پیٹر بروکس کی یہ بات کتنی معنی خیز ہے کہ ہمارے عہد میں سطحیت اور میڈیوکرٹی کی ماری ادبی تخلیقات کے انبار کی ایک بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم عصر لکھنے والوں کی اکثریت اپنی ادبی روایت کے امکانات اور اس کی اندرونی طاقت سے کام لینے کا ہنر کھو بیٹھی ہے، اردو ادب کی معاصر صورتِ حال پر یہ بات کس طرح صادق آتی ہے اس کا اندازہ معاصر افسانے کی حالتِ زار سے بہ خوبی لگایا جا سکتا ہے۔
ہمارے اکثر لکھنے والے نت نئے نظریات اور فارمولوں کے جال میں یوں الجھ کر رہ گئے ہیں کہ ان کا اپنی ادبی روایت اور اس کی تہذیبی معنویت سے رشتہ ٹوٹنے لگا ہے۔ نئی روایت اور جدت میں ’’اعلیٰ تعلیم‘‘ کے اکثر مدعیان کی ادبی روایت میں میٹرک کی اسناد بھی جعلی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تخلیق کی تازگی اور معنویت کے بجائے سطحی نعرے، مستعار اصطلاحیں اور فیشن زدہ اسالیب اردو ادب پر چھاتے جا رہے ہیں۔ یہ ادیب اس حقیقت کو نہ جانے کیوں فراموش کر دیتے ہیں کہ جدت، روایت ہی کی خاموش سرگوشی ہے۔ جدت، روایت میں نئے رنگ گھولتی ہے، اس میں تازگی کی خوشبو بکھیرتی ہے، اور وقت، جدید حسی تجربات اور عصری شعور کے کومل لمس سے اسے ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ روایت کبھی مکمل نہیں ہوتی، وہ ہر جدت کے ساتھ پلتی ہے، ہر نئے خیال کے ساتھ سانس لیتی ہے۔ یعنی جدت، روایت ہی کا تسلسل ہے۔ لیکن اگر جدت کا پودا روایت کی زرخیز زمین سے پھوٹنے کے بجائے بے ڈھنگے انحراف کے گملے میں لگایا جائے، اور اس میں مٹی کے بجائے آرائشی چونا بھرا ہو، تو وہاں زندگی سے لبریز شجر نہیں اگ سکتا۔ ایسے گملے میں صرف پلاسٹک کا پودا رکھا جا سکتا ہے۔ جو دیکھنے میں خوش نما سہی، مگر اپنی اصل میں بے روح اور بانجھ ہوگا۔
اس تحریر سے اگر کوئی یہ رائے قائم کرتا ہے کہ راقم جدت، بت شکنی یا عصری شعور کا منکر ہے تو اسے فی الفور اپنی رائے سے رجوع کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ادب میں جدت پسندی، تازہ زاویہ ہائے احساس، نو بہ نو پنپتا ادراک، ہئیت کے تجربات، رجحان سازی اور نت نئے اظہاری پیکروں کی نشوونما اور چیز ہے اور وہ تسلسل جس کی بنیاد پر ایک زبان یا تہذیب کا ادب اپنی پہچان اور انفرادیت قائم رکھتا ہے سے کٹ جانا اور بات ہے۔ انحراف فقط اس کا حق ہے جو اپنی عمارت اپنی بنیادوں پر کھڑی کرنے کا ہنر جانتا ہو۔
معاصر اردو ادب میں ایسے اہلِ قلم کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے جو روایت کی روشنی سے اپنی راہیں منوّر کرتے ہوئے نئی روایت کے امکانات کے در وا کر رہے ہیں۔ یہ وہ تخلیق کار ہیں جو ماضی کی تہذیبی وراثت کو بوجھ نہیں بل کہ سرمایہء افتخار سمجھتے ہیں اور اسی سرمائے سے نت نئے جہانِ معنی آباد کر رہے ہیں۔
مرزا حامد بیگ کا تعلق اسی نادر ادبی قبیلہ سے ہے جس کی آہِ آتش بار سے اردو ادب کے انجمِ تاباں فلک پر شرارے پھوٹتے ہیں۔ ان کا افسانہ "جانکی بائی کی عرضی” اس حقیقت کا تخلیقی ثبوت ہے کہ جدت کی بارش کے قطروں پر روایت کے سورج کی روشنی پڑتے ہی آسمانِ فن پر کیسی قوسِ قزح بکھرتی ہے۔
” جانکی بائی کی عرضی” اپنے اندر کثیر جہتی معنویت سموئے ہوئے ہے۔ اس میں ناسٹلجیا کی کسک، احساسِ رائیگانی کی تلخی، طبقاتی تفاوت کی کڑواہٹ، انسانی رشتوں کی شکست و ریخت، احساسِ جرم کے کچوکے اور سماجی منافقت کے پردے سبھی ایک ساتھ سامنے آتے ہیں۔
یہ افسانہ محض قصہ گوئی نہیں بلکہ انسانی تجربات اور سماجی حقائق کی فن کارانہ تجسیم ہے.
