Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»پنجاب میں مذہبی جماعتوں کی مرکزیت اور ان کا قومی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ
    تما م آرٹیکلز

    پنجاب میں مذہبی جماعتوں کی مرکزیت اور ان کا قومی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 28, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read5 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    یہ مکالمہ پاکستان کی مذہبی جماعتوں کے اثر و رسوخ اور پنجاب میں ان کی مرکزیت پر روشنی ڈالتا ہے۔ عامر رانا نے ماجد نظامی سے گفتگو کی، جو معروف صحافی اور محقق ہیں اور پاکستان میں مذہبی سیاست پر بہت کام کر چکے ہیں۔ اس گفتگو میں جماعتِ اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، تحریکِ لبیک، جماعت الدعوۃ، سپاہِ صحابہ اور دیگر مذہبی جماعتوں کی سیاسی طاقت، زوال اور ریاست سے تعلقات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ مکالمہ پاکستان کی مذہبی سیاست کا ایک ٹھوس اور بصیرت افروز تجزیہ پیش کرتا ہے۔
    سوال:ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ پاکستان میں مذہبی جماعتوں کی تعداد اور ان کا اثر و رسوخ کتنا ہے۔ ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ پنجاب ملک کے سیاسی و نظریاتی بیانیے کو قابو کرتا ہے۔ کیا یہ درست ہے، یا اس تصور کی درستی ضروری ہے؟
    جواب: جی، بہت شکریہ۔ اگر ہم مذہبی جماعتوں کو مختلف زاویوں سے دیکھیں تو ان کی کئی جہتیں سامنے آتی ہیں۔
    ایک پہلو مکاتبِ فکر کے لحاظ سے درجہ بندی ہے، اور دوسرا پہلو وقت کے لحاظ سے ہے یعنی کون سی جماعتیں آج فعال ہیں اور کون سی غیر فعال ہو چکی ہیں۔
    مکاتبِ فکر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو وہ جماعتیں جنہوں نے ریاستی بیانیہ اپنایا، مثلاً افغانستان اور کشمیر کے معاملات میں ریاست کے ساتھ کھڑی ہوئیں، ان میں جماعتِ اسلامی اور جماعت الدعوۃ نمایاں ہیں۔ جماعت الدعوۃ نے بعد میں ملی مسلم لیگ کے نام سے ایک سیاسی وِنگ بھی بنایا، اگرچہ وہ باضابطہ طور پر اس تعلق کو تسلیم نہیں کرتے۔
    بریلوی مکتبِ فکر میں تحریکِ لبیک کا ابھار ایک دلچسپ واقعہ ہے۔ یہ مکتبِ فکر طویل عرصے سے سیاست سے الگ تھا۔ متحدہ مجلسِ عمل میں اگرچہ شاہ احمد نورانی کو سربراہ بنایا گیا تھا، مگر نوّے کی دہائی کے بعد بریلوی سیاست کمزور ہو گئی تھی۔ تحریکِ لبیک نے ایک خلا پُر کیا اور اس مکتبِ فکر کو دوبارہ سیاسی طور پر متحرک کیا۔
    عامر رنا: یہ کہا جاتا ہے کہ تمام مذہبی جماعتوں کا مرکز پنجاب ہے۔ تبلیغی جماعت رائیونڈ میں، جماعتِ اسلامی منصورہ لاہور میں، تحریکِ لبیک ملتان روڈ پر، سپاہِ صحابہ جھنگ یا لاہور میں، اور اہلِ حدیث تنظیمیں فیصل آباد یا سیالکوٹ میں۔ جبکہ شیعہ تنظیموں کا مرکز بھی پنجاب میں ہے۔ صرف جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ہے جس کا مرکز پنجاب میں نہیں۔
