مولانا فضل الرحمن کا ’آزادی‘ مارچ بالا ٓخر اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ آزادی مارچ کے باعث ملکی سیاسی منظر نامےمیں کافی ہلچل پیدا ہو ئی ہے۔ پاکستان تحریکِ انصاف اور تحریکِ لبیک کے دھرنوں کے بعد اسلام آباد میں یہ تیسرا بڑا عوامی پڑاؤ ہے۔ گذشتہ دونوں تحریکیں اپنےاہداف کے حصول میں اگرچہ انتہائی محدود حد تک کامیاب رہیں لیکن ان کی وجہ سے ملک میں جو سیاسی عدمِ استحکام پیدا ہوا، وہ ہنوز برقرار ہے۔ گذشتہ دونوں دھرنوں کے پشت بان درِ پردہ عناصر وعوامل ہماری سیاسی بحث سے محو ہوئے ہی تھے کہ ایک نئی تحریک کا…
Author: محمد عامر رانا
ایسے لگتا ہے کہ موجودہ حکومت فلاحی ریاست بارے بہت ہی سادہ تصور رکھتی ہے۔ تبدیلی کا نعرہ جسے بارہا دہرایا جاتا ہے اور جو مذہبی بیانیوں اور غیرواقعاتی خیالات کا کوئی مرکب بن گیا ہے، بظاہرعوام کے سامنے زبانی جمع خرچ کے سوا اس کی کوئی بامعنی حیثیت نہیں۔ احساس سیلانی لنگر کا افتتاح ’تبدیلی‘ کا مظاہرہ دکھانے کی غرض سے منفرد نظر آنے والے ان اقدامات کا تسلسل ہے جو حکومت وقتاََ فوقتاََ اٹھاتی رہتی ہے۔ لنگر خانے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے لوگوں کی طرف سے ریاستِ مدینہ کے دعوے کی…
افغان طالبان ایک بار پھر دوراہے پر کھڑے ہیں۔ انہیں افغانستان میں اپنی عسکری قوت کھوئے بغیر مستقبل کی سیاسی حکمت عملی تشکیل دینی ہے۔ ابھی تک تو طالبان کی قیادت کو یہ یقین تھا کہ امن مذاکرات ان کی فتح پر منتج ہوں گے۔ درحقیقت طالبان نے امریکہ سے مذاکرات کا آغاز ہی فتح کے احساس کے ساتھ کیا تھا اور انہوں نے امن عمل کے دوران خود کو سخت مذاکرات کار ثابت بھی کیا۔ طالبان کابل کی گلی بازاروں میں ایک فاتح فوج کی حیثیت سے داخل ہونے کے لئے مکمل طور پر تیار بیٹھے تھے مگر صدر…
گزشتہ ہفتے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں جس طریقے سے ہندوؤں کے مندروں کو مسمار کیا گیا اور نجی املاک تباہ ہوئیں یہ ایک وارننگ ہے کہ ہم مذہبی شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خطرے کے حوالے سے جو اندازہ رکھتے ہیں معاملہ حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے۔ حکومت کو ان واقعات کی لفظی مذمت کرنے کے بجائے زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کی تمام اقلیتوں کو تشدد کے عفریت سے محفوظ رکھنے کے لیے دیگر تمام ضروری اقدامات کے ساتھ ساتھ حکومت کو فوری طور پر دو…
یہ بات باعث تعجب ہے کہ اس بار انتہائی دائیں بازو کی مذہبی سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں کشمیر کے بارے میں عوام میں جوش و خروش پیدا کرنے کے بجائے محض رسمی سوانگ رچانے تک ہی محدود ہیں۔ جبکہ ماضی میں اس سے کہیں کم اہمیت کے واقعات پر بھی یہ جماعتیں سڑکوں پر نکل آتی تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سارے حلقے اس تبدیلی کوقومی اور سٹریٹجک معاملات پر مذہبی جماعتوں کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کی تبدیل ہوتی سوچ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کے بارے میں عام تأثر یہی…
وقار وشرف، عزت نفس اور پذیرائی کے حصول کی تمنا رویوں پر اثرانداز ہونے کے ساتھ افراد اور قوموں کے اندر یکساں طور پہ تحریک پیدا کرتی اور انہیں پرعزم رکھتی ہے۔ یہ خواہش، تحقیر اور مسترد کیے جانے کے خوف سے جنم لیتی ہے۔ وقار و شرف ایسا سرمایہ ہے جسے ایک قوم شائستہ سیاسی بندوبست، طاقتور معیشت اور اپنی جغرافیائی وتزویراتی مضبوطی کے ساتھ حاصل کرسکتی ہے۔ اور نتیجتاََ اسی سے ہی کسی قوم کے دوستوں اور مخالفین کا تعین ہوتا ہے۔ کشمیر میں بھارتی جارحیت پر مسلم اُمہ کی سردمہری کے حوالے سے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی…
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک نئے انتفاضہ نے سر اٹھایا ہے۔ اکثر ماہرین کا خیال ہے کہ اس نئی پیدا شدہ صورتحال اور تنازع کے خطے کے سیاسی اور جغرافیائی منظر نامے پر گہرے و دُور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ بین الاقوامی برادری ابھی تک بھارت و پاکستان کے ممکنہ ردعمل و پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے، اس دوران غیر ریاستی عناصر بھی باریک بینی سے معاملات کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور کسی ایسے موقع کی تلاش میں ہیں جس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے دخل اندازی کرسکیں۔ بھارت کی جانب سے کشمیر کی خاص…
افغان امن عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور پاکستان کے لیے بھی یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ توقعات کے عین مطابق واشنگٹن میں پاکستان اور امریکا کی قیادت کے درمیان ہونے والی بات چیت میں یہی موضوع توجہ کا مرکز رہا۔ وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کی قیادت کوافغان حکومت سے امن مذاکرات کا آغاز کرنے پر آمادہ کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کےدورہ امریکا کے دوران امریکی قیادت اور عہدیداران نے افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششوں کو تسلیم کیا…
پاکستان بظاہر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ کیے جانے سے بچنے کے لیے عسکریت مخالف مہم میں کافی کچھ کرچکا ہے۔ اورلانڈو فلوریڈا میں ہونے والے گذشتہ ایف اے ٹی ایف جائزہ اجلاس میں ملائیشیا، ترکی اور چین کی حمایت کے باوصف پاکستان کوپہلے ہی اس خطرے سے ایک حد تک باہر آنے میں کامیابی مل چکی ہے۔ تاہم پاکستان پر ابھی بھی ان تمام عسکریت پسند گروہوں کے خلاف بلا تفریق کارروائی کرنے کے لیے دباؤ برقرار ہے جنہیں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان کو…
پاکستان میں عدمِ استحکام کے اثرات سیاسی ومعاشی میدان میں تو واضح طور پر دکھائی دیتے ہی ہیں لیکن اس کے باعث سماج میں کنفیوژن اور عدمِ تحفظ کے احساسات بھی نمو پاتے ہیں۔ عدمِ استحکام انفرادی سطح پر رویہ جاتی تبدیلی کی وجہ بنتا ہے۔ اس سے شخصی و سماجی شناخت کے بحران کو بھی مہمیزمل سکتی ہے۔ تاہم مقتدر اشرافیہ اس بحران کواکثرقومی سلامتی کو لاحق بیرونی خطرات کے ساتھ گڈ مڈ کردیتی ہے۔ سماجی و معاشی افراتفری کی یہ فضا نئی نہیں ہے لیکن حالیہ صورتِ حال نے پاکستان کے لیے اس دائمی انتشارسے جان چھڑانا مزید…
