گزشتہ ہفتے دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے مابین امن معاہدے پر دستخط کے بعد افغانستان میں امن کا غیریقین اور اندوہناک عہد شروع ہوا ہے۔ اسی اثنا ء میں ماہرین کی توقعات کے عین مطابق افغان اسٹیک ہولڈر ز کے داخلی تنازعات اپنے عروج پر پہنچ گئے ہیں ۔ کوئی ایک گروپ بھی اپنی پوزیشن پہ سمجھوتہ کرنے کو آمادہ نظر نہیں آرہا تاکہ افغانستان میں داخلی مصالحت کا آغاز ہوسکے۔ یہ صورتحال امن دشمن قوتوں چاہے وہ کوئی ریاست ہویا غیر ریاستی عناصر ،ان سب کے لئے ایک شاندار موقع ہے کیونکہ اس طرح انہیں اپنے لئے جگہ…
Author: محمد عامر رانا
سال 2019 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے نتائج نے افغانستان میں داخلی طور پر سیاسی مصالحت کے امکانات کو مزید گہنا دیا ہے۔ ان نتائج کے سبب یہ امید بھی دھندلا گئی ہے کہ نئی قائم ہونےوالی حکومت ایک ایسی اجتماعی مذاکرات کار ٹیم تشکیل دے گی جو افغان طالبان سے بات چیت کرسکے گی۔ اب جبکہ انتخابی عمل کے بعد یہ اعلان کیا جاچکا ہے کہ موجودہ صدر اشرف غنی ہی نئی صدارتی مدت میں فاتح ہیں تو انتخابات میں دوسرے نمبر پر آنے والے ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے انتخابی نتائج کو ماننے سے نہ صرف انکار کردیا…
حالیہ دنوں میں ملائشیا کے دورے کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے اس امر کا اعتراف کیا کہ انہوں نے دسمبر میں کوالالمپور میں ہونے والی مسلم ممالک کی کانفرنس میں اس لئے شرکت نہیں کی تھی کہ پاکستان کے بعض دوست ممالک کو یہ خدشہ تھا کہ یہ کانفرنس مسلم دنیا کو تقسیم کرنے کے مقصد سے بلائی گئی ہے۔ وزیراعظم کا اشارہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب تھا کہ جنہوں نے انہیں مدعو کیا اور یہ باور کروایا کہ وہ اس کانفرنس سے دور رہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس کانفرنس کے رُوح رواں…
ایک مذہبی سیاسی جماعت کی جانب سے فلمساز سرمد کھوسٹ کی فلم زندگی تماشا پر بے جا اعتراض کے بعد حکومت کی جانب سے انہیں خوش کرنے کی ایک بھونڈی کوشش اس معاملے کی ایک مختصر جھلک پیش کرتا ہے کہ پاکستانی ریاست اور سماج کو مذہبی انتہاپسندی کا کس حد تک سامنا درپیش ہے۔ سنسر بورڈ اس فلم کو پہلے ہی پاس کرچکا تھا تاہم ایک مذہبی جماعت تحریک لبیک نے اسے راولپنڈی کی مقامی عدالت کی جانب سے اس کےخلاف سنائے گئے فیصلے کے بعد متنازعہ بنادیا، اس فیصلے میں اس جماعت کے سربراہ علامہ خادم رضوی کے…
مشرق وسطیٰ کے تنازع کی سب سے اہم تزویراتی جہت یہ ہے کہ اس کی جڑیں خطے کےفرقہ وارانہ تقسیم میں پیوست ہیں اور اس کی سیاسی تعبیرات بشمول متشدد واقعات کو عام طور پر اسی زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان اس کا براہ راست فریق نہیں ہے تاہم اس تنازعے کی تپش یہاں بھی پہنچتی ہے خاص طور پر مشکل یہ درپیش ہے کہ اس معاملے میں غیر جانبدار کیسے رہا جائے تاکہ اپنے ہاں فرقہ وارایت کا جن قابو میں رہے۔ مذہبی سطح کے سرگرم سیاسی ماحول اور متنوع پس منظر میں کسی ملک کے لئے…