افسانے پر مزید بات کرنے سے پہلے اس کی کہانی کی جانب بڑھتے ہیں۔ رلیارام، ریٹائر سیکرٹری بہادر، میونسپل کمیٹی، لاہور، کو پرانے اخباری تراشوں، بیانات اور نجی یادداشتوں پر مبنی فائل دیکھتے ہوئے وہ دن یاد آتا ہے جب وہ روزگار کی تلاش میں کانپور سے لاہور آیا تھا جہاں مودا کنجر نامی ایک دلال اسے جانکی بائی کے کوٹھے پر لے جاتا ہے۔ جانکی رلیا رام کو دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہو جاتی ہے کیوں کہ رلیارام کی شکل اس کے پسندیدہ فلمی ہیرو اے بلموریا سے ملتی ہے۔ جانکی رلیارام کے اصرار کے باوجود اس سے شب بستری کا معاوضہ وصول نہیں کرتی بل کہ صبح اس کی ناشتے سے تواضع بھی کرتی ہے۔ بے روزگاری کے ایام میں رلیارام ہفتے عشرے جانکی سے ملنے جاتا رہتا ہے اور اس دوران اس سے شادی کے عہد و پیمان بھی کرتا ہے۔ جانکی اس کی آمد پر ہر بار اپنے گاہکوں کو یہ کہہ کر ٹالتی ہے کہ وہ بیمار ہے اور خدمت کے قابل نہیں۔ فائل دیکھتے ہوئے رلیارام کو وہ چلچلاتی دوپہر بھی یاد آتی ہے جب مودے کی معرفت پیغام ملنے پر جانکی رلیارام کو ملنے آتی ہے اور دونوں تانگے میں بیٹھ کر نور جہاں کے مقبرے کی سیر کو جاتے ہیں اور شاہدرہ کی کچی آبادی میں گھومتے پھرتے لوگ انھیں میاں بیوی ہی سمجھتے ہیں۔ اس دوران رلیارام کو میونسپلٹی میں ایک اہم عہدہ مل جاتا ہے اور بوجہ سفید پوشی وہ جانکی کو ملازمت کا بتائے بغیر اس کی طرف جانا یکسر ترک کر دیتا ہے۔اسی دوران کمیٹی، ایک قرارداد کے ذریعے شہر کو طوائفوں سے خالی کروانے کا فیصلہ کرتی ہے۔ رلیارام شروع میں جانکی کو بے دخلی سے بچانے کے لیے کچھ کوشش کرتا ہے لیکن اخرش نظام کا پرزہ نظام کی مشین ہی میں چلتا ہے۔ شہر کی طوائفیں قانونی چارہ جوئی کے علاوہ اس بے دخلی کے خلاف میونسپل کمیٹی کو ایک درخواست بھی دیتی ہیں۔ درخواست پر متعدد طوائفوں کے دستخط اور انگوٹھوں کے نشانات ثبت ہیں اور سب سے آخر میں درخواست کے نچلے کونے پر بالکل الگ سے ایک انگوٹھے کے نشان کے نیچے بریکٹ میں جانکی بھی لکھا ہوتا ہے۔ اسی روز مودے کی معرفت جانکی رلیارام کو اپنی عرضی پر نظرِ کرم کرنے کی استدعا کرتی ہے۔ مودے کی بات سن کر رلیارام بس ایک لمبی سی ” ہوں” کے سوا کچھ نہیں کر پاتا۔ اس کے بعد وہ اپنی خانگی زندگی میں ایسا گم ہوتا ہے کہ جانکی اس کے ذہن سے محو ہو جاتی ہے۔ برسوں بعد ریٹائر ہو کر محولہ بالا فائل دیکھتے ہوئے رلیارام تاسف سے ہاتھ مَلتا ہے کہ اس جانکی کی عرضی نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ اس کے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ یہ سوچ کر کہ شاید جانکی کا کوئی پتا نشان مل جائے، وہ کسی طرح جانکی کے گھر پہنچ جاتا ہے جو زنگ آلود تالے سے مقفل ہوتا ہے۔ رلیارام کوٹھے کی دہلیز پر بیٹھ جاتا ہے جہاں دورہ قلب سے اس کا انتقال ہو جاتا ہے۔