    سوال: ایسا کیوں ہے کہ پنجاب مذہبی سیاست کا گڑھ بن گیا ہے؟
    جواب: یہ بات درست ہے کہ پنجاب میں تقریباً تمام مذہبی جماعتوں کے ہیڈکوارٹرز موجود ہیں۔ اس کے چند بنیادی اسباب ہیں۔
    پہلا یہ کہ پنجاب کے سماجی اور ریاستی ڈھانچے میں ریاست مخالف رجحان کم ہے۔ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں ریاست سے شکوے رہے، مگر پنجاب تاریخی طور پر ریاستی نظریے سے ہم آہنگ رہا۔ چونکہ پاکستان کا قیام نظریۂ اسلام پر ہوا، اس نظریے کے محافظ دو قوتیں رہیں ؛ ریاستی ادارے اور مذہبی طبقہ۔
    یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور مذہبی جماعتوں کا تعلق جڑتا ہے۔ پنجاب میں ان جماعتوں کو رسائی، وسائل اور قبولیت بھی زیادہ ملی۔
    یوں پنجاب تبلیغی، سیاسی، عسکری اور فلاحی تمام مذہبی جماعتوں کا مرکز بن گیا۔ یہ خود ایک دلچسپ تحقیقی موضوع ہے کہ کیوں دیگر صوبوں کے مقابلے میں پنجاب میں مذہبی سیاست زیادہ پھلی پھولی۔
    سوال: اگر انہی جماعتوں کے ہیڈکوارٹر بلوچستان منتقل کر دیے جائیں، تو کیا وہاں بھی ریاستی نظریہ مضبوط ہو جائے گا؟
    جواب: نہیں، میرا نہیں خیال۔ وہاں فلاحی سرگرمیوں کا رجحان کم ہے اور ریاستی نظریے کی پاسداری بھی اس سطح پر نہیں پائی جاتی۔ اس لیے وہ اثر وہاں پیدا نہیں ہو سکتا۔
    سوال: تو کیا یہ کہنا درست ہے کہ مذہبی جماعتوں کی سیاسی معیشت (political economy) پنجاب سے چلتی ہے؟ ان کی انتخابی قوت باقی جماعتوں کے مقابلے میں کتنی ہے؟
    بالکل۔ گزشتہ دس برسوں میں منظرنامہ کافی بدلا ہے۔
    مشرف کے دور تک جماعتِ اسلامی تیسرے نمبر کی جماعت سمجھی جاتی تھی۔ لیکن بعد میں تحریکِ لبیک پاکستان (TLP) نے وہ جگہ لے لی۔
    کئی حلقوں میں تحریکِ لبیک نے چالیس پچاس ہزار ووٹ لیے ، جو پنجاب میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔
    2018 کے انتخابات میں ایم ایم اے اور تحریکِ لبیک کے ووٹوں میں صرف چار لاکھ کا فرق تھا، حالانکہ اس وقت TLP اندرونی تقسیم کا شکار تھی۔ اگرچہ اب ان کی مقبولیت کچھ کم ہوئی ہے، مگر اثر برقرار ہے۔
    سوال: جے یو آئی کے کے پی اور بلوچستان میں بھی ووٹ بینک ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ پنجاب میں تحریکِ لبیک کا کردار اسی طرح کا ہے؟
    جواب: جی، کسی حد تک۔جب ہم حلقہ جاتی سیاست دیکھتے ہیں تو تین عوامل اہم ہوتے ہیں: امیدوار کی شخصیت، پارٹی کی اہمیت، اور قومی سطح کی مہم۔
    تحریکِ لبیک کا ووٹر بریلوی مکتبِ فکر سے آتا ہے، جسے یہ احساس دیا گیا کہ ریاست نے اس مکتب کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ یہی احساس ان کی سیاسی متحرکیت کا محرک بنا۔
