Author: محمد عامر رانا

جدید دنیا کو درپیش دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خطرات پر پاکستان میں موجود معدودے چند مصنفین میں محمد عامر رانا ایک ممتاز شناخت کے حامل مصنف و کالم نگار ہیں جن کی تحریریں معروف عالمی جرائد اور پاکستان کے موقر انگریزی اخبار ڈان میں باقاعدگی سے شائع ہوتی ہیں ۔ انتہا پسندی کی وجوہات ، واقعا ت ،نقصانات اور اس مشکل خطرے کا انسداد عامر رانا کی دلچسپی کے موضوعات ہیں جن پر وہ متعدد کتابوں اور مضامین تصنیف کرچکے ہیں۔ پاکستانی آئین کی موجودگی میں کہ جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اختیاراتی حدود واضح ہیں یہ…

Read More

اپنے ایک گزشتہ کالم میں تیونس میں اسلامسٹ جماعت النہضہ کے ایک سیاسی جماعت میں ڈھلنے کا ذکر کیا تھا۔ اس تقلب میں تیونس کے تہذیبی اور ثقافتی مزاج ، جس نے ایک تنقیدی شعور کی پرداخت کی اور النہضہ بھی اپنی مذہبی شناخت اور ایجنڈے کے باوجود اسی رویے کی حامل رہی اور جماعت میں بحث اور کھلے مکالمے کی فضا برقرار رہی۔ یہ مکالمہ اس جماعت کے ارتقاء میں اہم عامل ثابت ہوا۔ جبکہ پاکستان میں النہضہ کی ہم خیال جماعتیں سماج کو اس کی تہذیبی جڑوں سے کاٹنے کی مہم جوئی میں شریک رہی ہیں۔ریاست بھی اس…

Read More

تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں عام تاثر یہ ہے کہ یہ ایک عالمی جہادی تنظیم ہے، جس کے نظریات داعش اور القاعدہ سے ملتے ہیں۔تاہم گزشتہ دنوں ایک طالبان کمانڈر نے اپنی تنظیم کے جو اغراض و مقاصد  اور نظریات بیان کیے وہ اس تاثر سے یکسر متضاد ہیں۔اس حوالے سے بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ گو پاکستانی طالبان کےمختلف جہادی تحریکوں سے روابط رہے ہیں مگروہ عالمی جہادی تنظیموں کی فکر سے  بہت کم متاثر ہوئے ہیں اور ان کی سوچ مقامی و قبائلی سطح تک محدود ہے۔دوسری جنگِ عظیم کی طرح افغان سوویت جنگ(88-1979)کے بعد بھی…

Read More

دو برس قبل جب تیونس کی اسلام پسند جماعت جبہۃ النہضہ نے اپنی مذہبی شناخت کو سیاست سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھاتو اس فیصلے پر ملا جلا ردِ عمل آیا تھا۔جہاں پر مغرب اور معتدل مسلم فکری حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوئی وہاں بعض حلقوں میں اسے شک کی نگاہ سے دیکھا گیااور جماعت کے سربراہ راشد الغنوشی کی لندن میں جلاوطنی کے بائیس سالوں میں ان پر پڑنے والے فکری اثرات کو اس تبدیلی کی وجہ قرار دیاگیا۔بعض خوش فکر مفکرین نے اسےمسلم معاشروں میں ایک بڑی تبدیلی کے محرک کے طور پر دیکھااور اسے اسلام…

Read More

یہ قرونِ وسطیٰ کی کہانی نہیں ، جب جنگی مہمات   سے لوٹ کر آنے  والے جنگجو کی تعریف کی جاتی تھی۔ یہ کہانی ہے ان لوگوں کی  ،جو جہادی مہمات پر عسکریت پسند  گروہ ،  داعش کی حمایت و نصرت کے لیے  عراق اور شام پہنچے۔ داعش کی شکست کے بعد  داعشی جنگجو اپنے آبائی ممالک کو واپس لوٹ رہے ہیں۔واپس آنے والوں کی صحیح تعداد ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ان میں  سے بیشتر کے عزائم  خطرناک ہو سکتے ہیں۔ان جنگجوؤں یا داعش کے حامیوں  نے ممکن ہے اپنے آبائی علاقوں میں…

