"حسن ظن” جیسی قدر ہمارے معاشرے میں ناپید ہو کر رہ گئی ہے۔ کان ایسی بات سننے کو ترس جاتے ہیں جو کسی کے متعلق کسی کی زبان سے نکلے اور وہ بات حسنِ ظن پہ مبنی ہو۔ہم جس اعلیٰ نظریات پہ مبنی معاشرہ تشکیل دینے کی فکر میں صبح وشام ہلکان ہوئے پھرتے ہیں،ایسامعاشرہ کیسے تشکیل دیا جا سکتا ہے جبکہ اس کیلئے کوشش کرنے والے افراد بنیادی اخلاقی خوبیوں سے ہی محروم ہیں ۔ ہماری اجتماعی زندگی کو بدظنی اور شکوک وشبہات کے عفریت نے اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ ہم اپنے ساتھ والے شخص مقابل، یا…
Author: صاحبزادہ محمد امانت رسول
کیا سیاسی مسائل آئیڈیل ازم کی بنیاد پر حل کیے جا سکتے ہیں یا انسانی تاریخ میں کبھی سیاسی مسائل آئیڈیل ازم سے حل کیے گئے ۔ واضح بات ہے کہ اس کا جواب نہیں میں ہے۔ دنیا میں مسائل ہمیشہ زمینی حقائق اور واقعاتی صورت حل میں کیے جاتے رہے ہیں او ر کیے جاتے ہیں۔ جو افراد اور اقوام آئیڈیل ازم کے نعرے پہ مسئلے کا حل مانگتے ہیں یا تو وہ صرف اپنے مطابق مسئلے کا حل چاہتے ہیں یا وہ مسئلے کا حل ہی نہیں چاہتے ۔ جنگ وجدال کبھی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتے،…
ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں؟یہ سوال مختلف چینلز پہ پروگرام کا موضوع بنتا ہے ۔ ہر محفل میں تقریباً یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ آخر "ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں” اسلامی دنیا اور مغربی دنیا میں مساجد کثیر تعداد میں موجود ہیں اور ابھی مزید تعمیر کی جا رہی ہیں۔ ایک ارب سے زائد مسلمان ہیں جو مساجد میں ہی نہیں اپنے گھروں ، پارکوں ، گراﺅنڈز ، شادی ہال اور کمیونٹی سنٹرز میں اجتماعی دعاﺅں کا اہتمام کرتے ہیں۔ لوگ کثرت سے شریک ہوتے ہیں ، گڑ گڑاتے ، روتے اور التجائیں کرتے ہیں۔ دعا…
سماجی رویوں میں تبدیلی چند روز کی ریاضت سے نہیں بلکہ سال ہا سال کی محنت سے ممکن ہے۔ اس کے لئے اساتذہ کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ علمائے کرام کے بعد اساتذہ کا طبقہ ہے جس کا ربط و تعلق عوام سے بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اگرغور کیا جائے تو اساتذہ کا کردار اس حوالے سے زیادہ اہم ہے کہ اس کا تعلق نوجوان نسل سے ہوتا ہے اوراس تعلق کی بنیاد علم و تعلیم ہے۔ نوجوان نسل کا آئیڈیل اس کا استاد ہوتا ہے ۔ وہ اپنے استاد سے متاثر ہوتی اور اس کی کامیابی کا انحصار…
زھد باطنی اخلاق سے ہے، جس کا مطلب دنیا سے بے رغبتی اور بے پرواہی ہے ۔ باطنی اخلاق سے مراد وہ خوبیاں اور اوصاف ہیں جنہیں انسان خودمحسوس کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس انسان نے اپنی ذات پہ کتنی محنت کی ہے اور کس حد تک اپنا تزکیہ نفس کیاہے۔ تزکیہ نفس کا ظہور اعلیٰ اخلاق سے ہوتا ہے۔ اگر انسان اپنے معاملات میں خدا خوفی ،عدل اور تقویٰ کو اختیار کرتا ہے گویا اس نے اپنا تزکیہ کیا ہے۔جو ان باتوں کا خیال نہیں کرتا ،بے خوفی، ظلم اور احسا سِ جواب دہی…
