Author: فیصل اقبال اعوان

کچھ تخلیق کار ایسے سیاحوں کی طرح ہوتے ہیں جو بار بار ایک ہی مقام کوکھوجتے رہتے ہیں۔ ایسے مسافروں کا ہر سفر اسی ایک استھان کی دریافت کا عنوان بن جاتا ہے۔ لیکن کچھ ادیب ایسے جہاں گردوں کی مانند ہوتے ہیں جو رہِ یار کو قدم قدم یادگار بناتے ایسی منزلوں کی جستجو میں آگے بڑھ جاتے ہیں جو ان کے نقشِ پا سے امر ہونے والی ہیں۔ جہانِ نو کو شعورِ مسافرت دینے والے ایسے ہی جہاں نوردوں میں ایک نام صدیق عالم کا بھی ہے جو کہیں رکے بغیر اپنا ہر قدم یادگار بناتا، تخیل کے…

Read More

عزیزی و محبی! بہشت میں میرے شب و روز بڑے منظم انداز سے گزر رہے ہیں۔ صبح دم باغِ خلد کی سیر، وقتِ چاشت فَوَاكِهُ الجنت کا ناشتہ، دن بھر تفریح و مشاغل، شام ڈھلے مجلسِ رقص و سرور، رات ہوتے ہی آراستگیء دسترخوانِ بہشتِ بریں اور اس کے بعد کے مشاغل وہی جو مولانا حضرات خطباتِ جمعہ میں بہ سلسلہ تذکرہء حور و غلمان بڑی وضاحت اور سخاوت سے بیان کرتے ہیں۔ غرض کہ عیش ہی عیش ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کے آنے سے ادبی محفلیں بھی جمنے لگی ہیں۔ سکہ بند مشاغلِ بہشت سے فراغت پانے اور انہیں…

Read More

انحطاط پذیر سماج میں تحسین و تنقید، کذب و صدق، حب و بغض سمیت کوئی بھی رویہ اور فعل خالص نہیں ہوتا کہ ہر عمل کی عمارت کسی نہ کسی زاتی مفاد کی بنیادوں پر اٹھائی جاتی ہے۔ ایسے معاشرے کی اکثریت مسلسل ایک خوف تلے زندگی گزارتی ہے اور وہ ہے: منکشف ہو جانے کا خوف۔ اس خوف سے منافقت، جھوٹ، فریب، غیبت، ستایشِ باہمی، بہتان تراشی، بغض اور عناد جیسی وبائیں پھوٹتی ہیں۔ ہر کوئی اپنے ننگ سے توجہ ہٹانے کے لیے دوسرے کی برہنگی کے فضائل بیان کرتا ہے اور عیب گیری کی صورت میں دادا گیری…

Read More

پیرو ۔۔۔ 1950 کی دہائی۔۔۔ ایک نوجوان ایئر مین کا شمالی صحرا میں موجود ایئر فورس کے اڈے کے قریب بیہمانہ قتل ۔۔۔۔تفتیش، لفٹیننٹ سلوا اور آفیسر لیتوما کے سپرد ۔۔۔۔۔ اعلی افسران کا عدم تعاون اور اڈے کے کمانڈنگ آفیسر کی مسلسل مداخلت قاتل تک پہنچنے میں مزاحم ۔۔۔۔۔ لیکن سلوا اور لیتوما، حقیقت کو آشکار کرنے کے مکمل پرعزم۔۔۔۔ انیس دن کی تفتیش۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔؟؟؟ "پیلمینو مولیرو کو کس نے مارا؟” ماریو ورگاس یوسا کا ایک دل چسپ اور فن کارانہ مہارت سے لکھا گیا ناول جس میں یوسا قانون، انصاف اور سماجی مساوات سے متعلق ہمارے تصورات،…

Read More

’’عزیزی میمن صاحب! میں کتاب پر مصنف کی تصویر چھپوانے کے حق میں نہیں ہوں، مشہور ادیبوں کے تاثرات سرِدست میسر نہیں ہیں اور میں ایسی تحریریں محفوظ نہیں رکھتا۔‘‘ اکرام اللہ صاحب نے عمر میمن مرحوم کو مندرجہ بالا جواب اس وقت دیا جب میمن صاحب نے انہیں بتایا کہ پینگوئن، ماڈرن کلاسکس کتابی سلسلے میں ان کے دو ناولٹ "پشیمانی”  اور ” آنکھ اوجھل” کے انگریزی تراجم چھاپ رہا ہے۔ جس کے لیے ان کی تصویر اور ان کے فن سے متعلق مشہور ادیبوں کی آرا درکار ہیں۔ ایسی بے نیازی اور استغنا صرف اسی فن کار کو…

