ریاست اور ایک عام پاکستانی شاید اس سے متفق نہ ہو کہ انتہا پسندی لوگوں کے ظاہر و باطن کو تبدیل کر دیتی ہے ۔ان کےسماجی اور مذہبی تصورات میں تنگ نظری نہ بھی ہو تو ان میں تبدیلی ضرور آ جاتی ہے ۔ بظاہر مشعال خان کا اندوہناک قتل ،نورین لغاری کی گرفتاری ، نام نہاد دولتِ اسلامیہ اور جماعت الاحرارکے رہنما احسان اللہ احسان کے ہتھیار ڈالنے میں کوئی مماثلت نہیں ہے تاہم بالعموم یہ واقعات شدت پسندانہ رجحانات اور دہشت گردی کی تصویر کشی کرتے ہیں ۔ مشعال خان کا کیس مجموعی طور پر شدت پسندانہ رویوں…
Author: محمد عامر رانا
جب جے یو آئی کے رہنما عسکریت پسندوں سے کہیں گے کہ وہ ان کی جماعت میں شامل ہوں تاکہ وہ اپنی منزل پرُ امن اور سیاسی جدو جہد کے ذریعے حاصل کر سکیں تو اس کا واضح مطلب یہ ہو گا کہ اختلاف صرف حکمت عملی کا ہے جبکہ مشترکہ مقصد ایک ہی ہے ۔ جمعیت علمائے اسلام کا شمار برصغیر پاک و ہند کی قدیم ترین مذہبی سیاسی جماعتوں میں ہوتا ہے۔اس جماعت نے اس پورے علاقے میں مذہبی اور سیاسی روایت پر اثر انداز ہونے کے ساتھ ساتھ بر صغیر پاک و ہند میں عصر حاضر کی…
وزیر اعظم یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی گاہے بگاہے کی گئی تقریروں سے حالات بدل جائیں گے اور ایک نیا بیانیہ تشکیل پا جائے گا ۔حقیقت یہ ہے کہ ان کی اپنی جماعت میں انتہائی دائیں بازو کے سیاستدان شامل ہیں جو ان کے بیانات کی نفی ہے کسی مثبت اشارے کی اس وقت تک کوئی وقعت نہیں ہوتی جب تک اس کی جھلک عمل سے ظاہر نہ ہو ۔ہندؤوں کے مذہبی تہوار ہولی میں شرکت ،وزیر اعظم کی جانب سے پاکستان میں غیر مسلموں کے ساتھ ان کے رویئے کی آئینہ دار ہے ۔ان کا یہ بیان کہ…
پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہے جنہیں دنیا کے پسماندہ اور ترقی پزیر ممالک میں بھی برے امیج کا سامنا ہے اور جس کے شہریوں پر ملک سے باہر جانے کے لئے ویزے کی کڑی شرائط عائد ہیں ۔کچھ عرصہ پہلے تک سارک کے بعض ممالک نے ویزہ پابندیوں کونرم کیا تھا۔ شدت پسندی کا عفریت عالم اسلام کی جان چھوڑ ہی نہیں رہا ۔سماجی و سیاسی ادارے ،مذہبی راہنما،سماجی امور کے ماہرین اور دانشور اس مسئلے کے حل کے لئے اپنی توانائیاں صرف کر رہے ہیں لیکن یہ کاوشیں بار آور ثابت نہیں ہو رہیں۔شدت پسندی…
بدقسمتی سے ریاست اس وقت حرکت میں آتی ہے جب اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہتا۔جس کی وجہ سے ریاستی ادارے نہ صرف دباؤ میں آکر کام کرتے ہیں بلکہ انہوں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا فن بھی سیکھ لیا ہے آپریشن رد الفساد پر پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پریس بریفنگز سے یہ تاثر پیدا ہواہے کہ دہشت گرد بھاگ رہے ہیں ،سیکورٹی اداروں کے ساتھ جھڑپوں میں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں دہشت گرد مارے جا رہے ہیں اور سینکڑوںمشتبہ افراد گرفتار…