بلوچستان وسائل ومحل وقوع کے اعتبار سے اہم، اورامن وسیاسی حرکیات کے لحاظ سے پیچیدہ صوبہ ہے۔ لیکن وہاں رفتہ رفتہ کیا تبدیلیاں رُونماہورہی ہیں، اس بارے ذرائع ابلاغ میں بہت کم بات کی جاتی ہے اور قومی سیاست کے ایوانوں میں بھی اس کا ذکر مفقود ہوتا ہے۔ مذہب و فرقے، سرداری نظام، ایرانی عنصر، ترقیاتی منصوبے اور شہرکاری کے متحرک مگرجداجداعوامل جو منظرنامہ تخلیق کررہے ہیں اس کی صورت کیا ہے اور مستقبل پر اس کے کیا ممکنہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، زیرنظر مضمون میں محمدعامر رانا نے اس پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ اس میں تبدیل…
سال 2019ء کے دوران پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں مزید کمی ہوئی اور اس وجہ سے جانی نقصان بھی کم ہوا۔ اگرچہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ دہشتگرد عناصر کی عملی صلاحتیں کمزور ہوگئی ہیں تاہم دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ دہشتگرد عناصر تتر بتر تو ہوگئے ہیں تاہم ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور سماج میں وقوع پذیرانتہاپسندانہ افکار تاحال ان کے لیے انسانی، مالی اور نظریاتی کمک کا باعث ہیں۔ اسلام آباد میں موجود تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے اکٹھے کئے…
امریکی ایوان نمائندگان میں ایغور حقوق انسانی پالیسی ایکٹ 2019 کی منظوری کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکہ اور چین کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عالمی میڈیا کے ان متواتر الزامات کے بعد سامنے آیا جن کے مطابق چینی حکومت ایغور مسلم برادری پر ظلم و ستم اور ان کے انسانی حقوق کی پامالی کررہی ہے۔ البتہ چین ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ چینی حکومت کے مطابق اس امریکی اقدام کی نوعیت سیاسی ہے جس کا مقصد عالمی دنیا میں چین…
ہمارے ہاں ”سیاست“ کا لفظ ایک گالی کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اس کوچہِ خراباں میں نوجوانوں کا قدم دھرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کچھ عرصہ سے پاکستان میں یہ تصور پنپ رہا ہے کہ مقتدر اشرافیہ ملک میں سیاسی سماج کی تشکیل پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ نوجوانوں کو متحرک کرنے اور ان میں بیداریِ شعورپیدا کرنے پر مائل نظر آتی ہے۔ دوسری طرف یہ رائے بھی سامنے آتی ہے کہ یہ سچ ادھورا ہے، مقتدر اشرافیہ سیاست پر یقین ضرور رکھتی ہے لیکن وہ اسے مخصوص طبقات تک محدود رکھنا چاہتی…
مولانا فضل الرحمن اپنا دھرنا سمیٹ چکے ہیں۔ اس وقت وہ اپنی تحریک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جسے انہوں نے ’پلان بی‘ کا نام دیا ہے۔ اس مرحلے میں ملک بھر کی بڑی شاہراہوں پر دھرنے دینے اور انہیں بند کرنے کاعمل شامل ہے۔ مولانا کے اس احتجاجی مرحلے سے زیادہ ترتجزیہ کاروں کو کچھ خاص اُمید نہیں ہے۔ مولانانے اپنے اس احتجاجی عمل سے اپنے انتخابی حلقے کے نوجوانوں کو متحرک کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو موجودہ سیاسی منظرنامے میں ایک اہم کردار کے طورپر بھی منوایا ہے، یہ ان کی بڑی کامیابی…
