Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»تما م آرٹیکلز»عدم برداشت ، اہم سماجی مسئلہ
    تما م آرٹیکلز

    عدم برداشت ، اہم سماجی مسئلہ

    محمد عامر راناBy محمد عامر رانااپریل 1, 2018کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    رواداری ، برداشت اور تحمل اہم سماجی رویئے ہیں جو کسی معاشرے میں انفرادی اور اجتماعی تہذیبی شعور اور ترقی کا پتہ دیتے ہیں ۔ پاکستان گزشتہ کچھ دہائیوں سے جن سماجی تبدیلیوں کے عمل سے گزرا ہے بدقسمتی سے ان میں سے زیادہ تر منفی تھیں جنہوں نے فرد اور سماج کی سطح پر رواداری اور برداشت جیسے عناصر کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ شروع میں عدم برداشت کے رویئے زیادہ تر مذہبی اورفرقہ ورانہ مباحث میں دیکھنے کو ملتے تھے جو گزشتہ کچھ عرصے سے بالخصوص سیاسی مناقشت اور قطب پذیری کی صورت میں بھی ظاہر ہورہے ہیں۔
    اگرچہ رائے یا نظریہ کا اختلاف ایک فطری امر ہے انسانی تہذیب اور تعلیم و تربیت اس اختلاف کو نفرت اور تصادم کی بجائے تنوع اور خوشنما تکثیریت کا رنگ دیتی ہیں ۔ جو نہ صرف مثبت سماجی قدریں ہیں بلکہ معاشرتی ارتقا کا اہم ذریعہ بھی ہیں ۔ پاکستان میں لیکن یہ اور اس طرح کی دیگر قدریں جیسا کہ رواداری ،برداشت ،سماجی ہم آہنگی اور درگزر وغیرہ ، مذہبی و نظریاتی اور سیاسی انتہا پسندی کے ہاتھوں بری طرح متاثر ہورہی ہیں ۔ درحقیقت انتہا پسندانہ اور بے لچک رویئے عدم برداشت کی ہی ترقی یافتہ شکل ہیں جو اپنی آخری حد میں تشدد کی صورت ظہور پذیر ہوسکتے ہیں ۔ ایسے روئیوں کی بنیاد عموما کسی عقلی استدلال معقولیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ذاتی پسند و ناپسند اور تعصبات کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ ایسی غلط فہمیاں جنہیں ہم کبھی چیلنج نہیں کرتے وہ بھی ایسے انتہا پسندانہ اور عدم برداشت کے روئیوں کو ہوا دیتی ہیں ۔
    عدم برداشت کاایک مظہر یہ بھی ہے کہ خود احتسابی کے بجائے ہم دوسروں کو ٹھیک کرنے میں لگے رہتے ہیں ۔اگرچہ یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ دوسرے اپنے اعمال اوربرائیوں کے خود جوابدہ ہیں ، پھر بھی دوسروں کو ہم اس صورت ہی قبول کرنے پر آمادہ ہوتے ہیں کہ وہ ہمارے خیالات ، نظریات یا عقیدہ سے متفق ہو جائیں ۔یعنی ہمیں یہ خوف لاحق ہے کہ دوسروں کے خیالات و نظریات ہمارے خیالات و نظریات کی پراگندگی کا سبب بھی بن سکتے ہیں ۔
    اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے خود ہمیں اپنے نظریات و عقائد میں راسخ ہونے کا کتنا یقین ہے۔
    مسلکی و مذہبی عدم برداشت کے روئیوں نے پاکستانی سماج کو جن مسائل سے دوچار کیا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایسے ہی روئیے جو بتدریج سیاست ، میڈیا اور بالعموم افراد میں در آئے ہیں ، ہمیں کدھر لے کر جائیں گے ۔ اس سے پہلے کہ یہ تقسیم مزید گہری ہو، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانیوں کو مختلف خانوں میں بانٹنے والے محرکات اور اسباب کا ازالہ کیا جائے ۔ اس کے لئے ہمیں آئینِ پاکستان سے رجوع کرنا پڑے گا جو ہر پاکستانی کو برابری کی سطح پر شہریت اور شہری حقوق دیتا ہے اور مذہب ، فرقہ ، زبان ، نسل یا جغرافیائی تقسیم کی بنیاد پر کسی کو کسی سے ممتاز نہیں کرتا ۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleہم عصر مذہبی تحریکات کے تجزیاتی مطالعے میں مسائل
    Next Article پہلے پشتون پھر پشتین اور اب پاشتین!
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    روداد: نوجوانوں کے لیے ورکشاپ

    اکتوبر 22, 2026

    زیدیہ شیعہ تحریک اور حوثی سعودی تنازع کا پس منظر

    اکتوبر 22, 2026

    مسلکِ نوربخشیہ: تعارف اور پاکستان میں ادارہ جاتی نمائندگی کا جائزہ

    اکتوبر 22, 2026

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by