آپریشن رد الفساد کو ایک ایسی کاری ضرب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خطرے کا خاتمہ کر دے مگر ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ اس کو ادارہ جاتی سطح پر کس طرح عملی جامہ پہنایا جا ئے گا۔ ملک بھر میں شروع کئے جانے والے آپریشن ‘‘رد الفساد ’’سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا سیکورٹی ویژن کھل کر سامنے آ گیا ہے ۔ آپریشن ضرب ِ عضب کے بعد سامنے آنے والے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے از سر نو سیکورٹی جائزے کی ضرورت تھی مگر نئی حکمت عملی کی …
کیا ریاست تشدد کو بالکل رد کرتے ہوئے بحالی کا کوئی فریم ورک بنا سکتی ہے ۔کیا ریاستی ادارے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کچھ کر سکتے ہیں ۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پچھلی کچھ دہائیوں میں جو شدت پسند بیانئے پروان چڑھے ان کا توڑ کیا جائے جماعت الدعوۃ کے رہنماؤں کے خلاف حالیہ کارروائی کی کئی توجیحات بیان کی جا رہی ہیں ۔کچھ کا خیال ہے کہ ایسا ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے پابندیوں کے ڈر سے کیا گیا ہے ۔کچھ لوگ اسے چینی دباؤکا نتیجہ قرار دیتے ہیں ۔بہت کم ایسے ہیں…
(نام کتاب :دہشت کا سرچشمہ (دولت اسلامیہ کی تاریخ ) مصنف :فواذ اے جارج مطبوعہ پرنسٹن یونیورسٹی پریس امریکہ تبصرہ نگار : محمد عامر رانا قدامت پسند نظریات کا علمبردار عسکری گروہ دولت اسلامیہ جو خود وکودولتِ اسلامیہ عراق و شام کہتا ہے دور ِحاضر میں غیر ریاستی عناصر کا سب سے منظم گروہ ہے ۔محققین اور شعبہ جاتی تحقیق نگاراس کی حرکیات پر ہمہ وقت نظریں جمائے ہوئے ہیں ۔کئی سیکورٹی ، سماجی وسیاسی ماہرین اور مذہبی مفکروں نے کوشش کی ہے کہ وہ اس متشدد گروہ کا مطالعہ مختلف حوالوں سے کریں ۔اس گروہ پر سینکڑوں تحقیقاتی رپورٹیں…
سارک اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہے پاکستان کو بھی علاقائی تعاون کے نئے میدان تلاش کرنے ہوں گے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جو کہ چین کے ‘‘ون بیلٹ ون روڈ ’’ منصوبے کا حصہ ہے جس نے جنوبی، وسطی ایشیا اور بحر ہند کی اقوام کے مابین معاشی اور سیاسی تعلقات کے مواقع کو اجاگر کیا ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ اس طرح سے دنیا کے جغرافیائی منظر نامے کو اتھل پتھل کر دیا ہے کہ کئی ممالک کو سمجھ ہی نہیں آرہی کہ وہ کیا کریں ۔فی الوقت دنیا کی موجودہ سیاست کو دیکھتے…
ریاست ایسے دشمنوں سے مقابلہ کرنے کے لئے آئینی ، قانونی اور سیکورٹی اقدامات اٹھاتی ہے۔لیکن جب ریاستی ادارے اس اندرونی دشمن کو پہچاننے کی صلاحیت کھو دیں تو؟ اس کا یہ مطلب لیا جا سکتا ہے کہ دشمن اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب ہو چکا ہے . کیا ہم اپنے دشمن کا تعین کرنے میں ابھی تک تذبذب کا شکار ہیں ؟ اگر ہمدماغ استمعال کریں اور اپنی آنکھیں کھلی رکھیں تویہ کام مشکل نہیں۔باہر کے دشمن کو پہچاننا مشکل نہیں اورریاست اسکے حربوں سے نمٹنا بھی جانتی ہے۔ لیکن اندر کا دشمن بہت خظرناک ہے، وہ علاقوں پر…
