Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»لاہور میں سیاسی اور مذہبی تنازعات: امن کی کوششیں اور چیلنجز
    تما م آرٹیکلز

    لاہور میں سیاسی اور مذہبی تنازعات: امن کی کوششیں اور چیلنجز

    ادارہِ تجزیاتBy ادارہِ تجزیاتدسمبر 28, 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read4 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    اس مکالمے میں عمران مختار نے پیٹر جیکب سے گفتگو کی ہے۔ پیٹر جیکب معروف مسیحی رہنما اور دانشور ہیں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ہیں اور اقلیتوں کے مسائل پر کام کرتے ہیں۔ اس مکالمے میں لاہور شہر کے سیاسی، مذہبی، نسلی اور معاشی تنازعات، امن برقرار رکھنے کے اقدامات، امن کمیٹیوں کا کردار، خواتین اور بچوں کی صورتحال، اور امن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ یہ گفتگو لاہور کی موجودہ صورتحال اور مستقبل کے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہے۔
    سوال: لاہور میں سیاسی، مذہبی، نسلی اور معاشی تنازعات کون سے ہیں؟
    جواب: لاہور ایک ترقی پذیر شہر ہے۔ اس کی آبادی بہت زیادہ ہے، اور یہ اپنی صنعت، مواقع، ثقافت اور تاریخ کی وجہ سے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہ بہت سی سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا مرکز ہے۔ اسی طرح کئی انتہا پسند، شدت پسند اور فرقہ وارانہ جماعتوں کے دفاتر بھی لاہور میں موجود ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان (TLP) کا دفتر بھی یہیں ہے۔ ان کے پیروکاروں کی بڑی تعداد ہے۔ ان کی اشتہاری مہم بھی بہت وسیع ہے۔ میلاد کی محافل منعقد کی جا رہی ہیں۔ وہ اپنا نظریہ اور پروپیگنڈا کامیابی سے پھیلا رہے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ شہر میں احمدیوں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ TLP کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور مستقبل میں کسی تصادم کا باعث بن سکتی ہیں۔ ایک اور بڑا مسئلہ زمین کا ہے۔ جائیداد اور زمین کی ملکیت سے متعلق بہت سے تنازعات ہیں، خاص طور پر تعمیراتی کاموں اور ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کے باعث۔ اس کے علاوہ، سیاسی اختلافات کی وجہ سے بھی تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔
    سوال: کیا شہر میں امن برقرار رکھنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے ہیں؟
    جواب: جی ہاں، کئی واقعات ہوئے جیسے جوزف کالونی میں۔ وہاں دو دھماکے ہوئے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ شیعہ برادری کے افراد کو نشانہ بنایا گیا۔ محرم کے دوران پورے شہر کو خطرہ لاحق تھا۔ پھر ہم نے دیکھا کہ اس کے جواب میں سپاہ محمد کے نام سے ایک گروہ سرگرم ہوا۔ یہ سب چیزیں ماضی میں موجود رہیں، مگر اب حالات کافی حد تک قابو میں ہیں۔ حکومت اور کمیونٹی دونوں سطحوں پر امن کے لیے کوششیں کی گئی ہیں۔
    سوال: اگر آپ چند مخصوص امن قائم کرنے کی کوششوں کا ذکر کریں تو بہتر ہوگا۔ پولیس، انتظامیہ یا اداروں کا اس میں کیا کردار ہے؟
    جواب: جی، مذہبی مقامات کی سیکیورٹی کافی بہتر کی گئی ہے۔ محرم سے پہلے امن کمیٹی کی میٹنگز منعقد کی جاتی ہیں۔ کمیونٹی سطح پر بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وہ ادارے جو امن برقرار رکھنے کے لیے کام کرتے ہیں، فعال ہیں۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ جو عناصر تنازعات کو ہوا دیتے ہیں، وہ بھی اپنے اپنے محاذ پر بہت سرگرم ہیں۔
    سوال: سر، آپ نے امن کمیٹی کا ذکر کیا، براہِ کرم اس کی تفصیلات بتائیں۔ اس کا ڈھانچہ اور کردار کیا ہے؟
    جواب: ان امن کمیٹیوں کا کوئی باقاعدہ ڈھانچہ یا قانون سازی موجود نہیں۔ لیکن ضلع کی سطح پر کچھ افراد کو نامزد کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر تاجر یونین کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔
    سوال: اس تناظر میں خواتین اور بچوں کی صورتحال کیا ہے؟
    جواب: خواتین اور بچوں کا کوئی فعال کردار نہیں ہے۔ وہ یا تو تشدد کا شکار بنتے ہیں یا امن کے فائدہ اٹھانے والے ہوتے ہیں، لیکن وہ سرگرم کردار ادا نہیں کرتے ہیں کوئی اس طرح سے۔
    سوال: آپ کوئی suggestion دینا چاہیں گے کہ بڑے پیمانے پر امن قائم کرنے کی کوششیں کیسے بہتر بنائی جا سکتی ہیں؟
    جواب: اس حوالے سے بہت سا کام ہونا باقی ہے۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسا بیانیہ تشکیل دیا جائے جو تشدد اور نفرت کو مسترد کرے۔ یہ کام مقامی سطح پر بھی ہونا چاہیے اور سیاسی سطح پر بھی ہونا چاہیے۔
    سوال: حکومت اس میں کیا کردار ادا کر سکتی ہے؟
    جواب: حکومت کو چاہیے کہ ایسے عوامل کو اجاگر کرے جو مختلف برادریوں کو قریب لاتے ہیں۔ عدلیہ، قانون سازی کے ادارے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا فعال کردار ادا کریں۔ سول سوسائٹی اب سکڑ چکی ہے۔ این جی اوز اور ان کا ڈھانچہ کمزور ہو گیا ہے۔ مگر پھر بھی ایسے کردار موجود ہونے چاہئیں جو امن قائم رکھنے میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ تنوع (diversity) کو فروغ دینا چاہیے۔ پُرامن احتجاج کی اجازت ہونی چاہیے اور آزادی دی جانی چاہیے۔ اظہارِ رائے کی آزادی بھی نہایت ضروری ہے۔
    عمران مختار: چلیں سر، بہت شکریہ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپنجاب میں مذہبی جماعتوں کی مرکزیت اور ان کا قومی سطح پر سیاسی اثر و رسوخ
    Next Article بلوچستان کی شورش: طاقت، انکار اور بڑھتا ہوا تصادم، ایک تجزیاتی مطالعہ
    ادارہِ تجزیات

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by