ریاست کو مدارس کے معاملے پرمکمل آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ وہ جامع حکمت عملی مرتب کر سکے ۔اس کاآغاز رجسٹریشن کی پالیسی سے کیا جائے جو مدارس کو پابند کرے کہ وہ روزانہ کچھ گھنٹے عمومی تعلیم کے لئے وقف کریں۔رجسٹرڈمدارس کو نئی رجسٹریشن کے بغیر نیا مدرسہ کھولنے کی اجازت نہ دی جائے ۔ ریاست مدرسہ چیلنج سے نبرد آزما ہونے کے تیار نظر نہیں آتی ہے ۔شاید وہ اس چیلنج کہ ہمہ گیری سے آگاہ نہیں یا وہ یہ نہیں جانتی کہ مذہبی تعلیم سے وابستہ ا داروں کے مسائل کی ہیئت کیا ہے ۔وہ مدرسوں کو…
Author: محمد عامر رانا
دیکھنا یہ ہے کہ فوج کی نئی قیادت اس چیلنج سے کیسے نبرد آزما ہوتی ہے لیکن ملک کی سیکورٹی ، سفارتی اور جغرافیائی چیلنج میں افغانستان کو ہی مرکزیت حاصل رہے گی ملک میں امن و امان کی بحالی کے لئے جنرل (ر) راحیل شریف کا سب سے اہم کارنامہ شمالی وزیرستان میں آپریشن ‘‘ضرب عضب ’’کے آغا زکوگرداناجائے گا۔اگرچہ یہ کافی عرصے سے زیر غور تھا مگر سابق فوجی اور سول قیادت یہ سمجھتی تھی کہ اگر ایسا کیاگیا تو اس کا خطرناک رد عمل آ سکتا ہے جس کے ملک کی داخلی اور خارجہ سلامتی پر منفی…
فرقہ وارانہ تشدد کی حالیہ لہر سے دو باتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں ۔ایک یہ کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی کے خلاف جو چیلنج درپیش ہے وہ کس قدر ہولناک ہے اور دوسری بات یہ کہ ایک عرصے سے حل طلب سب سے اہم سوال کا جواب کہ ریاست اس مذہبی انتہا پسندی کے سدباب کے لئے کیا اقدامات کر رہی ہے جو پُرتشدد فرقہ واریت میں بدل چکی ہے۔ فرقہ وارانہ تشدد کی حالیہ لہر سے دو باتیں ابھر کر سامنے آئی ہیں ۔ایک یہ کہ ملک کے قانون نافذ کرنے والے…
عراقی شہر موصل کو عسکریت پسند گروہ دولت اسلامیہ کے قبضے سے واگزار کرانے میں شاید ابھی چند ہفتے مزید لگیں لیکن دولت اسلامیہ سے وابستہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کی اپنے آبائی ملکوں میں واپسی پر عالمی دنیا اور بالخصوص یورپ تشویش میں مبتلا ہے عراقی شہر موصل کو عسکریت پسند گروہ دولت اسلامیہ کے قبضے سے واگزار کرانے میں شاید ابھی چند ہفتے مزید لگیں لیکن دولت اسلامیہ سے وابستہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کی اپنے آبائی ملکوں میں واپسی پر عالمی دنیا اور بالخصوص یورپ تشویش میں مبتلا ہے ۔کئی تخمینوں کی مطابق ۲۰۱۲ سے لے کر…
جب صحافی خود خبر بن جائے تو ا س کا مطلب ہے کہ اس خبر کے پیچھے کئی بڑی خبریں ہیں ،جن کو اس خبر کے ذریعے روکا گیا ہے جب صحافی خود خبر بن جائے تو ا س کا مطلب ہے کہ اس خبر کے پیچھے کئی بڑی خبریں ہیں ،جن کو اس خبر کے ذریعے روکا گیا ہے ۔سیرل المیڈا کی خبر نے جو بھی بھونچال برپا کیا تھا اب اس بھونچال کو سیرل المیڈا کی خبر سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔اس ساری صورتحال میں اصل موضوع پس منظر میں چلا گیا ہے اور…
