Author: محمد عامر رانا

پاکستان آج بھی ایسے ویژن کا متلاشی ہے جو اس کی معاشی ‘سماجی اور ثقافتی آرزوؤں کی شاندار عکاسی کر سکے۔ آج بھی ہمیں  ویسی مضبوط قومی کردار کی ضرورت ہے، جیسی قیام پاکستان کے وقت تھی۔ باوجود اس کے کہ ہمارے مقتدر حلقے مختلف اوقات میں مختلف نظریات سے متاثر بھی ہوئے مگر بدقسمتی سے ان خیالات کو عملی جامہ پہنانے کا حوصلہ نہ جتا سکے۔ مغربی سکالرز پاکستان کے اہل اقتدار کے رویہ میں نظریاتی شدت کی بجائے مستقبل بینی کی جانب پیش رفت محسوس کرتے ہیں ۔مگر اس کے باوجود بھی اس رویہ کو اپنے وجود میں…

Read More

ہری پور سے ہی  ریستورانوں، ڈھابوں اور کریانے کی دکانیں  سی پیک  کے نام سے منسوب ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور یہ سلسلہ چین کی سرحد کے قریب سوست تک چلتا ہے۔ سوست سے خنجراب تک کی پٹی میں یہ نام اس لیے نظر نہیں آتا کہ وہ قطعہ نیشنل پارک کے لیے منسوب ہے۔  سی پیک منصوبے کا کرشمہ ہے کہ وہ پاکستان بھر سے سیاحوں کو بھی اپنی طرف کھینچ رہاہے ۔ قافلے کراچی، سندھ ، پنجاب اور خیبر پختونخوا سے نکلتے ہیں اور خنجر اب پر جا کر دم لیتے ہیں۔ پاکستان میں اندرونی سیاحت کے بڑھتے…

Read More

عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان کو کس چیلنج کا سامنا ہے۔ علمی اور فکری حلقوں میں اس پر اتفاق ہے کہ علم کی دنیا میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنا سب سے بڑا چیلنج ہے۔ دوسرے الفاظ میں اجتماعی طور پر مسلم سماج اور تہذیب دنیا کے بدلاؤ،  سائنس ، فکر اور فلسفے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے۔ اس کا منطقی نتیجہ زوال ہے۔ اسے آپ تہذیبی زوال کہیے، مسلم ثقافت کی ابتری، سماج کی کمزور قوت مدافعت یا فکری کمزوری ،عالم اسلام زوال کے بھنور سے نکل نہیں پا رہا۔ اب تو زوال کا سوال اٹھانا بھی جرم…

Read More

پاکستان اور بھارت میں لوگوں کی اکثریت دونوں ممالک کے درمیان امن کو خواب ہی سمجھتی ہے۔ مگر اس کے باوجود دونوں ممالک میں ایک طبقہ بہرحال موجود ہے جو امن کے خواب دیکھنے پر یقین رکھتا ہے۔ امن نا ہونے کا مطلب جنگ یا تصادم ہرگز نہیں لیا جا سکتا۔ بسا اوقات اس کا مطلب محدود پیمانے پر تصادم یا مینج ایبل جارحیت بھی ہوتی ہے، جس کی شدت تو کم ہوتی ہے مگر متعلقہ ممالک کو کمزور اور دونوں طرف کے  وسائل کو ضائع کرتی ہے۔ دونوں ممالک میں روایتی اور غیر روایتی چینلز موجود ہیں جو دونوں…

Read More

حالات کیسے بھی ہوں، سماعتوں پر کتنے ہی پہرے ہوں، آواز راستہ ڈھونڈ لیتی ہے، تاریخ افراد کو چن لیتی ہے۔ بات چھپانے سے تاریخ کو دھوکا نہیں دیا جا سکتا اور بحران کو پردے کے پیچھے چھپایا نہیں جا سکتا۔ جاسوسی کے معتبر اداروں کے سابق سربراہ جنرل (ر) اسد درانی نے بھارتی جاسوسی کے ادارے کے سابق سربراہ اے ایس دُلت کے ساتھ جو مکالمہ کیا ہے، اس نے ایک بات واضح کردی ہے کہ امن کا راستہ مفاہمت کی کٹھن وادیوں سے گزرتا ہے اور اس کے لیے دونوں اطراف ابھی تیار نہیں ہیں۔ لیکن دونوں ملکوں…