افسانے میں نوآبادیاتی دور کے شہری معاشرے، طاقت کے ڈھانچے، طبقاتی تقسیم، جذباتی یادداشت، اور انسانی تعلقات کی شکست و ریخت کی تہیں ایک دوسرے میں گتھی ہوئی نظر آتی ہیں۔
افسانہ اپنے معنی کا لہو اپنی ہیئت کی نازک رگوں میں بہاتا ہے؛ یوں معنی آسمان سے نازل نہیں ہوتے بل کہ افسانے کی ساخت کے اندر سانس لیتے ہیں۔ افسانے کی معنوی گرفت تبھی ممکن ہے جب ہم اس کی صورت کے ہر ذرے کو باریک بیں نگاہ سے دیکھیں: ہیئت کی تہہ در تہہ پرتیں الٹتے ہوئے، جیسے طبیب نبض سے بدن کے پوشیدہ احوال کشید کرتا ہے۔
"جانکی بائی کی عرضی” میں کردار نگاری کہانی کے فنی مطالبوں کو کما حقہ پورا کرتی نظر آتی ہے۔ رلیارام ابتدا میں ایک عام آدمی نظر آتا ہے۔ شاید تھوڑا سادہ، زندگی میں کچھ رومان اور جستجو رکھنے والا۔
جانکی سے پہلی ملاقات میں رلیارام کی اس کے پسندیدہ فلمی ہیرو سے مشابہت اسے مالی لین دین سے ماورا ایک خالص انسانی تعلق کا تجربہ دیتی ہے۔ ازاں بعد جب وہ سرکاری نوکری اور اختیار حاصل کرتا ہے، تو اس کا کردار بدلا ہوا نظر آتا ہے۔ وہ جانکی سے اپنا تعلق برقرار نہیں رکھ پاتا۔ وہ نہ تو سماجی دباؤ کا مقابلہ کر پاتا ہے اور نہ ہی اپنی حیثیت کا استعمال اس طرح کرتا ہے کہ جانکی اور اس کی برادری کو بچا سکے۔ بڑھاپے میں، ریٹائرمنٹ کے بعد، پرانی یادیں اس پر غالب آتی ہیں جو دراصل احساسِ جرم اور تشویش زدہ یادداشت کا نتیجہ ہے۔ مگر تب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ رلیارام کے کردار میں ایک مستقل اخلاقی ناکامی نظر آتی ہے: وہ جانکی کو بچا سکتا تھا، کم از کم زیادہ کوشش کر سکتا تھا۔
برسوں بعد جانکی کی عرضی دیکھ کر جو "ہوک” اٹھتی ہے وہ دراصل deferred guilt ہے، احساسِ جرم جو وقت پر نہیں جاگتا، اور جب جاگتا ہے تو بے کار ہوتا ہے۔ یہ امر ژاں پال سارتر کے تصور، bad faith کا عکاس ہے، جس میں انسان اپنے ضمیر کو وقتی طور پر دبا دیتا ہے تاکہ اپنی موجودہ سہولت یا سماجی مقام برقرار رکھ سکے۔
رلیارام کے کردار کو فُوکو کے طاقت اور ادارہ جاتی ڈھانچوں کے نظریہ کے تناظر میں دیکھیں تو اس کے پاس "عہدہ” تو ہے مگر وہ حقیقت میں طاقت ور نہیں ہے۔ وہ محض ریاستی مشینری کا ایک پرزہ ہے، جو کم زور کے حق میں استعمال نہیں ہو سکتا۔ فُوکو کے مطابق ادارے فرد کا انسانیت سے رشتہ توڑ کر اسے اپنی مشین کا پرزہ بنا لیتے ہیں۔ یہ دراصل، بےاختیار اختیار کا المیہ ہے۔ وہ شخص جس نظام کا حصہ بن کر سماجی طور پر نمایاں ہوتا ہے، دراصل اسی نظام کی غلامی کا طوق بھی اپنے گلے میں ڈالتا ہے اور اس کے لیے اپنے ضمیر اور ادارہ جاتی وفاداری کے درمیان توازن رکھنا ممکن نہیں رہتا۔
