول اور تعلقات ختم ہی نہیں ہوئے بلکہ معاشرہ مختلف فرقوں اور اعلیٰ و ادنیٰ طبقات میں تقسیم ہو کر رہ گیاہے۔نظام تعلیم دو شکلوں میں موجود ہے۔ایک مدارس اور دوسرے سیکولر تعلیمی ادارے۔
    مدارس میں مروّجہ نصاب تعلیم مذہبی تقسیم کو گہرا کررہا ہے اور سکیولر نصاب تعلیم پاکستانیوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کررہا ہے۔کسی بھی تقسیم و تفریق کو ایک دوسرے سے کم اور زیادہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔جس معاشرے میں رائج نظام تعلیم طبقاتی امتیاز پر قائم ہو وہاں سماجی ہم آہنگی کہاں سے پیدا ہوگی۔مدارس کا مسئلہ طبقاتی نہیں فرقہ وارانہ ہے،وہاں اردو بولنے والے ایک ہی لباس میں دکھائی دیتے ہیں۔وہاں بریلوی،دیو بندی،اہلحدیث اور شیعہ ہیں لیکن برہمن،کھشتری اور شودر نہیں ہیں۔لاریب یہ تفریق بھی سماج کے افراد میں مل بیٹھنے اور مکالمہ کے امکانات کو کم کردیتی ہے لیکن سیکولر تعلیمی ادارے واقعی برہمن کھشتری اور شودر کی تقسیم پیدا کررہے ہیں۔ایک ہی گروپ یا ایک ہی شخص نے تین قسم کے ادارے قائم کئے ہوئے ہیں ایک میں ایلیٹ اور بزنس کلاس کے بچے ،دوسرے میں ملازمت پیشہ ،متوسط اور تیسرے میں غریب اور کم آمدنی والے والدین کے بچے تعلیم پاتے ہیں۔تعلیم بھیBranded ہے۔جیسے کپڑے اور جوتےBranded ہوتے ہیں۔ایک طبقہ حکمران بنتا ہے،دوسرا طبقہ اعلیٰ ملازمتوں کا خواہش مند اور تیسرا طبقہ غلامی یا ناتمام خواہشوں کو پالنے کیلئے تعلیم پاتا ہے۔اس لئے موجودہ نظام تعلیم سے طبقات میں خلیج ہی نہیں بڑھ رہی بلکہ احساس محرومی بھی بڑھ رہا ہے۔ایک طبقہ اردو میڈیم کو ’’تحقیر‘‘کیلئے اور دوسرا طبقہ’’کالے انگریز‘‘ کا عنوان دے کر اپنا غصہ نکالتا ہے۔رہی سہی کسر تعلیمی اداروں میں طلباء سیاست نے نکال دی ہے۔غریب کا بچہ سیاسی سرگرمیوں کی نذر ہو جاتا ہے اور امیر کا بچہ اعلیٰ عہدوں اور مناصب پر پہنچ جاتا ہے۔سیاسی سرگرمیوں کو جائز قرار دینے والوں نے جب اپنے ادارے قائم کیے تو انہوں نے اپنے اداروں میں طلبا سیاست کو‘‘شجر ممنوعہ‘‘قرار دیا۔ایسا محسوس ہوتا ہے ہمارے ملک میں غریب کو ایندھن کے طورپر رکھا جاتا ہے۔جب چاہا اسے اپنی سیاست و حکومت کی بھٹی میں جھونک دیا۔وسائل سے محروم طبقہ رہی سہی کسر اپنے جذبات کے ہاتھوں نکال دیتا ہے اور اعلیٰ طبقے کی انگلیوں کے اشاروں پر ناچتا ہے۔
    دونوں نصاب تعلیم کا جائزہ لیں تو دونوں میں بہت کچھ مماثل ہے یعنی نقائص مشترکہ ہیں،دونوں میں ایک چیز مفقود ہے اور وہ خود کی تربیت ہے۔سیکولر نصاب میں خود کے کردار و شخصیت کو مقصود بتانے کے بجائے اس کی تعلیم کو چند مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنا دیاگیا ہے۔