Read More

جوں جوں عام انتخابات قریب آ رہے ہیں ملکی سیاست کا درجہ حرارت بڑھتا جارہا ہے۔ اس انتخابی منظر نامے میں ملک کی مذہبی سیاسی جماعتوں نے بھی نئی صف بندی کے ساتھ عوام کے مذہبی جذبات کا سہارا لے کر انتخابی مہم شروع کر دی ہے۔ البتہ میڈیا اور ٹی وی کیمروں کی تمام تر توجہ پنجاب اور کراچی کے سیاسی منظر نامے پر مرکوز ہے۔ قومی سطح پر سیاسی منظر نامے میں جہاں ہلچل برپا ہے،وہیں  مسلم لیگ ن میں تخریب اور پاکستان تحریک انصاف کی تنظیم نو کا عمل بھی جاری ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے…

Read More

گلیور کی مہمات اور جانوروں کا باڑہ انگریزی فکشن کے دو ایسے شاہکار ہیں جن کی سیاسی‘ نظری اور سماجی معنویت ابھی تک برقرار ہے۔ اپنے سادہ اسلوب اور گہرے تاریخی اور سماجی شعور کے باعث آج بھی یہ دنیا بھر کے قارئین کو لبھاتے ہیں۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دنیا میں جہاں جہاں آمریت کی سیاہی پھیلی ہے ،اظہار رائے پر قدغنیں لگی ہیں۔ جبر کا کہرا گہرا ہوا ہے تب تب ان ادب پاروں کے معنی نکھر کر سامنے آئے ہیں۔ اندازہ ہے کہ جبر اور خوف کے موسم میں حریت فکر رکھنے والے تجزیہ کاروں،…

Read More

گنجے فرشتے سعادت حسن منٹو کے خاکوں کا مجموعہ ہے جو 1952 میں شائع ہوا۔ یہ خاکے کیا ہیں، بس منٹو نے فلمی اور ادبی دنیا کے کرداروں کے باطن سے ایک نئی دنیا تخلیق کی ہے۔ قائد اعظم کا خاکہ”میرا صاحب”  جو منٹو نے ان کے ڈرائیور محمد حنیف آزادکی زبانی بیان کیا ہے، خاصے کی چیز ہے، جس میں قائد اعظم ایک انسان کے روپ میں نظر آتے ہیں۔ "گنجے فرشتے” کے بعد منٹو نے ملکہ ترنم نور جہاں کا شہرہ آفاق خاکہ”نورجہاں سرور جہاں” لکھا جو ان کے خاکوں کے دوسرے مجموعے "لاؤڈ سپیکر”  میں شامل ہے۔…

Read More

رواداری ، برداشت اور تحمل اہم سماجی رویئے ہیں جو کسی معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی تہذیبی شعور اور ترقی کا پتہ دیتے ہیں ۔ پاکستان گزشتہ کچھ دہائیوں سے جن سماجی تبدیلیوں کے عمل سے گزرا ہے بدقسمتی سے ان میں سے زیادہ تر منفی تھیں جنہوں نے فرد اور سماج کی سطح پر رواداری اور برداشت جیسے عناصر کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ شروع میں عدم برداشت کے رویئے زیادہ تر مذہبی اورفرقہ ورانہ مباحث میں دیکھنے کو ملتے تھے جو گزشتہ کچھ عرصے سے بالخصوص سیاسی مناقشت اور قطب پذیری کی صورت میں بھی ظاہر…

Read More

زیر نظر مضمون دہشتگردی کے خلاف پاکستان کی جنگ کا تفصیلی جائزہ ہے جس میں نہ صرف گزشتہ سال میں ہوئے دہشتگرد حملوں کے اعداد و شمار بیان کئے گئے ہیں بلکہ دہستگردی کے خلاف ریاستی پالیسی کا ہمہ جہت جائزہ لیا گیا ہے ۔ قلم نگاروں کا اس موضوع پر کامل دسترس کا ثبوت اس مضمون میں درج وہ موضوعات ہیں جن کا جائزہ لیا گیا ہیکہ انہوں نے اس عنوان میں شامل تمام عناصر کی کارکردگی اور انہیں درپیش مشکلات کا احوال پوری دیانتداری سے بیان کردیا ہے ۔(ازطرف مدیر) ۱۔ 2017 میں سلامتی کی صورتِ حال کا…

Read More