جانکی بائی ایک طوائف ہے جو سماج کے کنارے پر رہتی ہے، مگر اس کا کردار مادہ پرستی کی بجائے خالص انسانی جذبات کا حامل ہے۔ وہ رلیارام، جس کی شکل اس کے پسندیدہ فلمی ہیرو اے بلموریا سے مشابہت رکھتی ہے، کو بے دام رات گزارنے دیتی ہے اور اگلی صبح ناشتے سے اس کی تواضع بھی کرتی۔ یہ اس کے ذاتی ذوق، جمالیاتی حس اور چاہ کا اظہار ہے، جو پیشہ ورانہ لین دین سے ماورا ہے۔”عرضی” پر دست خط جانکی کی طرف سے اپنے تحفظ اور بقا کی آخری کوشش ہیں جس کے بعد افسانے میں جانکی کی موجودگی نظر نہیں آتی۔ یہ غیر موجودگی دراصل پورے طبقے کے مٹ جانے کی علامت ہے۔
مرزا حامد بیگ کا اس افسانے میں کمال یہ ہے کہ جو طرزِ عمل کسی مہاتما کا ہونا چاہیے وہ ایک طوائف میں دکھایا گیا ہے۔ افسانہ اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ باطن کی پاکیزگی اور معصومیت محض اکتسابی صفات نہیں فطری اوصاف بھی ہو سکتے ہیں۔ قدرت اگر ہٹلر اور چنگیز خان جیسے ظالم اور تعدی پسند پیدا کر سکتی تو جانکی جیسی معصوم اور دردمند انسان کو بھی جنم دے سکتی ہے جو ولی یا سنت بنے بغیر بھی انسانی معصومیت اور ہم دردی کی علامت ہے، گنگا جل کی طرح متبرک, گنگوتری کے شیتل جل کی مانند پاک۔
"جانکی بائی کی عرضی” اس حقیقت کا انکشاف ہے کہ افسانہ نگاری کوئی میکانکی عمل نہیں ہے۔ منظر کی تعمیر، واقعہ کی نفسیاتی گہرائیوں کی پیمائش، جذباتی فضابندی، ذہن میں حسی پیکروں کے دیپ جلاتے، تصویروں کا نگار خانہ کھولتے اور معانی کے موتی چمکاتے لفظوں کی جستجو خونِ جگر میں انگلیاں ڈبونا ہے، کوئی مشینی کام نہیں۔
افسانے میں طوائفوں کی بےدخلی ایک تاریخی حوالہ ہے۔ برصغیر کے کئی شہروں میں بیسویں صدی کے وسط میں "اصلاحِ معاشرہ” کے نام پر یہ مہمات چلیں، جن میں اصل ہدف عورتوں کا وہ طبقہ تھا جو مردانہ سماجی اخلاقیات کے لیے "شرم ناک” قرار دیا گیا۔ یہ محض اخلاقیات نہیں بلکہ شہری منصوبہ بندی اور طبقاتی صفائی (class cleansing) کا عمل تھا۔ شہر کو "مہذب” دکھانے کے لیے اس کے قدیمی ثقافتی اور فن کارانہ پہلو مٹائے گئے۔ ” جانکی بائی کی عرضی” میں یہ سب ایک انسانی سانحہ کی صورت میں پیش آتا ہے، جہاں ایک "عرضی” اور ایک "دست خط” ایک عورت کے جینے اور مٹ جانے کے بیچ کا فاصلہ طے کرتے ہیں۔
رلیارام کا دہلیز پر مر جانا ایک طرح کا علامتی کفارہ ہے۔ وہی دروازہ جسے وہ جوانی میں سماجی خوف کی وجہ سے عبور نہیں کر سکا بالآخر اس کی آخری منزل بن جاتا ہے۔ یہ اس بات کی علامت بھی ہے کہ وقت کی گردش تھم کر اس ایک لمحہ میں مقید ہو چکی ہے۔ دہلیز پر موت ایک طرح کا وجودی اختتام ہے، وہ جگہ جہاں رلیا رام کا جانکی سے تعلق شروع ہوا تھا، ختم بھی بالآخر وہیں ہوتا ہے۔