طلبا ء و طالبات کی دلچسپی کے موضوعات فقط وہی رہ گئے ہیں جن سے وہ زیادہ سے زیادہ کما سکتے ہیں اور زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھ سکتے ہیں۔فلسفہ اور سوشل سائنس جیسے مضامین ان کی عدم دلچسپی کا شکار ہو چکے ہیں۔ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے بتایا کہ ہم نے اس حوالے سے طلباء و طالبات کیلئے محرکات بھی پیدا کئے کہ کس طرح وہ ان مضامین کی طرف بھی آئیں لیکن کسی نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی ہے۔مدارس کے نصاب اور ماحول میں علم الکلام کے مباحث نے طلباء کے اذہان پر ایسا رعب طاری کیا ہوا ہے کہ جس کے باعث طلباء و فضلاء اپنے آپ کو مکمل اور کامل انسان خیال کرتے ہوئے دوسروں کی ’’گہرائیوں ‘‘کی تحقیق میں مصروف رہتے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے ہر اہل فرقہ خیال کرتا ہے کہ اس کے نظریات ’’منذل من اللہ‘‘ ہیں اور دوسروں کے نظریات بدعت ہیں ۔دونوں صورتوں میں انسان فخر و تکبر کی اس سطح پر آکھڑا ہوتا ہے جہاں سے اسے ہر دوسرا کمتر اور کم درجہ کا انسان دکھائی دیتا ہے۔
    پاکستان میں اکثریت اہل سنت کی ہے۔جیسے ایران میں اکثریت اہل تشیع کی ہے۔سکیولر نصاب تعلیم پر منعقدہ سیمینارز کانفرنسز اور ورکشاپس میں شرکت کرتا رہتا ہوں۔نصاب تعلیم پر اہل تشیع کے علماء کرام کے خیالات سننے کا موقع ملتا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامیات کے مضمون کے تاریخ کے حصے میں اہل تشیع کیلئے وہی کچھ ہے جو اہل سنت کے مطابق ہے۔اسی طرح پاکستان میں موجود غیر مسلم برادری مثلاً ہندو ،مسیحی اور پارسی طلباء سے اسلامیات کو پڑھنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے انہیں امتیازی نمبرز حاصل کرنے کیلئے قرآن مجید کی خاص سورتیں حفظ کرنے پر مجبور بھی کیا جاتا ہے۔اعلیٰ نمبرز حاصل کرنے کیلئے وہ سورتیں حفظ بھی کرلیتے ہیں۔ہمارے سیکولر نصاب تعلیم پر پاکستانی غیر مسلم برادری کو بہت سے تحفظات ہیں۔
    ایسے ہی نویں کلاس کے نصاب میں سورۃ الانفال شامل ہے جو اپنے مقامات و مسائل کی وجہ سے ایک مشکل سورۃ ہے۔ایک نوجوان جسے اخلاقی اورانسانی تصحیح کی ضرورت ہے تاکہ اس کا کردار اور افکار ایک اعلیٰ سانچے میں ڈھل سکیں۔قرآن مجید میں سورۃ الانعام،سورۃ الاسراء،سورۃ الحجرات وغیرہ میں کئی ایسے مقامات ہیں جن کا تعلق اخلاق،معاملات سے ہے جن سے ایک مسلمان کا تزکیہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرے میں ایک ذمہ دار شہری بن کر زندگی بسر کرے اس کے بجائے اسے وہ مقامات پڑھائے جاتے ہیں جن کا تعلق خاص حالات سے ہے اور وہ جنگ و قتال کے حالات ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمغرب اور علوم انسانی
    Next Article سائنس ۔۔ مسلم اور مغربی رویوں کا فرق
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by