Close Menu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    تجزیات آن لائنتجزیات آن لائن
    Home»کالم»مہاتما بدھ اور فلسفہ خوشی و غم
    کالم

    مہاتما بدھ اور فلسفہ خوشی و غم

    صاحبزادہ محمد امانت رسولBy صاحبزادہ محمد امانت رسولجنوری 22, 2021کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read3 Views
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest WhatsApp Email

    مہاتما بدھ نے دو باتیں کہی ہیں۔ ایک بات یہ کہ انسان کی خواہش اس کے دکھ کا سبب ہے۔ دوسری بات یہ کہ دنیا میں ہر شئی ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے۔

    دوسری بات سے مراد یہ ہے کہ دنیا میں کوئی پیدا ہو رہا ہے، کوئی فوت ہو رہا ہے۔ کسی کے رزق میں کمی اور کسی کے رزق میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کوئی تخت سے اتارا جا رہا ہے۔ کسی کو تخت پر بٹھایا جا رہا ہے۔ کوئی نئی زندگی کا آغاز کر رہا ہے، اور کوئی اپنی زندگی بِتا چکا ہے۔

    جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے اس میں متوازن راستہ یہ ہے کہ خواہش بذات خود پریشانی کا پیش خیمہ نہیں ہوتی۔ اگر خواہش بے لگام ہو تو پریشانی کو جنم دیتی ہے۔ مہاتما کے فلسفے پر عمل کرنا نا ممکن ہی نہیں محال بھی ہے۔ کوئی انسان خواہش میں کیسے آزاد ہو سکتا ہے۔ خواہش و آرزو اس کی جبلّت و فطرت میں ہے وہ بھی اس سے آزاد نہیں ہو سکتا وہ جب تک زندہ ہے اس کا اسیر رہے گا۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ انسان پریشان اس لیے ہے کہ اس میں خواہش ہے یا جب بھی خواہش کرتا ہے تو پریشانیوں میں گِھر جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ انسان دو باتوں سے پریشانی میں گِھرتا ہے۔

    ایک بات: جب یہ ناجائز اور حرام کی خواہش کرتا ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے بھاگتا ہے۔ دوسری بات: جب یہ اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلا تا ہے۔ اگر اس میں ان دو خرابیوں سے آزاد و پاک خواہش جنم لے تو وہ کبھی آزار و تکلیف کا باعث نہیں بنتی۔ جب انسان ظلم و عدوان کے راستے پر چل کر اپنی خواہشات کی تکمیل و حصول چاہتا ہے پریشانیوں میں ہی نہیں گِھرتا بلکہ وہ اس تاریک سُرنگ میں داخل ہو جاتا ہے جس کا دوسرا راستہ بھاگنے دوڑنے کے باوجود دکھائی نہیں دیتا۔ وہ تمام زندگی تاریک راہوں کا مسافر بن کر خواہشات کے صحرا میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اُسے دور سے چمکنے والی ہر شے اپنی خواہش کی تکمیل دکھائی دیتی ہے۔ لیکن وہ تکمیل ہوتی نہیں ہے۔ وہ پیاسے کی طرح دربدر ٹھوکریں کھاتا اور اس کی زٙد میں رہتا ہے۔

    اگر انسان اپنی چادر سے باہر پاؤں پھیلانا چھوڑ دے یعنی قناعت کا راستہ اختیار کرے تو یہ بھی اسے پریشانی سے بچاتی ہے۔ یہ ایک سادہ اور آسان اصولِ زندگی ہے۔ اس کے سمجھنے اور اختیار کرنے میں کسی فلسفے کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہم میں سے ہر ایک کا تجربہ ہے۔ جب بھی ہم اپنی آمدن اور وسائل سے باہر نکلتے ہیں۔ ہم پریشان ہو جاتے ہیں۔ خدائے لم یزل کا عرفان، قُرب اور محبت میں سکون ہے۔ یہ سکون آپ کی مادی ضرورتوں کے خلاف نہیں ہے۔ یہ سکون اپنی مادی ضرورتوں کو اُس کے حکم کے تابع رکھنے سے نصیب ہوتا ہے۔ مادی ضرورتوں سے ماوراء مقامِ بشر نہیں اور نہ ہی یہ بشر کی علامت ہے۔ بشر کا مقامِ بلند یہی ہے کہ وہ ان لوازمات کے باوجود سکون و آشتی کو پا سکتا ہے۔ رب تعالی نے اسے زمین پر بھیجا تو اپنی ہدایت دے کر بھیجا۔ وہی ہدایت ہی اسے پریشانیوں سے بچاتی ہے۔ دنیا کو تیاگ دینا باعث راحت و مسرت نہیں ہے۔ دنیا میں رہ کر اُس رب کی چاہت کے مطابق زندگی گزارنا راحت و مسرت کی اصل بنیاد ہے۔

    فلسفہ حیات مہاتما بدھ
    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleچی گویرا کا دورہ پاکستان اور حقائق کی درست نشاندہی
    Next Article نریندرا مودی کا رویہ بھارتی مسلمانوں کے ساتھ نرم کیوں ہونے لگا ہے؟
    صاحبزادہ محمد امانت رسول

    Related Posts

    جنگ مذاق نہیں

    اپریل 25, 2025

    امید کا ایک اور قطرہ

    اکتوبر 7, 2024

    پشتو اکیڈمی کوئٹہ ارتقا اور تنزل کے دو راہے پر

    ستمبر 17, 2024

    Comments are closed.

    تجزیات آن لائن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    © 2026 تجزیات آن لائن، جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.

    Powered by
    ►
    Necessary cookies enable essential site features like secure log-ins and consent preference adjustments. They do not store personal data.
    None
    ►
    Functional cookies support features like content sharing on social media, collecting feedback, and enabling third-party tools.
    None
    ►
    Analytical cookies track visitor interactions, providing insights on metrics like visitor count, bounce rate, and traffic sources.
    None
    ►
    Advertisement cookies deliver personalized ads based on your previous visits and analyze the effectiveness of ad campaigns.
    None
    ►
    Unclassified cookies are cookies that we are in the process of classifying, together with the providers of individual cookies.
    None
    Powered by