افسانہ کی زبان سادہ مگر پر اثر ہے، اور ماضی کی جھلکیاں حال کے ساتھ جڑ کر بیانیہ کو ایک گہری معنویت دیتی ہیں۔ بیانیہ میں منظر، جزئیات اور ماحول کی جزرس تصویریں قید ہیں۔ اشیاء کو نئے ڈھنگ سے دیکھنے کی صلاحیت نے زبان کو تخیلی عناصر سے سجا دیا ہے:
"سیڑھیوں پر کھڑے کھڑے نوجوان نے اندر نگاہ کی۔ سپید و سیاہ ٹائلوں والے صاف ستھرے دالان میں طاقچہ پر لیمپ روشن تھا۔ دالان کی داہنی جانب دو جڑواں کمرے تھے اور بائیں جانب ایک صاف ستھرا باورچی خانہ۔ سامنے توشہ خانے کے ساتھ ایک اجلا غسل خانہ تھا، جس کے نیم وا دروازے میں سے ایک سانولی سی لڑکی نے لحظہ بھر کو باہر جھانکا تو وہ دونوں دالان میں کھڑے تھے۔”
افسانہ کا آغاز ہی قاری کے تجسس کو بیدار کر دیتا ہے:
کے- ایل رلیا رام ریٹائرڈ سیکرٹری ، بہادر، میونسپل کمیٹی لاہور آج پھر رات گئے اپنی سٹڈی میں پرانے اخباری تراشوں، بیانات اور نجی یاداشتوں پر مبنی فائل لیے بیٹھے تھے۔ یہ ایک ایسی دستاویز تھی جسے انھوں نے اپنے گھر میں بھی ہمیشہ انڈر لاک اینڈ کی رکھا تھا۔”
رات کا وقت، خاموش گھر، اور ایک ریٹائرڈ سیکرٹری کی سٹڈی کا تنہا منظر ایک ایسی فضا تخلیق کرتا ہے جو قاری کا دھیان فوراً کہانی کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ پرانے اخباری تراشوں، بیانات اور نجی یادداشتوں کے حوالہ سے محسوس ہوتا ہے کہ رلیا رام ماضی کے بوجھ یا کسی راز سے نبرد آزما ہے۔ "ہمیشہ انڈر لاک اینڈ کی رکھا” کا جملہ اس دستاویز کی اہمیت اور حساسیت دونوں کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بات قاری کے ذہن میں کئی متجسس سوالات پیدا کرتی ہے۔
مرزا حامد بیگ کا اسلوب سادہ مگر تہہ دار ہے۔ یہاں بیان میں کوئی غیر ضروری تفصیل نہیں، مگر مختصر جملوں میں کردار کا ماضی اور اس کی نفسیاتی الجھنیں سمٹ آئی ہیں۔
صفحہء اول کا اگلا پیراگراف بھی ملاحظہ فرمائیں:
” گزشتہ کئی برسوں میں تو ایسا کم کم ہی ہوا، لیکن جب کبھی ایسا ہوتا، اس روز وہ رات کا کھانا وقت سے پہلے کھا لیتے اور بیڈروم کا رخ کرتے۔ پھر تادیر کروٹ لیے بستر پر پڑے رہتے۔ جب بیگم، گھر کا کام کاج نمٹاتے ہوئے ملازمہ کو آخری ہدایات دے کر کمرے میں آتیں تو ہمیشہ دھیرج سے صرف یہ پوچھتیں: ” کیا سو گئے؟”
جواب میں وہ چپ چاپ پڑے رہتے اور جب وہ گہری نیند سو جاتیں تو اٹھتے اور اپنی سٹڈی کا رخ کرتے۔
آج بھی ایسی ہی ایک رات تھی۔ جب جانکی بائی کی یاد، چہار جانب سے امڈی پڑتی تھی اور انھیں سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔ اس وقت کہاں ہوگی وہ؟ کن حالات سے گزر رہی ہو گی ؟؟ انھوں نے سوچا۔”
