ایک مرتبہ منیر نیازی مرحوم مجھے اپنے ساتھ لے کر، علامہ اقبال ٹاؤن، اپنے کسی دوست سے ملنے گئے اور حسبِ معمول راستہ بّھلا بیٹھے۔ میں ان کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے، کبھی ایک گلی میں گاڑی موڑتا تو کبھی دوسری میں۔ اور یوں جانے کتنی ہی گلیوں کی خاک چھانی لیکن نیازی صاحب کی یاد کردہ نشانیوں میں سے کسی ایک کے بھی آثار دکھائی نہ دیے۔ آخر کار میری نگاہ گلی کے نکڑ پر کھڑے ایک باریش شخص پر پڑی جو سفید شلوار قمیص میں ملبوس سرِ عام مسواک کر رہا تھا۔میں نے منیر نیازی صاحب سے…
Author: فیصل اقبال اعوان
عزیزی و محبی! یہ خط تمھیں قدرے تاخیر سے مل رہا ہے۔ تاخیر کی وجہ اسے لکھنے میں تساہل نہیں بل کہ۔۔۔۔۔۔ برخوردار، اب تم سے کیا چھپانا۔ اصل میں اس کا سبب فاروقی اور حنفی ہیں۔ دونوں نے وزیر آغا کے اکسانے پر ڈاک خانہء بہشت کے منصرم کو کسی طرح میرے خطوط کی ترسیل میں رخنہ انداز ہونے پر آمادہ کر لیا تھا۔ وہ واجبی سا ادبی ذوق رکھنے والا شخص ہے۔ اور تم تو جانتے ہی ہو، ایسے آدمی کو پھانسنا تو ہمیشہ سے موصوفین کے بائیں ہاتھ کا کام رہا ہے۔ جب بھی خط پوسٹ کرنے…
رحمن عباس صاحب نے اپنے ناول ” زندیق” کا اتنا ڈھول پیٹا، اتنی منادی کی اور اس قدر دھوم مچائی کہ واقعی ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ اگر اس عدیم النظیر ناول کو نہ پڑھا تو ہمارا کیا بنے گا؟ لیکن یہ اتنا ردی ثابت ہوا ہے کہ ناول پڑھ کر یہ فکر لاحق ہو گئی ہے کہ خاکم بدہن اگر رحمن عباس کو کچھ ہو گیا تو ” زندیق” کا کیا بنے گا؟ "زندیق” پڑھے ایک ہفتہ سے زائد ہو چکا لیکن ہنوز سمجھ میں نہیں آ رہا کہ آخر پڑھا کیا ہے۔ اکتا دینے والے طولانی خواب،…
عزیزی و محبی! میں جانتا ہوں کہ تمھیں شدت سے میرے خط کا انتظار ہے۔ مجھے تمھاری بےچینی کی وجہ بھی معلوم ہے۔ نقادِ تفنگ انداز اب تک تمھارے قلعہء نقد پر سات مکتوبات کے گولے داغ چکا ہے اور میں نے ہنوز اس کے پانچ عدد خطوط ہی پر بات کی ہے اور وہ بھی قدرے تاخیر سے، لیکن : ‘ ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا’ میں نے گزشتہ خط میں تمھیں مطلع کیا تھا کہ مجھے بہ یک وقت نقادِ زود نویس کے تین عدد خطوط کی نقول…
” لفظ میں پہلے سے موجود معانی کو لفظ سے خارج کرو، دماغ میں پہلے سے راسخ شدہ تصورات کو مٹائو۔۔۔ اس کے بعد ہی تم منتہائے اظہار اور منتہائے ادراک کو یک جان کر سکتے ہو۔ ” صدیق عالم کا ناول ” صالحہ صالحہ” مطبوعہ ” آج” پڑھتے ہوئے بار بار مجھے دریدا کا مندرجہ بالا قول یاد آ رہا تھا۔ ناول نگار نے اس کتاب میں، معاصر اردو فکشن کی مروجہ تفہیم سے جداگانہ طرزِ سخن اختیار کیا ہے۔ اور باز آفرینی کی بجائے انسانی زندگی کو نئی معنویت اور طرزِ احساس کے ساتھ از سر نو دریافت…
