محمد عامر رانا تجزیات کے مدیر اور اسلام آباد میں قائم معروف تحقیقی ادارے پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس سٹڈیزکے بانی ڈائریکٹر ہیں ۔علاقائی اور عالمی سطح پر شدت پسندی کی تحریکوں کی بدلتی حرکیات پر ان کی خاص نظر ہے اس حوالے سے نہ صرف عالمی سطح پر کئی کانفرنسوں میں نمائندگی کر چکے ہیں بلکہ ان کا شمار انسدادِ شدت پسندی کے چنیدہ ماہرین میں کیا جاتا ہے۔ کئی کتابیں اور تحقیقی مقالہ جات ،پاکستان اور پاکستان سے باہر ان کا ایک معتبر حوالہ ہیں ۔ان کی کتاب” ”The Militantپر انہیں 2016ء میں جرمن پیس پرائز سے نوازا…
Author: محمد عامر رانا
پاکستان کے لیے یہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے کہ وہ انسداد دہشت گردی کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کو ادھورا چھوڑ دے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر طرح کے عسکریت پسند گروہوں پر قابو پانے کے لیے جامع پالیسی لائحہِ عمل اختیار کرے۔اس تناظر میں اگرچہ پاکستان پہلے ہی ایسے اقدامات اٹھا چکا ہے جس سے عسکریت پسندوں اوران کے حمایتیوں پر دباؤ بڑھا ہے، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دباؤ برقرار رہنا چاہیے اور اس کا دائرہ ِ کار بڑھانا چاہیے۔ جس سے یہ بات واضح ہو کہ ریاست یہ…
پاکستان میں مذہب اور حقوق کا معاصر سلسلہ بالکل دو الگ اور مختلف تناظرات میں دیکھا جاتا ہے، بالخصوص اس لیے بھی کہ ہماری حکومت ان دونوں کے درمیان فرق روا رکھتی ہے۔ریاست حقوق کی تحریکوں اور مذہبی تحریکات کے ساتھ مختلف طرح سے معاملات طے کرتی ہے ، حقوق کی تحریکوں کو خطرے کے طور پر اور شک و شبہے کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جبکہ مذہبی تحریکات کو اکثر نظر انداز کیا جاتا ہے یا پھر ان کے بارے کافی برداشت روا رکھی جاتی ہے۔حالیہ چند اقدامات اور ریاست کے جوابی طرزِ عمل نے اس تصور کو…
افغان طالبان اور امریکا کے مابین قطر میں ہونے والی حالیہ بات چیت سے افغانستان میں قیامِ امن کی امید بندھ چلی ہے۔مذاکرات میں کامیابی پاکستانی عسکریت پسندوں کی قسمت کا فیصلہ بھی کرےگی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔اس کے ساتھ ہی پاک افغان دو طرفہ تجارت اور سرحدی سلامتی سے متعلق مسائل کو سفارتی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر زیرِ غور لایا جائے گا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کئی افراد کا ماننا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت کے باعث پاکستان کے خلاف دو ہری جنگ کا خطرہ…
حکومت نے سانحہ ساہیوال کو ہینڈل کرنے کےلیے جو حکمت عملی اپنائی وہ اس حکمت عملی سے قطعاً مختلف نہ تھی جو اس قسم کے واقعات پر ہماری ماضی کی حکومتیں اپناتی رہی ہیں۔ عوام کا غم و غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے وہی پولیس اصلاحات کے وعدے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا دعویٰ، یہاں تک کہ اسی طرح کا کوئی اور دل خراش واقعہ میڈیا کی توجہ کا مرکز بن جائے۔ بدقسمتی سے ہم پاکستانیوں کا اجتماعی ضمیر جھنجھلا کر صرف اس صورت بیدار ہوتا ہے جب کوئی انسانی المیہ سر اٹھاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ…
ترکی کے ایک ٹیلی ویژن چینل کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم نے چین کے مغربی صوبہ ژن جیانگ میں آباد اویغور مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کے بارے میں کیے گئے سوال کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ وہ اس معاملےکے بارے میں تھوڑا بہت جانتے ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے کے بجائے اپنے انٹرویو میں چین کی طرف سے ملنے والی مالی امداد اور پاکستان میں چین کی سرمایہ کاری پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ چین کو مذہبی و نسلی اقلیتوں،خصوصاً اویغور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے حوالے…
ملکی تاریخ کے ہر اہم موڑ پر قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کا سوال سر اٹھائے آن کھڑا ہوتا ہے ۔قوم کو ایک بار پھر سیاسی ارتقاکےسفر کا ایک اہم مرحلہ درپیش ہےجہاں اسٹیبلشمنٹ اقتدار پر اپنی گرفت مزیدپختہ کرنے کی تگ و دو کررہی ہے۔پیہم تغیر کے موجودہ مرحلے میں ریاست کے سیاسی خدو خال اور سماج سے اس کے تعلق کا سوال ایک بار پھر سامنے آنے لگا ہے۔گزشتہ ہفتے بانیِ پاکستان کے یومِ پیدائش پرکئی اہلِ علم نےقائدِ اعظم اور ہمارے تصورِ ریاست کے مابین بڑھتی خلیج کی نشاندہی کی ہے،جس سےتشکیلِ قوم کے حوالے سے دو…
عکس کے اندر جادوئی طاقت ہوتی ہے۔یہ طاقت کسی کو بھی احساس تفاخر میں مبتلا کرسکتی ہے یا ندامت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہے۔عکس ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیلتا ہے اس کی وضاحت شاید دو اقوال سے ہو سکے۔ جو تصویر کشی کی ایک ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔پہلا قول ہے’’میں آئینے میں تو اتنا خوبصورت دکھتا ہوں،یہ تصویر میں مجھے کیا ہو جاتا ہے؟‘‘ دوسرا قول یہ ہے کہ ’’کیا آئینے کی تصویر،آئینہ نہیں ہوسکتی؟‘‘۔ پہلے قول سے تو نرگسیت صاف جھلکتی ہے لیکن دوسرا قول قدرے ٹیڑھا ہے۔ہر فرد میں نرگسیت کی کم یا زیادہ،ایک مقدار…
آج آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے کے دل سوز واقعہ کی چوتھی برسی منائی جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس حملہ کے محرکات کا کھوج لگانے کے لیے حال ہی میں ایک جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا ہے جو غالباً اگلے ہفتے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرے گا۔ جس کے بعد ہی اس سانحہ کے متاثرین کے زخموں پر مرہم اور اس اذیت کا مداوا ممکن ہو سکے گا۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم یہ جائزہ لیں کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جاری اس جنگ میں بالخصوص گزشتہ دو دہائیوں…
پنجاب میں تحریکِ لبیک پاکستان کے خلاف حکومتی کارروائی اور کارکنا ن کی پکڑ دھکڑ کے بعد سماجی ذرائع ابلاغ پر بہت دلچسپ اعلانات و بیانات گردش کرتے رہے۔ یہ دراصل تحریکِ لبیک کے چند ممبران کی طرف سے اخبارات میں شائع شدہ اشتہارات کے تراشے تھے جن میں ان ممبران کی جانب سے جماعت سے لا تعلقی کا اعلان کیا گیا تھا اور حکومتی اداروں سےاستدعا بھی کہ انہیں اس ضمن میں’’مشکل‘‘ میں نہ ڈالا جائے۔ ایسے اعلانات اور جس طور تحریکِ لبیک منتشر ہورہی ہے،ا س سے بظاہر لگتا ہے کہ یہ تحریک محض مانندِ حباب تھی۔ تاہم…