افسانہ نگار کا فن یہاں اپنی پوری لطافت اور تہ داری کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے: شور و شغب سے بے نیاز، کسی ظاہری ڈرامائیت کے بغیر مگر ایک ایسی نادیدہ لرزش پیدا کرتا ہوا جو قاری کے باطن کو مرتعش کر دے۔
یہ بھی دیکھیے:
” ایسے میں صاحب بہادر کو چیت رام روڈ کی جانکی بائی کی کھڑکی کا جالی دار پردہ یاد آیا اور پان بیڑی سگریٹ کی دوکان کے باہر کھڑا لال رومال والا دلال، مودا کنجر۔۔ وہ تادیر سر نیوڑھائے بیٹھے رہے۔ پھر جیسے پرانی یادوں کا ایک سلسلہ تھا، جو چل نکلا۔ انھیں یاد آیا کہ موسمِ سرما کی وہ ایک حسین شام تھی۔ جب تعلیم سے فراغت کے بعد ملازمت کی تلاش میں کانپور سے لاہور آیا ہوا ایک نوجوان ریلوے اسٹیشن سے ساجھے کے تانگے میں بیٹھ کر بھاٹی دروازہ کے سامنے اترا تھا اور بھاٹی سے لوہاری تک کی چہل قدمی کرتے کرتے بے خیالی میں ٹکسالی کی طرف نکل لیا تھا۔ پھر گھومتے گھامتے چیت رام روڈ تک آیا۔ اس وقت چیت رام روڈ کے لیمپ پوسٹ روشن ہو چکے تھے اور بازارِ حسن جوبن پر تھا۔ یوں ہی گھومتے گھماتے اس نے سارے پر نگاہ کی۔ ہیجڑوں کی بیٹھکیں، ٹکیائیوں والی گلی اور ڈیرہ دارنیوں کا بازار، ایک گلی سے گزرتے ہوئے قریب ہی بیٹھک سے کسی مغنیہ نے تان لگائی: ” تھارے نیناں نے جادو کیا۔” طبلے کی تھاپ اور سارنگی کی سنگت پر گھنگرو جھنجھنا اٹھے تو وہ تیز قدم اٹھاتا ” پوری تھیٹر” کی طرف نکل لیا۔”
اس اقتباس میں مرزا حامد بیگ نے لاہور کی گلیوں، اس کے زوال پذیر تہذیبی حسن اور انسانی یادوں کے دھندلکوں کو بڑی فن کارانہ مہارت سے پیش کیا ہے۔ فضا میں ماضی کی خوشبو اور حال کی ویرانی ایک ساتھ گھلی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ "صاحب بہادر” کی یادوں کے بہانے مصنف نے وقت کے بے رحم گزر اور انسانی جذبات کے پژمردہ ہو جانے کا نقشہ کھینچا ہے۔ نثر کی تہوں میں جمالیات، حسیت اور ایک گہری اداسی رچی ہوئی ہے، جو مرزا حامد بیگ کے اسلوب کی پہچان ہے۔ یہ اقتباس محض منظر نہیں، بلکہ زوال، یاد اور تہذیبی حسرت کا ایک مرقع ہے۔
یہ اقتباس بھی ملاحظہ فرمائیں:
” وہ جانکی کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ برابر والے کمرے میں اندھیرا تھا۔ توشہ خانے میں ایک مریل طبلچی لالٹین کی مدہم روشنی میں اُکڑوں بیٹھا جانے کیا کر رہا تھا۔ دالان سے لوہے کی گول سیڑھی سیدھی چھت کو نکل جاتی تھی۔ جس کے زریعے وہ دونوں چھت پر چلے گئے۔ ہلکی پُروا میں ریلنگ کا سہارا لیے وہ بہت دیر تک عزیز تھیٹر سے اٹھنے والی آوازیں سنتے اور بادشاہی مسجد کے فلک بوس میناروں کا نظارہ کرتے رہے۔ جب چیت رام روڈ پر مجرہ کی بیھٹکیں اجڑ گئیں اور ہر طرف مکمل سکوت چھا گیا تو وہ نیچے اتر آئے۔ اب کمرے میں ٹھنڈک بڑھ گئی تھی۔”
