معروف فلسفی، مورخ اور ماہرِ سماجیات فرانسس فوکویاما کی کتاب Identity: The demand for Dignity and Politics of Resentment شناخت سے جڑے کئی اہم سوالوں کا جواب تلاش کرنے کی ایک عمدہ کوشش ہے۔ مغربی و مشرقی معاشروں میں عوامیت پسند سیاست کی علمبردار قوتوں کی کامیابی نے لبرل طرزِ سیاست اور جمہوری نظامِ ریاست کا مستقبل غیر یقینی بنا دیا ہے۔ حقوق کے عنوان سے گروہی شناختوں پر اصراراور مخصوص شناختوں کی بنیاد پر شرف و توقیر کی خواہش پر مبنی رجحانات پوری دنیا پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ اس عالمی پسِ منظر کے ساتھ لکھی گئی فرانسس…
Author: محمد عامر رانا
رواں ہفتےکرغیزستان کے دارالخلافہ بشکیک میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس بھارت اور پاکستان کے لیے ایک اچھا موقع تھا کہ وہ اپنی اناؤں کے خول سے باہر نکل کر خوشگوار تعلقات کے آغاز کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتے لیکن ہر دو وزراے اعظم نے یہ موقع گنوا دیا۔ پاکستانی حکومت نے کئی مواقع پر بھارت کی جانب جذبہ خیر سگالی کے تحت امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے لیکن ہٹ دھرمی پر مبنی بھارتی رویے نے اس تاثر کو مضبوط کیا ہے کہ بھارت کی واحد موجودہ پالیسی پاکستان کو سفارتی تنہائی کی طرف دھکیلنا…
ایک بھرپور زندگی گزارنے کی خواہش، انسان کو ایک وقت میں کئی زندگیاں گزارنے پر مائل کر دیتی ہے اور زندگی کی ہر پرت اپنی جگہ مکمل ہوتی ہے۔ فرد کو اپنی پہلو در پہلو زندگی کا احساس کم ہی ہوتا ہے اور جب کبھی احساس ہو جائے تو ایک بالکل نیا تجربہ ہوتا ہے۔ جیسے وہ چھپانے کی کوشش کرتا ہے اور چھپاتے چھپاتے اس کی زندگی گزر جاتی ہے اور وہ خود ایک بھید بن جاتا ہے۔ پاکستان کا سماج اور سیاست بھی اسی طرح بھیدوں بھری، پرت در پرت پیچیدہ ہے۔ ہر پرت ایک قالین کی طرح…
رمضانِ مبارک کی آخری ساعتیں ہیں۔ اس بات کی چاہت دیوانے کا خواب ہے کہ ماہِ صیام کے دوران سماج میں قائم ہو نے والا صبر و برداشت کا ماحول آئندہ مہینوں میں بھی باقی رہے اورسماجی ذمہ داریوں اور اخلاقیات کے حوالے سے ہمارے اندر کوئی مثبت تبدیلی لائے۔ تاہم یقینی طور پر پاکستانی ماہِ رمضان میں زیادہ کشادہ دل اور فیاض نظر آتے ہیں اوراس طرح World Happiness Indexکے درجوں میں پاکستان کی ترقی کے لیےکردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کےادارے Sustainable Development’s Solutions Networkکے تیارہ کردہ World Happiness Index میں کشادہ دلی و فیاضی…
بلوچستان میں بلوچ قوم پرست باغیوں کی جانب سے کیے گئےحالیہ حملوں کی لہر ظاہر کرتی ہے کہ علیحدگی پسند گروہوں نے نہ صرف اپنی حکمتِ عملی بدل لی ہے بلکہ ان کی جنگی صلاحیتوں میں بھی اضافہ ہوچکا ہے۔ ظاہری طور پر وہ مکران اور گردو پیش کے علاقوں میں اپنے آپ کو مضبوط کررہے ہیں جہاں گوادر بندرگاہ واقع ہے جو پاک چین اقتصادی راہداری کا نقطہِ آغاز ہے۔ تشدد کی یہ نئی لہر عین اس وقت ابھری ہے جب خلیج فارس کی صورتِ حال ڈرامائی انداز سے بدل رہی ہے اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ اپنی…