مرد اور عورت کا سب سے خوبصورت رشتہ میاں بیوی کا ہے۔ قرآن مجید نے اس رشتے کوان الفاظ میں بیان کیا ہے ۔’’وہ (بیویاں)تمہارا لباس ہیں اور تم(خاوند)ان کا لباس ہو‘‘ ۔ لباس کے بے شمار فوائد ہیں لیکن تین فائدے ایسے ہیں جو بالکل واضح ہیں۔ ایک فائدہ یہ ہے کہ لباس ہمیں موسمی اثرات سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہم سردی میں گرم لباس اور گرمی میں باریک اور ہوا دار لباس استعمال کرتے ہیں ۔ گویا لباس ہمیں زمانے کے اثرات سے محفوظ رکھتاہے۔ اس کی تبدیلی حالات و واقعات کے مطابق ہوتی ہے ۔ دوسرا…
پاکستان میں تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں شدید نظریاتی، مذہبی اور سیاسی اختلافات موجود ہیں جن کا اظہار وہ الزام و دُشنام اور تہمت و بہتان کے ذریعے کرتے رہتے ہیں۔ دورِ گزشتہ میں، نواز شریف صاحب اور بے نظیر بھٹو مرحومہ کے اختلافات، ایم کیو ایم اور جماعتِ اسلامی کے اختلافات، ایم کیو ایم اور پاکستان مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے باہمی اختلافات وغیرہ وغیرہ۔ دورِ حاضر میں، مولانا فضل الرحمن اور عمران خان، نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری …… ڈاکٹر طاہر القادری وغیرہ وغیرہ…….کے باہمی اختلافات قارئین! آپ حیران ہوں گے، اِن شدید…
دورِ حاضر میں ایسے ہی نوجوانوں کی ضرورت ہے جن کی اسلام سے وابستگی جذبات و کم عملی کی بنیاد پر نہیں بلکہ عقل و علم پہ مبنی ہو حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ ایک خوبرو نوجوا ن تھے۔ آپ کا تعلق مکہ المکرمۃ کے ایک متمول اور امیر خاندان سے تھا۔ امیر زادے ہمیشہ لباس سواری رہائش اور خوراک کے بارے میں حساس اور Selective Choiceرکھتے ہیں۔مصعب بن عمیررضی اللہ تعالیٰ عنہ اعلیٰ معیار کالباس زیب تن کرتے، جب کھانا تناول کرتے تو انواع واقسام کے کھانے دستر خوان پہ سجائے جاتے ، اس طرح رہائش…
وہی شخص حزب اختلاف کے دور میں ہمارے ساتھ مل کر حکومت کے خلاف تحریک چلا رہا ہوتا ہے تو اس سے اسلام ،پاکستان اور جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں، جیسے ہی وہ حکمران بنتا ہے اس سے اسلام ،پاکستان اور جمہوریت کوخطرہ لاحق ہو جاتا ہے۔ حکمرانوں کے ساتھ ہمارا رویہ اور برتاؤ کیسا ہونا چاہئے؟ اس بارے شعور وآگہی ازحد ضروری ہے۔ ظلم پہ مبنی عمل صرف حکمرانوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ ظلم پہ مبنی رویہ عوام کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے۔ عوام کے مجموعی رویے کے پیچھے دانشور اور علماء کا طبقہ ہوتا ہے…
مذہب کا میدان ہو یا سیاست کا، صحافت کا میدان ہو یا تجارت کااِ ن تمام میدانوں میں واقعی ہم تعمیری مقابلے کی فضا پیدا کر رہے ہیں یا صرف ہیجانی کیفیت پیدا کر کے اپنے اپنے مقاصد حاصل کر رہے ہیں؟ میں اِسے مقابلے کی فضاکہوں یا ہیجانی کیفیت کا ماحول ……… مجھے رمضان المبارک میں مختلف چینلز پہ آن ایئر پروگرام دیکھ کر فیصلہ نہیں ہو پایا۔ مذہب کا میدان ہو یا سیاست کا، صحافت کا میدان ہو یا تجارت کااِ ن تمام میدانوں میں واقعی ہم تعمیری مقابلے کی فضا پیدا کر رہے ہیں یا صرف ہیجانی…