Read More

"پاکستانی سیاسی و مذہبی رہنما امریکہ کے خلاف تو بڑھ چڑھ کر تقریریں کرتے ہیں لیکن دہشت گرد، جن کے متعلق دعویٰ ہے کہ ان کی کمر توڑ دی گئی ہے، ان کے بارے میں آج بھی خاموش ہیں یا  بہت محتاط زبان استعمال کرتے ہیں۔” یہ الفاظ ہمارے ایک چینی دوست کے تھے ، جو بیجنگ کے پالیسی ساز حلقوں میں خاصے بارسوخ ہیں۔ہم نے ان کی بات ہنسی میں ٹالنا چاہی لیکن انہوں نے راہِ فرار نہ دی۔وہ اس رویے کے محرکات جاننا چاہتے تھے۔جب بات بڑھی تو ہم پر کھلتا گیا کہ وہ ہماری ذہنی و نفسیاتی…

Read More

بین الاقوامی سیاسیات درحقیقت بیانیہ تشکیل دینے  کا فن ہے ،جس کے نتیجے میں رائے عامہ ہم وار ہوتی ہے۔گو کہ یہ عمل   سفارت کاری و رائے سازی   میں مہارت   کا متقاضی ہوتا ہے ، تاہم  سب سے اہم وہ دلائل  ہیں  جن کی بنا پر کوئی بیانیہ تشکیل پاتا ہے۔ اگر کوئی بیانیہ   اپنی اہمیت  برقرار نہ رکھ پائے تو اس پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ کمزور دلائل  محض ابہام و انتشار کا باعث ہوتے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے   پاکستان میں  غیر ریاستی عناصر  کی مبینہ موجودگی  اور یہاں سے ان کی  وابستگی کے اصرار…

Read More

پاکستان کے اٹھارہ سو چنیدہ علمائے کرام نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف متفقہ فیصلہ دے دیا ہے۔ اس فیصلے کا اجراء گذشتہ ہفتے کے اوائل میں ایوان صدر میں "پیغام پاکستان ” کے نام سے کیا گیا۔پیغام پاکستان کو ایک نیابنانیہ کہا جارہا ہے اور یہ یقیناً بہت مثبت پیش رفت ہے کہ اس نئے بیانیے میں آئین  اور دستور کی بالادستی کو اولیت دی گئی ہے، لیکن نئے بیانیے کے اجراء کے اگلے روز ہی آئین اور دستور کی محافظ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ ) کے دواراکین نے لاہور کے مال روڈ پر اپنے ہی ادارے کے خوب…

Read More

ملکی و غیر ملکی تجزیہ کار پاکستان کے بارے میں کئی حوالوں سے بات  کرتے ہیں ، جن میں غالباً ” سکیورٹی اسٹیٹ   ” کا حوالہ  زیادہ معروف ہے۔ اگرچہ پاکستان نے  کسی نیشنل سکیورٹی  پلان کا اعلان نہیں کیا، تاہم یہ تصور   حقیقت سے قریب تر ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کسی ملک کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ اپنی سکیورٹی ڈاکٹرائن کا  اعلان کرے۔ یہ  متحرک ہونی چاہئے کیوں کہ سکیورٹی چیلنجز   کبھی مستقل نہیں ہوتے اور نت  نئے تغیرات  سے ہم آہنگ رہتے ہیں۔ چند سال قبل  اس سیاسی اور سفارتی بحران کی  پیش…

Read More

سچ کی کو ئی تاریخ ہے؟ یہ سوال بجائے خود ایک تاریخ ہے یا پھر  ایسی دنیا میں  تاریخ کی کوئی شے بن کر رہ گیا ہے جو سچ کو متبادل حقیقت کے طور پر دیکھنےکی جانب تیزی سے مائل ہو رہی ہے  ۔ عمومی تصور یہ   ہے کہ سچ فطرتِ انسانی کا وصفِ لازم یا تمام جاندار مخلوقات کی جبلتِ  ازلی ہے ۔تاریخ  ہمیں بتلاتی ہے کہ سچ     کو ہمیشہ انسانوں کی خاصیتِ طبعی  کے طور پر دیکھا گیا ہے  جو مہ و سال کے پیہم تغیر کے ساتھ پنپتی رہی ہے، جس نے صدیوں سے  ہزار ہا…

Read More