ایک زمانہ تھا جب ایک لکھاری کسی اخبار میں اپنا مضمون چھپوانے اورکسی ٹی وی چینل پہ آنے کیلئے بہت بے تاب رہتا تھا۔اگر اخبار والے مضمون لے لیتے تو پھر اس کی اشاعت کا انتظار رہتا تھا۔ یہی صورتِ حال ٹی وی پروگرام کی ہوتی تھی، ہمارے ایک عزیز کا پروگرام پی ٹی وی پہ آنا تھا ،وہ بھی پی ٹی وی کے آخری پروگرام فرمانِ الٰہی سے کچھ دیر پہلے آیا یا خود فرمانِ الٰہی ہی ان کا پروگرام تھا۔ انہوں نے ہمیں نیند سے اٹھا کر اپنا پروگرام دکھایا تو ہم نے ان کا دل رکھنے کے لئے نیم واں آنکھوں سے وہ پروگرام دیکھا۔ایسے پروگراموں کا دورانیہ بس اتناہی ہوتا تھا کہ انسان کھانا کھانے کیلئے ہاتھ دھو کر آئے تو وہ پروگرام ختم ہو چکا ہوتا تھا۔ بچپن میں،میں نو نہال، بچوں کا باغ اور بچوں کی دنیا میں کہانی لکھتا تو پورا مہینہ ہاکر سے پوچھتا رہتا کہ یہ رسالہ کب آتا ہے، ہاکر بھی تنگ آ کر کہہ دیتا۔بیٹا! اب آپ نے نہیں پوچھنا میں خود بتادوں گا۔ اگر کہانی لکھ لینی تو فقط بہن، بھائی تک ہی نہیں بلکہ خاندان میں مشہور ہو جاتا کہ یہ کہانی بھی لکھتا ہے اور فلاں رسالے میں اس کی کہانی شائع بھی ہو چکی ہے۔ اب صورتِ حال بالکل مختلف ہے ، سب سے پہلے ٹی وی چینلز آئے،اس کے بعد سوشل میڈیا آیا۔ ٹی وی چینلز نے گزشتہ صورتِ حال کو بدلا تو اب سوشل میڈیا نے صورتِ حال کویکسر بدل دیا ہے۔ اب لکھاری کو کسی اخبار کے پاس جانے کی ضرورت نہیں، ایسے ہی کسی کو اپنی بات کہنے کے لئے ٹی وی چینل پہ بھی جانے کی ضرورت نہیں ، وہ اپنے کیمرے سے ہی اپنی گفتگو ریکارڈ کرتا اور سوشل میڈیا پر ڈال دیتا (Upload)ہے ۔ اسی وقت ہی دیکھنے والوں کی طرف سے تبصرے آنا شروع ہوجاتے ہیں ہر شخص اپنی طبعیت اور یہاں تک کہ فطرت کے مطابق بھی تبصرہ کرتا ہے ۔ویڈیو ریکارڈہو سکتی ہے اسی طرح لائیو کا بھی آپشن (Option)موجود ہے، دونوں صورتوں میں لوگوں کی طرف سے رائے آتی ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز کا کردار کم اور غیر اہم ہوتا جا رہا ہے ، اس لئے میڈیا ہاﺅسز نے بھی سوشل میڈیا کا رخ کر لیا ہے ۔ اطلاعات یہ ہیں کہ چینلز کے مالکان سوشل میڈیا کی مقبولیت سے پریشان ہیں ،واضح بات ہے کہ وہ اس کی متبادل صورت بھی ضرور پیدا کریں گے تاکہ وہ Survive کر سکیں۔
انسان جو سوچتا اور لکھتا ہے اسے فیس بک، ٹوئٹر وغیرہ پہ پوسٹ کردیتا ہے اسی وقت اسے تنقید وتعریف دونوں مل جاتیں ہیں ۔ پہلے ہمارے اختیار میں تھا کہ تنقید کو نہ سنیں اور تنقید کرنے والے کا منہ بند کر دیں، "شہنشاہ عالم” بن کر فقط تعریف سے لطف اندوز ہوں اورارد گرد واہ واہ کرنےوالے ہروقت موجود رہیں لیکن اب صورتِ حال بدل چکی ہے۔ آپ جو کچھ لکھتے اور پوسٹ کرتے ہیں کچھ دیر میں ہی اس کا "تیاپانچہ”بلکہ آپریشن کر دیاجاتا ہے۔ آپ کے خیالات و افکار کی گہرائی ہو یا”بوداپن” سب کچھ کھول کرسامنے رکھ دیا جاتا ہے۔