ایسٹر کے روز سری لنکا میں ہونے والے اندوہناک حملے عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح دہشت گرد آسان اہداف تلاش کرتے اور انہیں نشانہ بناتے ہیں۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں کشت و خون بپا کرنے کے لیےمقامی تنازعات کو ہوا دینے کا گر سیکھ چکے ہیں، اس کے ذریعے انہیں اپنی شہرت اور ہم خیال نظریاتی گروہوں کے ساتھ مطابقت برقراررکھنے میں مدد ملتی ہے۔ یہ عالمی دہشت گرد گروہ مقامی بنیاد پرستوں میں غم و غصے کو بڑھاوا دینے کا کام کرتے ہیں جبکہ باقی ماندہ کام مقامی گروہ اپنے طریقے سے انجام دیتے ہیں۔…
بیشتر تجزیہ کاروں کی رائے میں وفاقی کابینہ میں بڑے پیمانے پر اتھل پتھل دراصل مایوس کن معاشی صورتِ حال کے سبب پیدا شدہ جھنجھلاہٹ سے چھٹکارا پانے کی ایک حکومتی کوشش ہے۔ وفاقی کابینہ میں تغیر وتبدل کا یہ عمل وزیرِاعظم عمران خان کے دورہِ ایران و چین سے چند روز پیشتر سامنے آیا ہے، جبکہ وزیرِ اعظم کے اس بیرونی دورے میں معاشی و سکیورٹی تعاون کا موضوع بطورِ خاص زیرِ غورلایا جانا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ پاکستان بیجنگ سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت اقتصادی مراکز کی جلد فعالیت و شروعات کے…
داخلی معاشی عدمِ استحکام سے دوچار پاکستان علاقائی سیاست اور معیشت کے بڑھتے ہوئے مواقع میں انتہائی سست روی اور حد درجے احتیاط کے ساتھ اپنا کردار ادا کرنے پر مجبور ہو چکا ہے۔ اگرچہ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے کی گئی مالی معاونت ادائیگیوں کے بحران پر جزوی طور پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوئی ہے، تاہم ہنوز عالمی مالیاتی ادارے سے بیل آوٹ پیکج کا حصول ناگیر نظر آتا ہے۔ اس صورت ِ حال کو پرانے مغربی شراکت داروں، بالخصوص امریکا کی جانب رجوع سے تعبیرکیا جا سکتا ہے۔ گذشتہ حکومت پاک…
گوادر نہ صرف پاکستان بلکہ بحر ہند کی معاشی اور جغرافیاتی حیثیت بدل سکتا ہے۔ تاہم چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کی تمام صلاحیتوں کو ابھی تک بروئے کار نہیں لایا گیا۔ گوادر سٹی کو 19 بلین بندرگاہ کے ترقیاتی منصوبوں کے تحت جبکہ سعودی عرب سے بھی 11 بلین آئل ریفائنری کے قیام کے لئے مل چکے ہیں مگر شہر کو صحت‘ صاف پانی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا اب بھی سامنا ہے
عسکریت پسندی کے خلاف پاکستان کی تازہ مہم بھارت کے ساتھ تناؤ کی اس صورتِ حال میں ملک کو اخلاقی و سفارتی میدانوں میں مضبوطی اور توانائی فراہم کرے گی۔ اس سے پاکستان کو نیشنل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں بھی مدد ملے گی اور اس مہم کا طویل دورانیہ یقیناً داخلی و سرحدی سلامتی اور ہمسایہ مملک کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں کارگر ثابت ہوگا۔ درحقیقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ ، ہر دو طبقات نے اب کی بار اس مہم کو غیرروایتی اور سنجیدہ بنانے کے لیے…
