افغانستان 2017 میں تزویراتی، دفاعی، معاشی اور داخلی سیاسی مضمرات کے حوالے سے پاکستان کے لیے ایک مستقل مسئلہ رہا ہے۔ امریکہ نے مطلوبہ تعاون کے لیے پاکستان پر مسلسل دباؤڈالے رکھا ، تاہم چین نے نہ صرف اس دباؤ میں نرمی لانے بلکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین باہمی اعتمادمیں بہتری کے لیے اہم کردار ادا کیا ۔ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان سے متعین کردار ادا کرنے کا امریکی مطالبہ جارحانہ، جبکہ چین کامطالبہ نرم روی پر مبنی ہے۔ پاکستان کے لیے مذکورہ بالا دونوں رویوں میں محتاط توازن برقرار رکھتے ہوئے افغان امن عمل میں…
Author: محمد عامر رانا
گذشتہ تین ماہ کے دوران ایک واقعہ جس نے ریاست اور اس کے اداروں کو ایک سخت آزمائش سے دوچار کیا، عام آدمی کے ذہن اور رویے کو متاثر کیا، اور جس کے دُوررس سیاسی اور سماجی اثرات ہیں، وہ وسطی پنجاب میں بریلوی شناخت کے ساتھ ابھرنے والے مذہبی گروہ تحریکِ لبیک یا رسول اللہ کا راولپنڈی اور اسلام آباد کی درمیانی شاہراہ پر دھرنا تھا۔ اس دھرنے نے جڑواں شہروں کی زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا اور دنیا بھر میں پاکستان کے امیج کومتاثر کیا۔ ۲۶ نومبر ۲۰۱۷ء کو یہ دھرنا وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کے…
افغان طالبان کی اصل طاقت افغان علاقوں میں ان کے اثرو رسوخ اور افغانستان پر بیرونی قبضے کے خلاف مزاحمت کے جواز کے لئے پیش کئے گئے مذہبی بیانیے میں پنہاں ہے۔افغان حکمرانوں کا خیال ہے کہ اگر پاکستانی علماء افغان طالبان کی مسلح مزاحمت کے خلاف فتویٰ جاری کر دیں تو طالبان کی جدوجہد کے مذہبی جواز کو ختم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے مولانا سمیع الحق اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت دیگر پاکستانی علماء اور حکومت کو اس کیلئے آمادہ کرنے کی بہت کوششیں کیں، مگر وہ بارآور ثابت نہ ہوسکیں۔ …
ایک نوخیز بریلوی جماعت نے جس طرح راولپنڈی اور اسلام آباد کوکئی دنوں تک جام کیے رکھا اور بالآخر حکومت سے اپنے تمام مطالبات منوانے میں کامیاب ہوگئی ، اس کی توقع ملک میں موجود خود بریلوی مسلک کی کثیر تعداد کو بھی نہیں تھی۔ تاہم تحریک لبیک یا رسول اللہ ﷺ میں اندرون ِ خانہ اقتدار کی کشاکش سے اس بات کی شہادت ملتی ہے کہ انہوں نے یہ خود اعتمادی یکا یک حاصل نہیں کی ہے۔ملک میں اکثریتی مکتبہِ فکرسمجھے جانے کے باوجود بریلوی علماءاور واعظین اپنے خطبات کے ذریعےاس احساسِ مظلومیت کا تاثر دیتے رہتے ہیں کہ…
اگست میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جنوبی ایشیا سے متعلق نئی حکمتِ عملی کے اعلان کے بعد افغان مسئلے کے حل کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے۔نئے امریکی لائحہ عمل اور خطے میں جغرافیائی لحاظ سے جنم لیتےسیاسی و معاشی مسائل کے پیشِ نظر علاقائی طاقتیں بھی صف بندی میں مصروف ہیں اور یقیناً یہ ایک صبر آزما مرحلہ ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے مسترد شدہ وجوہات کی بنیاد پر ہی سہی مگر افغانستان سے متعلق حالیہ امریکی حکمتِ عملی میں پاکستان کی مرکزی حیثیت برقرار ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس بات کو مدِنظر رکھتے…