    ان کے ووٹرز میں خواتین اور نوجوان بھی شامل ہیں۔ اب جماعت شدت پسندی کے تاثر کو کم کرنے کے لیے خود کو اعتدال پسند اور سیاسی طور پر پیش کر رہی ہے۔
    سوال: دلچسپ بات یہ ہے کہ تحریکِ لبیک اور جماعت الدعوۃ دونوں نے تقریباً ایک ہی وقت میں سیاست میں قدم رکھا، مگر جماعت الدعوۃ پیچھے رہ گئی۔ کیوں؟
    جواب: فرق یہ ہے کہ تحریکِ لبیک نے ابتدا سے سیاست کو مرکزِ عمل بنایا، جب کہ جماعت الدعوۃ طویل عرصہ ریاست کے ساتھ بھارت مخالف بیانیے میں کھڑی رہی۔
    اب جب انہوں نے سیاست کی راہ اپنائی تو اپنی ہی نسل کو قائل کرنا مشکل تھا۔ اندرونی مخالفت بھی سامنے آئی، اس لیے وہ سیاسی میدان میں مضبوط نہ ہو سکے۔
    سوال: وہ تو جمہوریت کے خلاف تھے، اسے کفر کا نظام کہتے تھے، اور حافظ سعید صاحب تو الیکٹرانک میڈیا کے خلاف فتویٰ بھی دے چکے تھے۔ لیکن سیلاب یا زلزلے جیسے مواقع پر وہ ہمیشہ پیش پیش رہے۔ اس کے باوجود پنجاب کی سیاست میں وہ اثر انداز نہیں ہو سکے؟
    جواب: جی، ان کا اصل رشتہ عوام سے فلاحی کردار کے ذریعے تھا، سیاسی نہیں۔ وہ اب زیادہ تر سماجی عمل میں مصروف رکھنے کی کوشش ہیں۔ ان کا سیاسی کردار ختم ہو چکا ہے۔
    سوال: کیا یہ بھی وجہ ہو سکتی ہے کہ وہ سلفی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، اور پنجاب میں ان کے ماننے والے کم ہیں؟
    جواب: بالکل، پنجاب میں سب سے زیادہ بریلوی، پھر دیوبندی، اس کے بعد اہلِ حدیث اور اہلِ تشیع ہیں۔
    اہلِ حدیث اور شیعہ جماعتیں بطور پریشر گروپ تو فعال ہیں مگر انتخابی سیاست میں کمزور۔
    سوال: کیا سپاہِ صحابہ پنجاب کے سیاسی میدان سے ختم ہو رہی ہے؟
    جواب: سپاہِ صحابہ کے وزرا اور مشیر حکومتوں کا حصہ رہے، بلکہ نوّے کی دہائی میں آصف علی زرداری نے انہیں سینیٹر بنانے کی یقین دہانیاں بھی کروائیں۔ لیکن بعد میں شیعہ مخالف سیاست کی مقبولیت کم ہو گئی۔ اب فرقہ وارانہ بنیادوں پر ووٹ دینا عام رجحان نہیں رہا۔ پھر پابندیوں اور اندرونی اختلافات نے جماعت کو کمزور کیا۔ جھنگ کی نشست سے ان کے امیر لدھیانوی کئی بار ہار چکے ہیں۔ کراچی میں بھی اثر کم ہوا ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست اب عوام میں مقبول نہیں رہی۔
    سوال: پنجاب میں جماعت اسلامی کی صورتحال کیا ہے؟
    جواب: 2002 تک جماعت اسلامی نسبتاً بہتر پوزیشن میں تھی۔
    2008 میں تحریکِ انصاف کے ابھار اور الیکشن بائیکاٹ نے ان کی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا۔
    گزشتہ دو انتخابات میں وہ چوتھے یا پانچویں نمبر پر آ چکے ہیں۔
    ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ملکی سطح پر مہم تو چلاتے ہیں، مگر حلقہ جاتی سیاست میں توجہ نہیں دیتے۔