آپ اپنے تحریر کردہ خیالات سے رجوع کرنے یا دوبارہ سوچنے پر مجبور ضرور ہو جاتے ہیں ۔اس لئے سیاست و صحافت ،مذہب وفلسفہ کے بڑے بڑے اساتذہ سوشل میڈیا پہ آنے سے گھبراتے یا ارادة گریز کرتے ہیں اور فقط تصاویر اپ لوڈ کرنے میں ہی عا فیت خیال کرتے ہیں۔ اللہ بھلا کرےفیس بک کے مارک زکربرگ کا کہ اس نے”بلاکنے” کا بھی اختیار دیا ہوا ہے۔ جو صاحب حدود پار کرتے اور اختلاف کو ذاتیات کا رنگ دیتے ہیں انہیں مستقل طور پر دو ر کرنے کا اختیار بھی صاحب پوسٹ کے پاس ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پہ سب سے زیادہ "چالاک” وہ لوگ ہیں جو کسی کا دل نہیں دکھاتے سب کا "رانجھا” راضی رکھتے ہیں، وہ زیادہ سے زیادہ لائیک سمیٹتے اور اپنی Followingانجوائے کرتے رہتے ہیں ۔ انہیں بات کرنے کا فن آتا ہے یا فن کی بات کرتے ہیں بہرحال لوگ انہیں پسند کرتے ہیں۔ جب ہمیں اپنے خیالات ونظریات دوسروں تک پہنچانے کے لئے مکمل آزادی حاصل ہے تو ایسے حالات میں ہماری ذمہ داریاں اور بھی بڑھ جاتی ہیں۔ میں ان تمام ذمہ داریوں کو بالترتیب نقل کر دیتا ہوں جو میرے نزدیک سب سے پہلے ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہیں۔
(1) ہم سیاسی ،تاریخی اور مذہبی اختلاف کو ذاتی اختلاف کارنگ نہ دیں۔
(2) ہم شائستگی کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔
(3) ہم ایک دوسرے کی ممدوح شخصیات کی تضحیک وتذلیل نہ کریں ،ان سے اختلاف کو اختلاف کے دائرے میں بیان کریں ۔
(4) سوشل میڈیا پہ موجود معدودے چنداہل علم سے علمی استفادہ کریں ،ان کی انفرادی رائے کو ان کے”تفردات” کی حیثیت سے قبول کریں۔
(5) جہاں صورتِ حال خراب ہو وہاں تیل کانہیں بلکہ پانی کا کام کریں۔
(6) کسی کی ایک پوسٹ سے اندازے لگانے سے پہلے، اس کی گزشتہ پوسٹیں پڑھنے کی تکلیف گوارہ کریں ۔
(7) کسی بھی فرد سے شدید اختلاف کی صورت میں بھی اسے بُرے القابات دینے سے گریز کریں۔
(8) گروپ بندی سے پرہیز کریں۔
(9) غیر ضروری پوسٹ اور ضیاع وقت سے بچیں۔
(10) کسی کے خلاف ایسی سنگین کمپین نہ چلائیں کہ اس کا پاکستان میں جینا دوبھر ہو جائے۔
احتیاط کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں اگرچہ آپ عالم تنہائی میں میسج لکھ رہے ہوتے ہیں لیکن آپ کے خیالات وتصورات دنیا تک پہنچتے ہیں جن سے فقط آپ کی شخصیت و تربیت کا ہی نہیں بلکہ آپ کے دین و دھرم کابھی اندازہ کیا جا رہا ہوتا ہے ۔ گویا آپ اپنے ملک کے نمائندہ ہی نہیں بلکہ اپنے دین ونظریہ کے بھی مبلّغ ہوتے ہیں۔ آپ کی گفتار، متانت اور تواضع سے لوگ آپ کے قریب ہوتے اورآپ ان کے لئے اپنی تہذیب ، وطن اور مذہب کاتعارف بنتے ہیں۔ اگر ان ذمہ داریوں کا ہم خیال کر کے سوشل میڈیا کو استعمال کریں گے توسائنسی انقلاب سے واقعی اپنے معاشرے کی خدمت کرپائیں گے ورنہ تخریب و فساد کی رفتار میں تیزی آنے کی صورت میں جو کچھ کل ہو نا تھا اس کا شکار ہم آج ہی ہو جائیں گے۔