عزیزی و محبی! بھئی یہ سنیاسی نقاد تو بہت ہی اڑیل واقع ہوا ہے۔ میں نے سوچا تھا ایک دو خطوط کے بعد تمھاری گلو خلاصی ہو جائے گی، لیکن یہ عدوئے نقد جس عزمِ بالجزم سے تمھارے فہم و ادراک کا کِریا کَرم کرنے پر اُدھارُو ہے؛ ایمان کی کہوں تو مجھے اس کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ یہ نقادِ رنج انگیز تمھارے لیے ہی باعثِ آزار نہیں ہے میرے لیے بھی عذابِ رگ و جاں بن چکا ہے۔ کل دوپہر کے وقت میں چشمہء سلسبیل کے کنارے تختہء گُل پر بیٹھا، تفریحِ طبع کی سبیل کر رہا تھا۔…
عزیزی و محبی! میرے اور تمھارے درمیان جوگی نقاد رفتہ رفتہ ایک پُل کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سوچتا ہوں، نہ وہ تمھیں مدرسانہ پند و نصائح سے لتھڑے ہوئے خطوط لکھتا نہ مجھے خلدِ نعیم میں تمھاری فکر ستاتی۔ میرے پیارے! تم نہیں جانتے اور ہرگز نہیں جانتے کہ تمھاری صحتِ نقد کی بقاء کے لیے مجھے قمریانِ بہشت کے ساتھ اپنے کئی اہسے مشاغل بھی قضا کرنے پڑتے ہیں جو اکثر مومنین کی بہشت کے لیے عالم خواہش و ترغیب آباد کرنے کی واحد وجہ ہیں۔ سلسلہء ستم یہیں نہیں رکتا بل کہ عموماً تپسوی نقاد…
گزشتہ ہفتہ، حفیظ خان صاحب کا ناول ” انواسی” مطبوعہ ” بک کارنر” جہلم پڑھنے کا آغاز کیا۔ کتاب کھولی۔۔۔۔۔ کیا دیکھتا ہوں کہ: ‘ بے طرح توصیفِ "انواسی” کا تھا دفتر کھلا دے رہے تھے باری باری دھوکا بازی گر کھلا ‘ کتاب کے دونوں فلیپ اور پہلے سات صفحات ” مفتیانِ ادب” اور مفت برانِ ادب کی ستائشی آرا کے لیے مختص ہیں۔ ان تبصروں کو پڑھ کر لگتا ہے قاری ” انواسی طیارہ” نامی بس میں بیٹھا ہے۔ مصنف اور دیگر قارئین بھی بغلوں میں ” انواسی” کے نسخے دابے اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں۔ باری…
جب سے کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد کروانے کے لیے حکومتِ وقت نے وردی پوشوں کی خدمات حاصل کی ہیں ہر طرف بے جا بے جا ہو گئی ہے۔ سرکاری سرپرستی میں قوم کو شدید مہذب اور اخیر شائستہ طریقے سے کرونا اور اس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر سے متعلق فوری آگاہی بخشی جا رہی ہے۔ اس عظیم الشان مقصد کے لیے گلیوں، سڑکوں اور چوراہوں کے عین بیچ عوامی آگاہی کے ہنگامی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ جہاں پولیس کے چاک و چوبند جوان بڑی تندہی سے، سرِ عام اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔…
” اینیمل فارم” سیاسی جھانسوں کے مضمرات، نیتاؤں کی شعبدہ بازیوں، پرجا کی نادانیوں، مطلق العنانیت اور اس کے جوازی پروپیگنڈے کے عذابوں، رعیت کی ٹوٹتی امیدوں اور بکھرتے خوابوں کو پُرفریب سادگی سے بیان کرتا جارج آرویل کا ایک ایسا ناول ہے جو اپنی تصنیف کے چھہتر سال بعد بھی relevant ہے۔ اور تب تک رہے گا، جب تک عوامی شعور استعماری قوتوں کا غرور خاک میں نہیں ملا دیتا۔ شاہد شبیر نے عالمی ادب کے اس شہ پارے کا ” جناور جگت” کے نام سے پنجابی زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ فاضل مترجم اس سے پیشتر سیموئل بیکٹ…