    سوال: جماعت اسلامی کے زوال میں سراج الحق یا منور حسن کا کردار زیادہ تھا یا ریاستی دباؤ کا؟
    جواب: میرے خیال میں دونوں۔
    ریاستی دباؤ بھی تھا اور جماعت اسلامی کا اپنا سیاسی مسئلہ بھی۔ انتخابی سیاست میں انہوں نے پچھلے 25 سالوں میں کوئی باقاعدہ حکمتِ عملی نہیں بنائی۔ وہ پورے ملک میں مہم چلاتے ہیں مگر کسی خاص حلقے پر توجہ نہیں دیتے۔ بلوچستان میں ان کی دو نشستیں تھیں، ایک ہدایت الرحمٰن (حق دو تحریک) کی اور ایک جعفر آباد سے، جس کے بارے میں مرکز کو خبر بھی نہیں تھی۔ اگر وہ انتخابی سیاست سنجیدگی سے کرنا چاہتے تو کراچی ان کے لیے ایک مثال بن سکتا تھا۔
    سوال: جماعت اسلامی میں یہ بحث نوّے کی دہائی سے چلی آ رہی ہے کہ شہروں پر توجہ دی جائے۔ لیاقت بلوچ اور منور حسن نے لاہور میں کوشش کی، مگر کامیاب نہیں ہوئے۔ حافظ نعیم نے کراچی میں کچھ کام کیا، مگر زیادہ کامیابی نہیں ملی، اس حوالے سے کیا کہیں گے؟
    جواب: 2002 ان کے لیے عروج کا سال تھا، جب ایم ایم اے کے ساتھ مل کر جماعت اسلامی نے پندرہ نشستیں حاصل کیں۔ کراچی میں وہ پیچھے رہ گئے، اور خیبر پختونخوا میں بھی انتخابی سطح پر منظم نہیں ہو سکے۔ بونیر، دیر، چترال جیسے مضبوط گڑھ میں بھی ہار گئے۔ کراچی میں ان کی مینجمنٹ سے کچھ نتائج نکلنے کی امید تھی، مگر حافظ نعیم کے جانے کے بعد اب وہ نہ کراچی میں perform کر پائیں گے نہ ملک میں۔
    سوال: جمعیت علمائے اسلام کہاں کھڑی ہے پنجاب میں؟
    جواب: مولانا فضل الرحمٰن نے غالباً فیصلہ کیا ہے کہ جمعیت کو پنجاب میں محدود رکھنا ہے۔ اتحادی سیاست میں آنے سے وہ خود کو مزید محدود کر لیتے ہیں، جیسے مسلم لیگ ن نے سندھ میں نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ ڈیرہ غازی خان سے مفتی محمود خود منتخب ہوئے تھے، اور electables بھی جمعیت کے ٹکٹ پر آتے رہے ہیں۔ اب البتہ خیبر پختونخوا بھی ان کے ہاتھ سے نکل رہا ہے۔ بلوچستان میں ابھی ان کا اثر باقی ہے۔ جنوبی پنجاب میں دیوبندی مکتبِ فکر کی وجہ سے فورٹ منرو، ڈیرہ غازی خان اور بھکر میں ان کی موجودگی رہی ہے۔
    سوال: تحریکِ لبیک کی سیاست میں کتنا دم خم ہے؟
    جواب: وہ قومی اسمبلی کی سطح پر تو شاید کامیاب نہ ہوں، مگر صوبائی نشستیں ایک دو جیت سکتی ہیں۔
    ان کی مقبولیت میں کچھ کمی آئی ہے، مگر سیاسی دباؤ اور اثر بدستور موجود ہے۔
    عامر رانا: چلیں، پھر مزید گفتگو جاری رکھیں گے۔ ابھی کے لیے آپ کا بہت شکریہ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان میں قانون کے اسلامی تشخص کے مسائل: ایک تجزیاتی مطالعہ
    Next Article لاہور میں سیاسی اور مذہبی تنازعات: امن کی کوششیں اور چیلنجز
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by