وہ ماحول جس میں بھارت کی جانب سے الزام تراشیاں جاری ہیں ایسے میں پاکستان کے لئے رجائیت کا منبع کیا ہو سکتا ہے ؟اس کا صاف اور سیدھا جواب ہے ،چین پاکستان اقتصادی راہداری ۔ پاکستان کو مسلسل سفارتی دباؤ کا سامنا ہے اسے بھارت کے سفارتی جبر سے نکلنے کے لئے کچھ مؤثر قدم اٹھانا ہوں گے ۔یہ نہیں کہ پاکستان کی پالیسی یا پھر اس کی فراست میں کچھ کمی ہے بلکہ پاکستان کی جانب سے دفاعی سفارت کاری کی وجہ اس کی سرزمین پر غیر ریاستی عناصر کی موجودگی ہے ۔جو نہ صرف پاکستان کے لئے…
ہمارا دشمن کو ن ہے؟ یہ کیا کر تا ہے اور کہا ں چھپا ہے ؟ کیا جو دشمن نہیں وہ محبت وطن ہیں؟ ’’ وہ ہم میں سے نہیں ، وہ ان کے سا تھ ہیں ‘‘ ۔ شد ت پسند ی کے تنا ظر میں آجکل اس قسم کے بیا نیے خا صے مقبول ہیں ۔ اس قسم کے بیا نیو ں کا ما ٓخذ وہی رویہ ہے کہ کوئی مسلما ن اور پاکستانی دہشت گر د یا شد ت پسند نہیں ہو سکتا ۔ لیکن وفا قی وزیر دا خلہ نے اچا نک ایک قدرے پرا نے…
اصل میں سکیورٹی اداروں کی کمزوریاں ہی دہشت گردوں کی قوت ہوتی ہیں اگر حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ”نرم اہداف”کی گردان کرتی رہے اور عملی طور پر شہریوں کو دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے تو نتائج کا اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ دہشت گرد ”نرم اہداف”کا انتخاب کیوں کرتے ہیں؟عمومی تا ثر یہی ہے کہ جب ”سخت”اہداف کا حصول مشکل ہو جائے ۔اگر ایسا ہے تو وہ کون سی چیز ہے جو ہدف کو ”نرم ”بناتی ہے؟ سکیورٹی اُمور کے ماہر اس مسئلے کو مختلف حوالوں سے سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اور ابھی بہت سے سوالات…
آپ کو شاید یاد ہوکہ ریاست اور معاشرے کو ”بیرونی عوامل“کے مخمصے سے نکلنے میں ایک دہائی سے زیادہ کا وقت لگا تھا اور اس کے بعد 2009ءمیں سوات کا ملٹری آپریشن ممکن ہو سکا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک بار پھر ”بیرونی عوامل“کے مخمصے کا شکار ہو چکے ہیں سانحہ ¿ کوئٹہ کے حوالے سے جو بیانا ت اور تجزیے سامنے آرہے ہیں ،اُن سے لگتا ہے کہ قومی سلامی کے معاملات پر ابہام ابھی تک موجود ہے ۔اس ابہام کی دو ظاہری وجوہات یہ ہیں ؛پہلی وجہ وہ واہمہ ہے کہ اندرونی طور پر ہم بہت مضبوط…
سرد جنگ کے دوران بھی شاہ ایران ہی وہ شخص تھا جس کی وجہ سے پاکستان امریکی بلاک کا حصہ رہا ۔پاکستان کی خارجہ پالیسی بھارت کے گرد گھومتی ہے اور یہی وہ نقطہ ہے جو کہ پاکستان کے دیگر ممالک سے تعلقات کا تعین کرتا ہے ۔شاہ ایران کو اس بات کا بخوبی ادراک تھا 1971ء کی جنگ کے پس منظر میں جب امریکہ کی جانب سےپاکستان کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندیوں سامنا تھا تو ذولفقار علی بھٹو امریکی لیڈروں تک رسائی کی کوشش میں تھے جس کے لئے انھوں نے امریکہ کو پیشکش کی کہ وہ پاکستان…