Read More

"بھائی صاحب! لغت لفظ کے معنی اور اس کے درست استعمال کی تفہیم کا واحد مستند زریعہ نہیں ہے۔ ” "کیوں اور کیسے بل کہ کیوں کر؟” "عزت مآب! مجھ ہیچ مداں کی تو اس سے آگے جانے کی مجال نہیں۔ لیکن علماء لسانیات اسے فقط ثانوی درجہ دینے پر راضی ہیں۔” "اگر لغت ثانوی زریعہ ہےتو کیا لفظ کا معنی آسمان سے ٹپکتا ہے؟” "نہیں حضور! زمین سے پھوٹتا ہے، جہاں ازل سے اگ رہا ہے۔ لغات اس پیداوار کے ذخائر ہیں۔” ” یعنی جہاں بھی، جیسی بھی، پیداوار ہوگی، لغت ذخیرہ کر لے گی” ” جی سرکار! یہ…

Read More

سو میٹر کی ایک ریس میں فقط ایک ہی اتھلیٹ نے حصہ لیا۔ اس نے مقررہ فاصلہ تقریباً دو منٹ میں طے کیا جو معیاری اتھلیٹ عموماً دس سے بارہ سیکنڈ میں طے کر لیتا ہے۔ جب نتیجے کا اعلان ہوا تو اس کی چوتھی پوزیشن آئی۔ حیران و پریشان اتھلیٹ نے ریفری سے احتجاج کیا کہ ریس میں اکیلا دوڑ کر بھی میں چوتھے نمبر پر کیسے آ سکتا ہوں؟ ریفری نے بڑی متانت اور سنجیدگی سے جواب دیا کہ جنہاں نے پہلے، دوجے تے تیجے نمبر تے آنا سی، اج او آئے ای نئیں ( جنہوں نے پہلے،…

Read More

عزیزی و محبی! 9جنوری 2014، میرا اس عالمِ آب و گِل میں آخری دن تھا۔ بہ وقتِ رخصت جی مضطرب بھی تھا اور مطمئن بھی۔ اضطراب یہ کہ ادب فروشوں سے جنگ ابھی جاری تھی کہ پیغامِ اجل آ گیا۔ اطمینان اس بات پر کہ ادب کی فضاؤں میں عمداً اندھیرے پھیلانے والوں کا حلیف نہیں حریف بنا اور زندگی بھر اپنے حصے کی شمع جلائے رکھی۔ ایک عرصے سے خواہش تھی کہ تم سے بات ہو، لیکن یہاں ڈاک کا نظام بڑا ناقص ہے۔ اول تو اُس جہان تک خط پہنچتا ہی نہیں، پہنچ بھی جائے تو مکتوب الیہ…

Read More

خالد جاوید کا ناول” موت کی کتاب” پڑھ کر امریکی ادیب سٹیفن کنگ کا یہ قول شدت سے یاد آتا ہے: ” بری تحریر، زبان و کلام کی خرابی اور مشاہدے کے عیوب ہی سے پیدا نہیں ہوتی؛ بری تحریر، عموماً ایسی کہانیاں سنانے سے کڑے انکار کا نتیجہ ہوتی ہے، جن میں اس زندگی کا تزکرہ ہو جو لوگ حقیقت میں گزارتے ہیں۔ بہ قول شمس الرحمن فاروقی صاحب: "یہ کوئی آسان کتاب نہیں ہے۔ اس کتاب کو برداشت کرنے کے لئے ہمیں ادب اور افسانے کے کئی مروجہ تصورات کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا۔” فاروقی صاحب کی پہلی…

Read More

"جاگے ہیں خواب میں”مطبوعہ رمیل ہاؤس آف پبلی کیشن  کے سرورق کی آرائش, فلیپس اور بیک کور پر ناول کے بارے میں "مجددینِ ادب” اور دیگر لکھاریوں کی آراء کی نمائش دیکھ کر اردو ادب کے قارئین نہال ہو ہو جاتے ہیں کہ بالآخر وہ ناول منصہِ شہود پر آ ہی گیا جس کا انہیں عشروں سے انتظار تھا۔ بارات کا سماں ہے۔ مصنف زرق برق پوشاک پہنے دلہا بنا آگے آگے چل رہا ہے اور خرم و خنداں باراتی پیچھے پیچھے۔ باراتیوں میں سب سے آگے محمد سلیم الرحمن صاحب ہیں جو اس رشتے پر خوش نظر نہیں آتے…

Read More