چیخوف کی طویل کہانی یا ناولا “وارڈ نمبر چھ‘‘ بڑے مؤثر انداز میں ادارہ جاتی غفلت و بے اعتنائی، فلسفیانہ لاتعلقی کے فریب، اور عقل و جنون کے درمیان حائل اس باریک اور مدھم ہوتی ہوئی لکیر کو موضوع بناتی ہے جو بہ ظاہر انسان کو صحتِ عقل اور دیوانگی کے دو الگ الگ دائروں میں تقسیم کرتی ہے.
انتون چیخوف کی کہانیاں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ روسی معاشرے میں پھیلی ہوئی سماجی اور طبی ناہمواریوں سے نہ صرف باخبر تھا بل کہ ان کے سماجی مضمرات پر بھی اس کی گہری نظر تھی۔ اس کی کہانیوں میں اکثر ایسے مریض، ایسے معالج اور ایسے انسان دکھائی دیتے ہیں جو کسی نہ کسی طور معاشرے کے محروم، بے آسرا اور حاشیے پر دھکیلے ہوئے طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کی زندگیاں ایک شدید بحران کے شکار معاشرے کے اضطراب، انتشار اور زوال کی گواہی دیتی ہیں۔
“وارڈ نمبر چھ‘‘ ایک ایسے دور افتادہ اور فرسودہ ہسپتال کی کہانی ہے جس کی زبوں حالی اور مزید تباہی کی طرف بڑھتی ہوئی حالت مرکزی حکام کی نگاہ سے یکسر اوجھل ہے۔ ہسپتال کی عمارت بوسیدہ ہے، دیواروں اور دروازوں پر زنگ جما ہوا ہے، فضا میں بسی ہوئی وحشت اور ویرانی پورے ماحول پر ایک مرگ آلود فضا طاری رکھتی ہے۔
کہانی کے مرکزی کردار ڈاکٹر آندرے یفیمچ راگِن اور ایک طویل عرصے سے وہاں مقید ذہنی مریض ایوان گروموف ہیں۔ راگِن ابتدا میں ہسپتال کی غلاظت، بے ترتیبی اور مریضوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے غیر انسانی سلوک پر سخت برہم ہوتا ہے۔ وہ ان دگرگوں حالات کو بدلنے کا ارادہ کرتا ہے، مگر بیماری، تکلیف اور موت کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ آہستہ آہستہ اس کی باطنی مزاحمت کو نگل جاتا ہے۔ راگن جو کبھی اصلاح کی خواہش رکھتا تھا، رفتہ رفتہ مایوسی اور بے معنویت کے فلسفے میں پناہ لینے لگتا ہے۔ اور آخرکار وہ اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ:
’’ایک جگہ سے جسمانی اور اخلاقی غلاظت نکال بھی دو، تو وہ کسی دوسری جگہ سے پھر نمودار ہو جائے گی۔‘‘
یہ خیال راگن کے لیے ایک طرح کی اخلاقی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔ وہ اپنے ضمیر کو اس دلیل سے مطمئن کر لیتا ہے کہ دنیا کی خرابی کا خاتمہ کرنا کسی ایک انسان کے بس کی بات نہیں۔ یوں مریضوں میں اس کی دل چسپی کم ہوتی جاتی ہے، پیشہ ورانہ ذمہ داری کا احساس ماند پڑتا جاتا ہے اور اخلاقی فرض کا بوجھ بھی اس کے کندھوں سے اترنے لگتا ہے ۔
اب اس کا زیادہ تر وقت گروموف کے ساتھ زندگی اور موت کے معنی پر بحث کرتے ہوئے گزرتا ہے۔راگِن نے ایک محفوظ، آسودہ اور نسبتاً بے فکری کی زندگی گزاری ہے۔ اس لیے اس کا فلسفہء حیات بھی زندگی کے دکھوں سے ایک خاص فاصلے پر کھڑے ہو کر تشکیل پاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ مصیبت اور تکلیف انسانوں پر کسی منظم انصاف یا ناانصافی کے تحت نہیں، محض اتفاق سے نازل ہوتی ہیں اور انسان کو چاہیے کہ ان کے اثرات سے اپنے آپ کو ذہنی طور پر آزاد کر لے۔ دکھ اگر ناگزیر ہے تو اسے نظرانداز کرنا ہی دانائی ہے۔ لیکن گروموف اس فلسفے کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔اس کا فلسفہ حیاتِ انسانی کی کڑوی حقیقتوں کے خمیر سے اٹھتا ہے۔ اس کی حقیقت پسندی کسی کتاب سے اخذ کیا ہوا نظریہ نہیں بل کہ وہ اس کے اپنے زخموں سے پیدا ہوئی ہے۔ اس نے زندگی کی سختیوں کو صرف دیکھا نہیں، انہیں اپنے جسم اور روح پر برداشت کیا ہے۔ اسی لیے وہ اپنے اندر ایک سماجی مصلح کی سی بے قراری رکھتا ہے۔ اسے دنیا کی ناانصافیوں پر غصہ آتا ہے، وہ اس صورت حال میں یکسر تبدیلی چاہتا ہے۔
اس نظریاتی افتراق کی وجہ سے دونوں کو ایک کو دوسرے کی باتیں سطحی اور بے معنی محسوس ہوتی ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ ان کے درمیان ایک عجیب سا باہمی احترام پیدا ہو جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے میں اپنے اپنے وجود کا ایک ایسا عکس دیکھنے لگتے ہیں جس سے فرار ممکن نہیں۔ پھر کہانی ایک المناک موڑ لیتی ہے۔ راگِن کی اپنی ذہنی صحت مشکوک قرار دے دی جاتی ہے اور اسے اسی وارڈ میں داخل کر دیا جاتا ہے جس کا وہ کبھی سربراہ تھا۔
اب وہ ڈاکٹر نہیں رہا بل کہ ایک مریض بن چکا ہے۔ وہ اس جگہ کا ناظر نہیں رہا جسے وہ باہر کھڑے ہو کر فلسفے اور منطق کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتا تھا؛ اب وہ خود اس کا ایک کردار ہے۔ وہی دروازے، وہی دیواریں، وہی بے اعتنائی، وہی بے بسی اور وہی انسان سے انسان کی دوری اب اس کے اپنے وجود پر گزرنے لگتی ہے۔ اور یہی وہ لمحہ ہے جب علم تجربے میں بدل جاتا ہے۔ جو کچھ وہ گروموف کے بارے میں سوچتا تھا، اب اسے خود محسوس کرنا پڑتا ہے۔ جسمانی اذیت اور ذہنی ذلت اسے پہلی بار اس حقیقت تک پہنچاتی ہے جسے محض عقل کی سطح پر سمجھنا ممکن نہیں تھا۔ اب وہ گروموف اور دوسرے مریضوں کی تکلیف کو دیکھتا نہیں، اسے جیتا ہے۔ لہذا راگِن اپنے سابقہ فلسفے سے دست بردار ہو جاتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو قبول کر لیتا ہے جس سے فرار کے لیے اس نے فلسفے کی پناہ لی تھی۔ وہ جان لیتا ہے کہ انسانی دکھ کو محض ایک تجریدی مسئلہ بنا دینا، خود اس دکھ سے بے وفائی ہے۔
چیخوف نے اپنی کہانی کے بیانیے کو علامتی پیکروں اور استعاراتی مناظر سے اس فنی مہارت کے ساتھ آراستہ کیا ہے کہ خارجی مناظر رفتہ رفتہ کردار کے باطن کا آئینہ بن جاتے ہیں۔ جب راگِن پاگل خانے کی کھڑکی سے باہر دیکھتا ہے اور اس کی نگاہ قید خانے کی ان دیواروں پر پڑتی ہے جو خود اس کی اپنی اسیری کا عکس معلوم ہوتی ہیں اور قریب ہی موجود ہڈیوں کی چکی موت، زوال اور فنا کی ایک ہولناک علامت بن کر ابھرتی ہے۔ یہ علامتی اسلوب راگِن کے سڑوک کے بعد ایک بار پھر نمایاں ہوتا ہے۔ اس لمحے وہ چند ساعتوں کے لیے حیاتِ جاودانی اور بقائے دوام کے امکان پر غور کرتا ہے، مگر فوراً ہی اس خیال کو وہم قرار دے کر رد کر دیتا ہے۔ پھر اچانک اسے ایک حیرت انگیز اور تقریباً خواب ناک منظر دکھائی دیتا ہے جب خوب صورت ہرنوں کا ایک غول پوری رفتار سے اس کے سامنے سے گزرتا ہے اور پل بھر میں نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ شاید یہ ہرن اس زندگی کی ان شاداب، متحرک اور دل آویز جہتوں کی علامت ہیں جنہیں راگِن نے زندگی بھر نظرانداز کیے رکھا۔ دنیا اور فطرت سے اس کی بے نیازی جو اس کے خشک اور بے ثمر عقل پرستانہ طرزِ فکر کا نتیجہ تھی، اس مختصر مگر دل گرفتہ صوفیانہ لمحۂ انکشاف میں اپنی انتہا کو پہنچتی ہے۔ یہ ایک ایسی پراسرار جھلک ہے جس میں زندگی اچانک اپنی پوری رعنائی کے ساتھ اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے مگر جس تیزی سے یہ منظر نمودار ہوتا ہے، اسی تیزی سے معدوم بھی ہو جاتا ہے۔ اور شاید یہی اس منظر کا سب سے گہرا المیہ ہے: زندگی کی وہ رعنائی جسے راگِن نے ساری عمر فکری تجرید میں گم کر دیا، اسے آخرکار صرف ایک لمحے کے لیے دیکھ پاتا ہے اور وہ لمحہ بھی خود اس کی زندگی کی مانند، پلک جھپکتے ہی گزر جاتا ہے۔
چیخوف اپنی پُراثر اور معنی خیز منظر نگاری کے ساتھ گروموف اور راگِن کے درمیان ہونے والی بصیرت افروز گفتگو کو بھی نہایت فن کارانہ انداز میں برتتا ہے۔ دونوں کردار زندگی کے فلسفے پر پُرجوش بحث کرتے ہیں اور اپنے اپنے نقطۂ نظر کے حق میں دلائل پیش کرتے ہیں۔ چیخوف کسی ایک فریق کے حق میں صریح جانبداری اختیار نہیں کرتا، بل کہ ان مکالموں کو اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ قاری خود دونوں کرداروں کے خیالات کو پرکھے اور نتائج اخذ کر سکے۔ تاہم، جب راگِن کو انسانی دکھ اور اذیت کی سنگین حقیقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو رفتہ رفتہ اس کے دلائل کی کم زوری آشکار ہونے لگتی ہے۔ جن تکلیفوں کو محض نظری بحث میں آسانی سے نظرانداز کیا جا سکتا ہے، عملی زندگی میں وہی اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں اور راگِن کے مجرد فلسفے کی بنیادیں متزلزل کر دیتی ہیں۔چیخوف گہری اور پُرمعنی منظر نگاری کو فکری و فلسفیانہ مباحث کے ساتھ اس طرح باہم پیوست کرتا ہے کہ ایک ایسی داستان وجود میں آتی ہے جو دیہی روسی معاشرے کی محرومیوں، ناکامیوں اور زوال پر گہری تنقیدی نگاہ ڈالتی ہے۔ ساتھ ہی یہ انسانی دکھ کی گہرائی اور فکر و حقیقت کے درمیان اس وسیع خلیج پر بھی غور کرتی ہے جسے محض فلسفیانہ استدلال کے ذریعے پاٹنا اکثر ناممکن دکھائی دیتا ہے
’’وارڈ نمبر چھ‘‘ کے موضوعات عصری طبی حالات کے لیے بھی غیر معمولی معنویت رکھتے ہیں۔ سب سے پہلا سوال فکر اور حقیقت کے تعلق کا ہے۔ چیخوف نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ فلسفے اور حقیقت پسندی کے درمیان موجود اس کشمکش کو سمجھنے میں صرف کیا۔ ’’وارڈ نمبر چھ‘‘ میں بہ ظاہر حقیقت پسندی فتح یاب ہوتی ہے، مگر شاید اصل نتیجہ کسی ایک کی فتح نہیں بل کہ دونوں کے درمیان ایک صحت مند توازن کی ضرورت کا احساس ہے۔ ہر معالج اپنے ماضی، اپنے تجربات، اپنی تربیت اور اپنے تصورات کا مجموعہ ہوتا ہے؛ اور ہر مریض بھی اپنے ماضی کے زخم، محرومیاں، خوف اور امیدیں اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ اگر ہم اس حقیقت کو سمجھ سکیں تو شاید معالج اور مریض کے درمیان محض ایک پیشہ ورانہ تعلق نہیں بلکہ ایک حقیقی انسانی رفاقت پیدا ہو سکے۔