"مریل طبلچی… لالٹین کی مدہم روشنی” — یہ منظر نیم تاریکی، غربت، زوال اور گم نامی کا احساس پیدا کرتا ہے۔
دالان، لوہے کی گول سیڑھی، چھت، پُروا، عزیز تھیٹر کی آوازیں، بادشاہی مسجد کے مینار نہ صرف لاہور کے قدیم ثقافتی ماحول کو بڑے موثر انداز میں اجاگر کرتے ہیں بل کہ ایک حسی تجربہ بھی تخلیق کرتے ہیں جس میں روشنی، آواز، ہوا، حرارت اور خاموشی سب شریک ہیں۔
افسانے کا اختتام بھی دیکھیے جہاں رلیا رام جانکی بائی کے گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھے دم توڑ دیتا ہے:
” کچھ دیر بعد جب صبح کے آثار جاگے تو میونسپل کارپوریشن کے خاکروب وکٹر مسیح کی نظر ان پر پڑی۔ وہ سمجھا کہ صاحب، صبح کی چہل قدمی کے بعد سستا رہے ہیں۔ اسے کیا معلوم کہ ابھی کچھ دیر قبل جانکی بائی کے گھر کی سیڑھیوں پر بیٹھے صاحب کے ذہن میں باہم گڈ مڈ ہوتی ہوئی قدیم یادوں کا تصویری فیتہ چلتے چلتے اب لحظہ بہ لحظہ تھمتا جا رہا ہے یا شاید تھم ہی گیا ہے۔”
مرزا حامد بیگ کا فن یہاں یوں کھلتا ہے جیسے نیم شب کی خاموش فضا میں کوئی دبی دبی دُھن اچانک سانس لے اٹھے، بغیر آواز کیے، بغیر کسی ہنگامِۂ رنگ و بو کے، مگر دل کی گہرائیوں میں ایسی نازک دھڑکن چھوڑ جائے جو دیر تک روح کے دریچوں میں گونجتی رہے۔
مکمل افسانہ پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ افسانے کے رمز و اشارے دراصل وجودی ذرات کی مانند ہیں جو اپنی الگ الگ معنویت کے ساتھ قاری کو کثرت کا دھوکا دیتے ہیں، مگر درونِ متن یہ سب ایک ہی باطنی مرکز کی طرف محوِ سفر ہیں۔ یہ علامات اور اشارے اپنے اختلاف اور تنوع کے باوجود ایک وحدت میں ضم ہو کر افسانے کی وہ جوہری معنویت سامنے لاتے ہیں جو نہ صرف متن کی ساخت کو بامعنی بناتی ہے بلکہ قاری کو اس احساس تک لے جاتی ہے کہ کثرت دراصل وحدت ہی کی تجلی ہے، اور معنی اپنی اصل میں ایک ہی مرکز کی شعاعیں ہیں جو مختلف روپ دھار کر متن میں جلوہ گر ہوتی ہیں۔
افسانے کی ساخت میں ربط و تسلسل، کرداروں کی تخلیق میں نفسیاتی باریکیوں کا التزام، ماحول کی تصویرگری میں سحر آگیں حقیقت نگاری، زبان کی استواری، روانی اور اثر انگیزی، جزئیات نگاری اور منظر کشی میں فنی شعور کی پختگی اور ہیئت کے انتخاب میں حسنِ تناسب نے ” جانکی بائی کی عرضی” کو ایک پر اثر اور اہم افسانہ بنا دیا ہے۔
عرصہ ہوا مرزا حامد بیگ کا کوئی افسانوں کا مجموعہ میری نگاہ سے نہیں گزرا۔ ” جانکی بائی کی عرضی”, ” کاتک کا ادھار”. ” مغل سرائے” اور ‘ لالہ جسونت سنگھ کی حویلی” جیسے افسانے اردو ادب کی مالا میں پرونے والا افسانہ نگار مزید افسانے لکھنے سے کیوں گریزاں ہے؟ مرزا صاحب! قلم اٹھائیے، ابھی اردو قارئین کی اچھے افسانے پڑھنے کی پیاس نہیں بجھی۔

