Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»خوشی اور سچائی کے مابین ربط اور بیانیوں کی کشمکش
    کالم

    خوشی اور سچائی کے مابین ربط اور بیانیوں کی کشمکش

    محمد عامر راناBy محمد عامر راناجون 4, 2019کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read2 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    رمضانِ مبارک کی آخری ساعتیں ہیں۔ اس بات کی چاہت دیوانے کا خواب ہے کہ ماہِ صیام کے دوران سماج میں قائم ہو نے والا صبر و برداشت کا ماحول آئندہ مہینوں میں بھی باقی رہے اورسماجی ذمہ داریوں اور اخلاقیات کے حوالے سے ہمارے اندر کوئی مثبت تبدیلی لائے۔ تاہم یقینی طور پر پاکستانی ماہِ رمضان میں زیادہ کشادہ دل اور فیاض نظر آتے ہیں اوراس طرح World Happiness Indexکے درجوں میں پاکستان کی ترقی کے لیےکردار ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

    اقوامِ متحدہ کےادارے Sustainable Development’s Solutions Networkکے تیارہ کردہ World Happiness Index میں کشادہ دلی و فیاضی بنیادی قدر کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان درج بالا اشاریے کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اس ضمن میں بہتری کی طرف مائل پہلے 20 ممالک میں سے ایک ہے اور رواں سال گذشتہ برس کی نسبت 8 درجے ترقی پا کر 67 ویں درجے پر آچکا ہے جبکہ گذشتہ برس پاکستان اس فہرست میں 75 ویں درجے پرتھا۔ یہ بجائے خو د ایک طرح کی کامیابی ہے۔ تاہم یہ اشاریہ کسی بھی قوم کی معیشت، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یا سماجی و انسانی ترقی کے میدانوں کی نمو اور کارکردگی کو ماپنے کے لیے کارآمد نہیں ہے۔

    تاہم بیشتر ماہرین کا کہنا ہے کہ کشادہ دلی و فیاضی پاکستان کے تناظر میں خدا ترسی(Sympathy) کا مظہر تو ہو سکتی ہے لیکن احساس(empathy) کا اظہار نہیں۔ خدا ترسی اکثر اوقات اطمینانِ قلب کے حصول کی کوشش کے زمرے میں آتی ہے جبکہ احساس ایک سماجی قدر ہےجو قو م میں دردمندی کے فروغ اور دکھ سکھ میں سانجھے داری کا احساس پیدا کرنے معاون و مددگار ہوتی ہے۔ کسی بھی ملک میں احساس جیسی سماجی قدرکو ماپنے کے لیے وہاں موجود اقلیتوں کی حالت دیکھی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے چین اور بھارت کی نسبت اس حوالے سے پاکستان کی حالت اطمینان بخش نہیں ہے۔ خوشی کا اشاریہ سیاسی میلان سمیت مخصوص انفرادی رویوں کی جانچ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مذکورہ اشاریے کی ویب سائٹ پر موجود ایک جائزہ خوشی کی کیفیت اور رائے دہندگی کے مابین موجود ربط کی وضاحت کرتا ہے جس سے ماخوذ نتائج کے مطابق نسبتاً ناخوش افراد زیادہ تر پاپولسٹ اور استبدادی نظریات یا رویوں کی حامل جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں۔ کیا ہم اس بات سے 2018 کے عام انتخابات کے نتائج سے متعلق کوئی رائے قائم کرسکتے ہیں؟ کیا یہ پاکستان میں ناخوش افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی نشاندہی کرتے ہیں؟

    یہ بات اگرچہ حقیقت ہے کہ سچائی اور خوشی کے باہمی تعلق کی توضیح بذاتِ خود خوشی کی تعریف و تشریح سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گنجلک موضوع ہے

    خوشی ماپنے کا اشاریہ کئی طرح کے طریقیاتی مسائل کا حامل ہے اور یہ مسائل یقیناً وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوجائیں گے۔ اس میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ نفسیات کے دائرے سے باہر رہتے ہوئے انسانی رویوں کی وضاحت کرتا ہے اور سچائی اور بعض دیگر مخصوص بنیادی عوامل اور خوشی کے باہمی ربط کی تشریح سے عاری ہے۔ یہ بات اگرچہ حقیقت ہے کہ سچائی اور خوشی کے باہمی تعلق کی توضیح بذاتِ خود خوشی کی تعریف و تشریح سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور گنجلک موضوع ہے۔

    دروغ گوئی اور پاپولزم پر اگرچہ کافی مباحث ملتے ہیں تاہم جس طریقے سے سچ کی ملمع سازی ابہام، کذب بیانی اورناشادی کا باعث بنتی ہے وہ طرزِ عمل محققین کی توجہ کا زیادہ مرکز رہا ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ محققین دنیا میں ما بعد سچ اور پاپولزم کے بڑھتے ہوئے نظائر و وقائع کے بارے میں زیادہ حساس نظر آتے ہیں۔ تاریخ ِ فلسفہ کے ماہر جولیان باگینی فلسفیانہ منطقی مباحث کی بنا پر اپنی تصنیف ’سچ کی مختصر تاریخ‘ میں سچ کی دس قسمیں بیان کرتے ہیں؛ دائمی، مستبد، مخفی، منطقی، مثبوت، اختراعی، اضافی، طاقتور، اخلاقی اور کُلّی۔ پاپولسٹ حضرات سچ کی ان تمام اقسام کی مجرد صورتوں کی ملمع سازی سے اپنے سامعین کے ذاتی اعتقادات اور جذبات کو مشتعل کرنے کا کام کرتے ہیں۔

