Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»بے سمت راہوں کا سفر
    کالم

    بے سمت راہوں کا سفر

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانامارچ 13, 2017کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read1 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    بدقسمتی سے ریاست اس وقت حرکت میں آتی ہے جب اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں رہتا۔جس کی وجہ سے ریاستی ادارے نہ صرف دباؤ میں آکر کام کرتے ہیں بلکہ انہوں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا فن بھی سیکھ لیا ہے

    آپریشن رد الفساد پر پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیا جا رہا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پریس بریفنگز سے یہ تاثر پیدا ہواہے کہ دہشت گرد بھاگ رہے ہیں ،سیکورٹی اداروں کے ساتھ جھڑپوں میں روزانہ کی بنیاد پر درجنوں دہشت گرد مارے جا رہے ہیں اور سینکڑوںمشتبہ افراد گرفتار ہو رہے ہیں ۔آپریشن کے آغاز سے اگر گنتی کی جائے تو گرفتار افراد کی تعداد ہزاروں میں ہو گی ۔

    ان دعووں سے شاید انسداد دہشت گردی آپریشن کی واہ واہ  تو ہو جائے مگر یہ مسئلے کا حل یقیناً نہیں ہے۔کئی ماہرین تو ان دعووں کے بارے میں شک و شبے کا شکار ہیں اور وہ حکومت کی کامیابیوں کے بارے میں بھی سوال اٹھا رہے ہیں ۔گزشتہ ہفتے انہی صفحات پر ایک مضمون نگار نے ان گرفتاریوں کے حتمی ثبوت مانگے تھے ۔ہم یہ تک نہیں جانتے کہ یہ مشتبہ گرفتار شدگان کون ہیں اور انہیں کہاں رکھا گیا ہے ۔کیا ہماری جیلوں اور حوالات میں اتنی گنجائش ہے کہ وہ سینکڑوں اور ہزاروں گرفتار شدگان کو سمو سکیں ؟

    اسی دوران  شہریوں کی جانب سے ایسی رپورٹیں بھی سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے آپریشنز کے دوران خیر اخلاقی برتاؤ کیا ۔حکومت اور سیکورٹی ادارے اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ یہ آپریشن کسی فرقے یا نسل کے خلاف ہے مگر زمینی حقائق اس سے قطعی طور پر مختلف ہیں ۔زیادہ تر آپریشنز کچی آبادیوں یا بڑے شہروں کے نواحی علاقوں میں ہوئے جہاں رہنے والوں کی اکثریت غریب افراد پر مشتمل ہے ۔ان میں سے زیادہ تر قبائلی علاقوں بالخصوص باجوڑ اور مہمند ایجنسی سے تعلق رکھتے ہیں جو وہاں پر موجود تنازعہ کی وجہ سے بے گھر ہوئے یا پھر بہتر مواقع کی تلاش میں ہجرت پر مجبور ہوئے ۔تاہم وہ غریب افراد جن کا تعلق دوسرے نسلی گروہوں سے ہے انہیں بھی انہی حالات کا سامنا ہے ۔اگرچہ اس بات کاکوئی واضح ثبوت ابھی تک نہیں مل سکا کہ صرف کچی آبادیاں ہی دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔قانون نافذ کرنے والوں کانشانہ ہمیشہ غریب علاقے ہی بنتے ہیں ۔

    بدقسمتی سے ریاست اس وقت حرکت میں آتی ہے جب  اس کے پاس  کوئی اور چارہ نہیں رہتا۔جس کی وجہ سے ریاستی ادارے نہ صرف دباؤ میں آکر کام کرتے ہیں بلکہ انہوں نے ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالنے کا فن بھی سیکھ لیا ہے ۔جب سیکورٹی  حالات بہت زیادہ نا گفتہ بہ ہو جائیں تو پولیس کو سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کا غصہ وہ غریب اور لاچار لوگوں پر نکالتی ہے ۔کچی آبادیوں میں آپریشنز کرنا اس لئے بھی آسان ہے کیونکہ وہاں انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔ اس حقیقت کے باوجود کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے تسلسل کے ساتھ وہاں چھاپے مارتے ہیں مگر پھربھی کوئی باہر سے آکر کچی آبادی والوں کی حمایت میں ان کے ساتھ کھڑا  نہیں ہوتا ۔

    یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ جب بھی ہائی سیکورٹی الرٹ ہوتا ہے تو موٹر سائیکل سواروں کی شامت آ جاتی ہے ۔اور جب سرچ آپریشنز ہوتے ہیں تو چھوٹے گھروں میں رہائش پزیر کرایہ داروں کو نہ صرف معاشی  نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے بلکہ مار پیٹ بھی ہوتی ہے ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق  70  فیصد پاکستانیوں کو جب بھی پولیس یا عدالت سے واسطہ پڑتا ہے تو انہیں رشوت دینی پڑتی ہے ۔پولیس کے برتاؤ اوررشوت ستانی کی وجہ  سے انسداد دہشت گردی کا چیلنج مزید گھمبیر ہو چکا ہے ۔

    اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ پولیس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیں دی ہیں ۔اسلام آباد کے ایک سیکورٹی تھنک ٹینک کے اعداد و شمار کے مطابق2005 سے ملک بھر میں ہونے والے حملوں میں 2426 پولیس والے شہید اور 3916 شدید زخمی ہو ئے ۔ اسی عرصے میں سولین جن کے شہدا کی تعداد 22716  بنتی ہے اس کے بعد سب سے زیادہ قربانیاں پولیس نے دی ہیں ۔لاہور اور کوئٹہ میں پولیس ٹریننگ سینٹروں پر ہونےو الے حملے بہت خون ریز واقع ہوئے جبکہ اس کے علاوہ دہشت گرد گروہوں  کی جانب سے اور فرقہ وارانہ طور پر بھی  انہیں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔

    باوجود اس کے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس نے بے مثال قربانیاں دیں مگر پھر بھی کسی نے ان وجوہات کا جائزہ نہیں لیا کہ دہشت گرد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کیوں ٹارگٹ کرتے ہیں؟ اس سلسلے میں حکومت اور پولیس حکام  کسی ثبوت کے بغیر کئی توجیحات بیان کرتے ہیں جن کا تعلق ان کے تجربات و مشاہدات سے ہے ۔ان میں کچھ کا تعلق فرقہ واریت سے ہے اور کچھ کا پولیس کی استعداد ِ کار سے ،تاہم سب سے اہم خیال یہ ہے کہ پولیس کا تعلق ریاست کی رٹ سے ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس کا کردار ہمیشہ صفِ اوّل کا رہا ہے ۔

    یہ کوئی سربستہ راز نہیں ہے کہ بہت سے دہشت گردوں کا تعلق ان کالعدم تنظیموں سے رہا ہے جو مقبوضہ کشمیر اور افغانستان میں برسر پیکار رہی ہیں یا پھر وہ ملک میں فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث رہیں ۔وہی بعد ازاں گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد ریاست کے خلاف کھڑے ہو گئے کیونکہ پولیس اور سیکورٹی ادارے ان کے خلاف چھاپے مار رہے تھے ۔انہیں گرفتار کر کے ان پر تشدد کیا گیا اور انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ ان کے لئے جاسوسی کریں ۔حتی ٰ کہ دہشت گردوں کی نئی نسل جس کا تعلق اس طرح کی کالعدم تنظیموں سے نہیں ہے وہ بھی سیکورٹی اداروں بالخصوص پولیس  کے خلاف سیخ پا ہیں ۔اس کا ثبوت ان رپورٹوں اور انٹرویوز میں بھی ملتا ہے جو کہ عسکریت پسندوں کی مطبوعات میں چھپتے ہیں۔سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ دہشت گرد اپنے حملوں کی توجیح  طبقاتی سطح پر بھی کرتے ہیں  ان کے خیال میں چونکہ  پولیس اشرافیہ کی محافظ ہےاس لئے اس پر حملے جائز ہیں۔

    اس چیلنج سے عہدہ برا ہونے کے لئے ریاست ملک میں شہریوں کے مواقف پالیسی بنائے ۔پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے انسداد دہشت گردی کے لئے مہارتیں پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں اور ابھی تک روایتی طریقوں میں ہی الجھے ہوئے ہیں ۔ریاست نے بھی پولیس کی استعداد کار میں اضافے کے لئے سنجیدگی سے کچھ نہیں سوچا۔خطرے کا ادراک کرنے کے حوالے سے اس کا طریقہ مبہم ہے اور جو ایک مستقل عارضہ بن چکا ہے ۔ماہرین اور پولیس کے اعلی ٰ حکام مسلسل مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ پولیس میں اصلاحات لائی جائیں۔اس بارے میں کئی مضامین بھی وقتا ًفوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں۔مگر ایسے لگتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات میں یہ کہیں بھی نہیں ہے ۔ان کا رویہ دہشت گردوں کے مئوقف کی تائید کرتا نظر آتا ہے کہ پولیس اشرافیہ کی غلام ہے ۔

    یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے  انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول کے تحت ابھی تک مشتبہ دہشت گردوں  اور ان کے سہولت کاروں کی کوئی مصدقہ اور نئی فہرست تک نہیں بنا سکے ۔یہ ناکامی پولیس کے ان دعووں کی بھی نفی کرتی ہے کہ ان کی آنکھیں اور کان ہر جگہ موجود  ہیں۔اور تو اور وہ ان مشتبہ افراد کی بھی نگرانی نہیں کر سکے جن کی نشاندہی انہوں نے خود کی تھی ۔دراصل  اس سے صرف پولیس کی کمزوریوں کا ہی پردہ چاک نہیں ہوتا بلکہ ان سیکورٹی اداروں کی کارکردگی بھی سامنے آتی ہے جو فورتھ شیڈول پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔اس میں صوبوں کے انسداد ددہشت گردی کے محکمے اور نیکٹا بھی شامل ہے ۔انہیں فورتھ شیڈول میں شامل افراد کا ڈیٹا بیس بنانا تھا مگر اس بارے میں ان کی کارگزاری ایک بڑا سوالیہ نشان بن چکی ہے ۔

    پولیس میں اصلاحات لانے کی بجائے پولیس کی اختیارات پیرا ملٹری فورسز کو دے دیئے گئے جس سے مسئلہ مزید گنجھلک ہو گیاپیرا ملٹری فورسز اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتیں جب تک کہ انہیں مصدقہ معلومات نہ ہوں ۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے غریب اور لاچار شہری ریاست کے ابہام اورکاہلی کا نشانہ بنتے رہیں گے ۔المیہ تو یہ ہے کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ اپنا دکھڑا کسے سنائیں اور کس دیوار سے اپنا سر ٹکرائیں۔

    (بشکریہ ڈان ، ترجمہ ، سجاد اظہر )

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleغیر عرب کو عربی سکھانے کے لیے اسلامی جامعات کا کردار
    Next Article مولانا طارق جمیل اور وینا ملک
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by