’’وارڈ نمبر چھ‘‘ ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ صحت اور بیماری کو صرف طبی اصطلاحات میں سمجھنا ممکن نہیں۔ انسانی صحت سماجی، معاشی، ماحولیاتی، نفسیاتی اور طبی عوامل کے ایک پیچیدہ جال میں تشکیل پاتی ہے۔ یہ عوامل ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہوتے ہیں کہ کسی ایک بیماری کے پیچھے کبھی غربت ہوتی ہے، کبھی محرومی، کبھی تنہائی، کبھی ناقص رہائش، کبھی تعلیم کی کمی اور کبھی پورے سماجی نظام کی ناکامی۔ راگِن اسی پیچیدگی کے سامنے بالآخر شکست کھاتا ہے۔ اس کے سامنے مسئلہ اتنا وسیع اور گنجلک ہو جاتا ہے کہ وہ کچھ کرنے کی صلاحیت پر ہی یقین کھو بیٹھتا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں جدید طب کو راگِن کی غلطی سے بچنے کی ضرورت ہے۔
لیکن ’’وارڈ نمبر چھ‘‘ کا شاید سب سے بڑا موضوع انسانی وقار ہے۔ چیخوف کے ’’پاگل‘‘ دراصل ہمیں یہ دکھاتے ہیں کہ جب کسی انسان کو اس کی بیماری کے نام پر قید کر دیا جائے تو اس کی انسانیت کتنی آسانی سے نظروں سے اوجھل ہو سکتی ہے۔
“مریض‘‘، ’’پاگل‘‘، ’’مجرم‘‘، ’’بے گھر‘‘ یا ’’کم زور‘‘ یہ سب الفاظ کبھی کبھی انسان کے پورے وجود کو ایک شناخت میں سمیٹ دیتے ہیں۔ پھر ہم اس شخص کے درد کو نہیں دیکھتے، صرف اس کا لیبل دیکھتے ہیں۔ اسی لیے نگہداشت کا مطلب صرف دوا دینا نہیں۔ اس کا مطلب ہے حساس ہونا، احترام کرنا، عزتِ نفس کو برقرار رکھنا اور اس شخص کو انسان سمجھنا جو ہمارے سامنے بے بسی کی حالت میں موجود ہے۔
یہ اصول سب کے لیے ہے، لیکن ان لوگوں کے لیے اس کی اہمیت کہیں زیادہ ہے جو پہلے ہی معاشرے کے حاشیے پر کھڑے ہیں۔ جن کے پاس آواز کم ہے، وسائل کم ہیں اور اپنی تکلیف بیان کرنے کی طاقت بھی کم ہے، اکثر وہی سب سے زیادہ بے اعتنائی اور بدسلوکی کا شکار ہوتے ہیں۔
’’وارڈ نمبر چھ‘‘ میں راگِن کو اس حقیقت تک پہنچنے کے لیے خود مریض بننا پڑتا ہے۔ اسے خود اس دروازے کے اندر جانا پڑتا ہے جس کے باہر کھڑے ہو کر وہ زندگی، موت، دکھ اور انسانی مصیبت پر فلسفے بیان کرتا رہا تھا۔ اسے خود درد سہنا پڑتا ہے تاکہ دوسرے کا درد سمجھ سکے۔ ہمیں شاید اس سچائی کو سمجھنے کے لیے اتنی بڑی قیمت ادا نہ کرنی پڑے۔ کبھی کبھی صرف اتنا کافی ہے کہ ہم اپنے معمول کی رفتار سے ذرا سا باہر نکلیں، ایک لمحے کے لیے رکیں، اور خود سے ایک سوال کریں:
کیا ہم واقعی اس انسان کو وہ بہترین نگہداشت دے رہے ہیں جس کا وہ مستحق ہے؟
اور شاید اس سوال کی اصل معنویت یہ نہیں کہ ہم اس کا جواب فوراً ہاں میں دے سکیں۔ بل کہ یہ ہے کہ ہم خود سے یہ سوال پوچھتے رہنے کی اخلاقی صلاحیت زندہ رکھیں۔