    جولیان باگینی وضاحت کرتے ہیں کہ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق کرنا ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس میں ہمارے جذبات کا کافی عمل دخل رہتا ہے۔ سچائیوں کو احاطہِ ادراک میں لانا، ان کی دریافت اور تشریح و توضیح اور ان کی توثیق و تصدیق کرنا نہایت کٹھن ہے۔ جذبات نہ صرف سچ کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ایک ایسی صورتِ حال پیدا کرتے ہیں جس میں ہر ایک سچائیوں کی تفہیم کے لیے خود ساختہ راہ استوار کر لیتا ہے۔ جولیان باگینی اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ طاقت یا اقتدار کبھی سچ نہیں بولتے تاہم وہ تجویز کرتے ہیں کہ سچ کو ہمیشہ طاقت کے سامنے بولنا چاہیے۔ تاہم اکثر لوگ اپنی ذہنی آسودگی کے دائرے میں رہنے کو ترجیح دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہیں اسی حالت میں خوشیاں میسر ہوں گی۔ غفلت اور خوشی کے مابین تعلق کی بابت ہمیں اپنے ہاں کے مخصوص صوفیانہ فکر کے نمائندہ کلاسیکی ادب میں پڑھنے کو ملتا ہے۔ اس روایت میں غیر فعال شہری ہونا مثالی اہمیت کا حامل ہے اور اس میں طاقت کو چیلنج کرنے کی طرف کوئی میلان نہیں پایا جاتا۔ نعمان شوق کی ایک غزل کا شعر اسی ضمن میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ
    فقیر لوگ رہے اپنے اپنے حال میں مست
    نہیں تو شہر کا نقشہ بدل چکا ہوتا

    تاہم سیاسیات کا جدید ادب تغیر و تبدل اور سماجی وسیاسی انجینئرنگ پر زیادہ توجہ مرکوز رکھتا ہے، سماج اور ریاست کی جانب سے آنے والے نت نئے بیانیوں کی نمو اس بات کی عکاس ہے۔ فرق بس اتنا ہے کہ ریاست نعروں کی بنیادوں پر اپنا بیانیہ قائم کرتی ہے جبکہ سماج یا مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے یہی کام اپنے غم و غصے، اپنی محرومیوں اور حتیٰ کہ اپنی ’خوشی‘ کی کیفیت کی بنیاد پر انجام پاتا ہے۔ مثال کے طور پر 2015-16 میں’ ’شکریہ راحیل شریف‘‘ کی مہم کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کی خدمات کا اعتراف تھا تاہم بعض تجزیہ کاروں نےان پر اس مہم کے پیشِ نظر پیشہ ورانہ خدمات کے صلے میں اپنی مدتِ ملازمت میں توسیع کے حصول کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ جبکہ یہ مہم بعد ازاں ’’جانے کی باتیں جانے دو‘‘ میں تبدیل ہو گئی تھی۔ آج کل اسلام آباد کی شاہراہِ دستور’’یہ جو سوہنی دھرتی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے‘‘ کے نعروں پر مبنی بینرز سے بھری ہوئی ہے۔ اس مہم کے محرکین وہی ہیں جنہوں نے تین چار سال قبل راحیل شریف کے حوالے سے مہم کی شروعات کی تھیں۔ کوئی بھی اس تازہ مہم کا پسِ منظر جان سکتا ہے تاہم اہم بات یہ ہے کہ یہ مہم ایک مخصوص سطح پر موجود بیانیوں کی کشمکش کا پتہ دیتی ہے۔

    جولیان باگینی کہتے ہیں کہ سچ کا مطلب حقیقتوں تک بلا دشوار رسائی نہیں ہے، تاریخ حقیقی صحت کاتقاضہ کرتی ہے تاہم یہ کافی نہیں ہے۔ مقتدر اشرافیہ کا یقین ہے کہ انہیں نظم وضبط قائم کرنے کا ڈھنگ آتا ہے اور اس عمل میں سچ کی کچھ خاص اہمیت نہیں ہے۔ مقبولِ عام اور مثبت نعرے ان کے اعتماد میں اضافہ کرتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح کیا منظرنامہ یا حالات بدل جاتے ہیں؟ سچ اور خوشی کے درمیان کوئی بلاواسطہ ربط تلاش کرنا ایک مشکل امر ہے تاہم لوگ جب تبدیلی کے کسی بھی عمل میں اپنی اثر انگیزی دیکھتے ہیں تو انہیں خوشی محسوس ہوتی ہے۔

    مترجم: حذیفہ مسعود، بشکریہ: ڈان

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان میں مذہبی سیاحت کا فروغ، مگر کیسے؟
    Next Article پیمانِ فطرت اور عیدالفطر
    محمد عامر رانا

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by