جب بھی پاکستان کسی بحران کی زد میں آتا ہے تو اس سے قطع نظر کہ لبرل طبقہ کا اس بحران کے پنپنے یا خاتمے میں کوئی کردار ہے یا نہیں لبرل ازم معتوب ضرور ٹھہرتا ہے۔ حالانکہ درحقیقت ملکی طاقت کی جدلیات میں ان کا عمل دخل انتہائی محدود بلکہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ حتیٰ کہ ہمارے ملکی سلامتی کے ادارے، سیاسی اشرافیہ اور ذرائع ابلاغ عموماً اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کیلئے لبرل یا لبرل ازم کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انہیں زبان دانی کا شعور نہیں یا پھر وہ…
عسکریت پسندگروہ داعش اگرچہ اپنے زیرِ تسلط علاقوں سے تیزی سے محروم ہو رہا ہے مگر اس کی نظریاتی کشش اس رفتار سے متاثر نہیں ہو رہی کیونکہ عالمی اسلامی خلافت کی چمک دمک بیشتر مسلم معاشروں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ عسکریت پسندوں کے نظریات اوراسلامی تعلیمات کی ایسی تشریحات جو اِن کی عسکری کارروائیوں کو جواز بخشتی ہیں، کے علمی سطح پر رد کیلئے کچھ نامور مسلم اسکالرزنےنہایت عرق ریزی سے کام کیا ہے ،مگر یہ کوششیں بڑے پیمانے پر ایک متبادل نظریاتی بیانیہ دینے میں نا کام رہی ہیں۔ خیال رہے کہ زیادہ تر مسلم عوام بالخصوص…
وفاقی وزیرِ داخلہ کا پنجاب رینجرز پر اظہارِ برہمی کوئی مخاصمانہ طرزِ عمل نہیں ہے جیسا کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے خلاف دائر بدعنوانی کی درخواست کی سماعت کے وقت عدالت کے باہر رینجرز اہلکاروں کی تعیناتی کی وضاحت کرتے ہوئے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں تجویز کیا ۔احسن اقبال نے وزراء، جماعتی راہنماؤں اور وکلاءکو احتساب عدالت میں داخلے سے روکنے پررینجرزکے خلاف شدید ردِ عمل کا اظہار کیاتھا۔ صوبائی وزیرِ قانون رانا ثناءاللہ کا کہنا تھا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ نیم فوجی…
5236زیرنظرمضمون میانمار میں جاری نسلی اور مذہبی کشمکش میں بیانیوں کے کردار کو زیرِبحث لاتا ہے۔ روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے سیاسی،مذہبی اور معاشی محرکات ہیں لیکن جو چیز جذبات کو مسلمانوں کے خلاف مہمیز دیتی ہے وہ بدھ پجاریوں کے تخلیق کردہ بیانیے ہیں۔ ان بیانیوں کی تخلیق کے محرکات کی تلاش میں تاریخ کے ورق الٹے جائیں تو بعض حیرت انگیز حقائق سامنے آتے ہیں اور اندازہ ہوتا ہے کہ کسی متن یا علامت کی ایک دور میں بظاہر بے ضرر نظر آنے والی تشریح کسی اگلے دور میں کس طرح شدید تنازعات کی وجہ بنائی جا…
انگریزی روزنامہ’’ڈان‘‘ نے اپنی۳؍ ستمبر۲۰۱۷ء کی اشاعت میں سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعیدخان کھوسہ کا ایک پرانا مضمون’’امیدواروں کی اہلیت: ایک آئینی معمہ‘‘ درج ذیل نوٹ کے ساتھ شائع کیا ہے: سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کا آئین کی شقوں۶۲،۶۳ میں پائے جانے والے ابہام پر ذیل کا تنقیدی مضمون پاکستان لاء ڈائریکٹری۱۹۸۸ء میں شائع ہوا۔ اس وقت آپ بیرسٹر تھے۔ بعد میں بطور جج انھوں نے اس مضمون کی نظیر’’اسحاق خان خاکوانی اور دیگر بمقابلہ میاں محمد نواز شریف اور دیگر کیس(آئینی پٹیشن نمبر۷۸،۷۹اور۸۵ سال۲۰۱۴ء) میں دی اور اس کی وضاحت کی۔ اس کے علاوہ پانامہ…
